مقبول خبریں
اکیڈمی آف سائنس،ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ اولڈہم کی سالانہ تقسیم اسناد تقریب کا انعقاد
کشمیر یوم سیاہ کے حوالے سے پاکستان ہائی کمیشن لندن میں سیمینار، بھارتی مظالم کی پرزور مذمت
دعوت اسلامی برمنگھم کے زیر اہتمام خراب موسم کے باوجودجشن عید میلاد النبیؐ کا جلوس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میلاد النبی کی تقریبات منعقد کر کے اللہ کریم کے شکر گزار ہیں کہ اس نے مومنوں پر احسان فرمایا
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
یاسمین ڈار کا لیبر پارٹی لیڈر جیریمی کوربن کے ساتھ مل کر انتخابی مہم کا آغاز
یہ رنگ جو مہکے تو ہوا پھول بنے گی!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیر یوم سیاہ کے حوالے سے پاکستان ہائی کمیشن لندن میں سیمینار، بھارتی مظالم کی پرزور مذمت
لندن (خصوصی رپورٹ: عدیل خان) مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بارے پاکستان ہائی کمیشن لندن میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ 27اکتوبر جسے دنیا بھر کے کشمیری یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اس روز منعقدہ سیمینار میں مقررین نے 5 اگست سے اسی لاکھ کشمیریوں کے مسلسل محاصرے اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور عالمی برادری کو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جلتی ہوئی آگ اور مستقل نسل کشی کے بارے میں متنبہ کیا۔ سیمینار کا اہتمام ہائی کمیشنر نفیس زکریا کی کشمیر بارے خصوصی دلچسپی کا مظہر تھا اور یہ کشمیر یوم سیاہ کے سلسلے میں کیا گیا جو ہر سال 27 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب 1947 میں بھارتی افواج غیرقانونی طور پر ریاست جموں وکشمیر میں داخل ہوئیں اور کشمیر میں پہلے سے غیرقانونی طور پر موجود پٹیالہ فوجیوں، ڈوگرہ کے فوجیوں اور آر ایس ایس کے دہشت گردوں کے ساتھ مل کر تین لاکھ سے زائد کشمیریوں کی نسل کشی کی اور دس لاکھ سے زائد کشمیری مسلمانوں کو بے گھر کر دیا۔ ہائی کمیشن میں 14 نومبر کو منعقد کئے گئے اس سیمینار میں کشمیری کمیونٹی، ارکان پارلیمنٹ، تدریسی حلقوں، وکلاء برادری، سول سوسائٹی کے مختلف حلقوں، انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں اور صحافیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ہائی کمشنر نے کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس انسانی بحران کے اصل اسباب کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت کے 5 اگست کے غیرقانونی اقدامات کے باعث مسئلہ کشمیر ایک بار پھر بین الاقوامی راڈار پر نمایاں ہو گیا ہے۔ بھارت کے اس اقدام سے کشمیر کے دیرینہ بین الاقوامی تنازعہ کی حیثیت تبدیل ہو گئی جو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے عین خلاف ہے جن میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا۔ نفیس زکریا نے کہا کہ محاصرے اور اس کے باعث پیدا ہونے والے انسانی بحران کے پیش نظر عالمی برادری کی جانب سے فوری اقدام ضروری ہو گیا ہے۔ ہائی کمشنر نے کہا کہ انسانیت کے خلاف جرائم اور مظالم کے بھارتی فورسز کے ریکارڈ کی روشنی میں اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ انفرادی خاندانوں کے ساتھ پیش آنے والے سوانح کی کہانیاں جلد سامنے آنے لگیں گی چونکہ فی الوقت میڈیا، انسانی حقوق کے کارکنوں یا عزیز رشتہ داروں کو بھی محاصرے کا شکار کشمیریوں تک کوئی رسائی حاصل نہیں۔ ہیومن رائٹس جے کے سی ایچ آر کے صدر ڈاکٹر نذیر گیلانی نے تقسیم کے بعد کے حالات اور مسئلہ کشمیر کے اصل اسباب کی وضاحت کی۔ انہوں نے اس قانونی فریم ورک کی بات کی جس کے تحت تنازعہ کشمیر کو اب تک اقوام متحدہ کے علاوہ برطانیہ، امریکہ اور دیگر سمیت مختلف ممالک میں زیربحث لایا جاتا رہا ہے۔ ڈاکٹر نذیر گیلانی نے کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی اور تنازعہ پر ہونے والی قانونی بحثوں کی تاریخ کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کشمیر کے بارے میں لوگوں کی معلومات بہتر بنانے پر زور دیا تاکہ وہ اس تنازعہ کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ ڈاکٹر گیلانی نے خبردار کیا کہ کشمیر کا مسلسل محاصرہ برطانیہ میں لوگوں کے سماجی تعلقات پر اپنے اثرات دکھا سکتا ہے اور عالمی برادری کو اس انسانی بحران پر توجہ دینی چاہئے۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ برطانوی بیرسٹر اور انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے سابق ریپورٹیئر بین ایمرسن کیو سی نے متعدد دستاویزات کی روشنی میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں اظہار خیال کیا اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جرائم کے قانونی احتساب پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کو اس وقت اپنے وجود سے متعلق خطرہ درپیش ہے اور کیسی مضحکہ خیز بات ہے کہ دنیا اس وقت توجہ دیتی ہے جب انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی بگڑ جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دستاویزی شواہد کے باوجود دنیا نے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ انہوں نے بھارت کے اس بیانیہ کو مسترد کر دیا کہ کشمیر اس کا داخلی معاملہ ہے اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نازی دفاع قرار دیا۔ بین ایمرسن کا کہنا تھا کہ کشمیر واضح طور پر ایک بین الاقوامی بحران ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام کی نسل کشی کو ”آہستہ آہستہ جلتی نسل کشی“ کے مترادف قرار دیا اور بھارت کے ان دعووں کو مسترد کر دیا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جاں بحق ہونے والے افراد دہشت گرد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی قبروں پر انٹرنیشنل پیپلز ٹریبونل کی رپورٹ ڈی این اے کے ذریعے ثابت کرتی ہے کہ یہ مقامی کشمیری تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سنگین نتائج کے باعث فوجی حل کوئی نہیں چاہتا جس کی نشاندہی بجا طور پر وزیراعظم عمران خان نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں فوج کی غیرمتناسب موجودگی کے پیش نظر مقامی لوگ لڑائی کے ذریعے حق خودارادیت حاصل نہیں کر سکتے لہٰذا موجودہ حالات میں عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ مداخلت کرے اور اس تنازعہ کو حل کرائے۔ بین ایمرسن نے کشمیریوں کو یقین دلایا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایم ای پی انتھیا مک انٹائر نے بھارتی افواج کو حاصل جرائم پر قانونی کارروائی سے استثناء ختم کرنے پر زور دیا اور یورپی یونین کے تمام ممالک سے اپیل کی کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کی مذمت کریں۔ انہوں نے بھارت سے سوال کیا کہ انسانی حقوق کے اس قدر ہولناک ریکارڈ کے ساتھ بھارت کس طرح سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کی توقع رکھ سکتا ہے۔ انتھیا مک انٹائر نے کہا کہ برطانیہ بھارت کے ساتھ تجارت چاہتا ہے لیکن انسانی حقوق کی قیمت پر نہیں جو بہت بھاری ہے۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان و آزاد جموں وکشمیر کا بھی ذکر کیا جس کے دوران انہوں نے کنٹرل لائن پر بھارتی فائرنگ سے متاثرہ افراد کی دل ہلا دینے والی کہانیاں سنیں۔ معروف کشمیری کارکن پروفیسر نذیر شال نے علاقائی خوشحالی اور ترقی پر مسئلہ کشمیر کے اثرات کا جائزہ پیش کیا اور کہا کہ ترقی اور خوشحالی کے لئے امن بنیادی شرط ہے۔ ایسے حالات میں جبکہ کشمیریوں سے زندگی کا حق چھین لیا گیا ہے ہم خوشحالی کی امید کس طرح رکھ سکتے ہیں؟ پروفیسر شال کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اور آسیان جیسے علاقائی تجارتی بلاک ترقی و خوشحالی کی بنیادی شرط ہیں لیکن بھارت سارک سے دور بھاگ کر علاقائی ترقی میں مسلسل رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ پروفیسر شال نے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے محاصرے کو سربرینیکا کے محاصرے کے مشابہ قرار دیا اور کہا کہ بھارت کشمیریوں کو موت کی نیند سلا کر سبق سکھا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو کشمیریوں کی ممکنہ نسل کشی کے بارے میں خبردار کیا اور کہا کہ کشمیری اقوام متحدہ کی جانب سے روک تھام پر مبنی سفارت کاری کے منتظر ہیں۔ انہوں نے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے انسانی بحران کو اجاگر کرنے پر عالمی میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔ کشمیری نژاد نوجوان خاتون عظمیٰ رسول نے کشمیری خواتین کی حالت زار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے 1991 میں بھارتی افواج کی جانب سے کنان پشپورہ میں کشمیری خواتین کے اجتماعی ریپ کے واقعہ اور متاثرین کی زندگیوں پر اس کے تباہ کن سماجی و نفسیاتی اثرات کا احوال بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی خواتین اس قدر شدید صدمے سے دوچار ہیں کہ وہ اپنے تحفظ اور سلامتی کے لئے راتوں کو گروپوں کی شکل میں سوتی ہیں۔ عظمیٰ رسول نے بھارتی سیاست دانوں کی بھی مذمت کی جنہوں نے بھارتی حکومت کے 5 اگست کے اقدام پر یہ بیانات دئیے کہ اب وہ ”چٹی گوری کشمیری خواتین“ سے شادیاں کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ریاست کی منظوری سے جنسی تشدد ہو رہا ہے اور عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کی نمائندہ شمیم شوال نے کشمیر کے موجودہ حالات کا احوال بیان کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت کشمیری عوام کے عزم کو توڑنے کے لئے خوف، ذلت اور تشدد کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کشمیریوں کے روزگار اور معیشت کو تباہ کرنے کے لئے بھارتی حکومت نے عین اس وقت علاقے کا محاصرہ کیا جب سیب کی فصل بالکل تیار تھی۔ آخر میں ہائی کمشنر نے تمام مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ سیمینار کی بدولت کشمیر کے بارے میں آگاہی میں اضافہ ہو گا۔ نفیس زکریا نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ بے بس کشمیریوں کی آواز بنیں اور انہیں اخلاقی حمایت فراہم کریں۔ مقررین اور شرکاء نے سیمینار کے انعقاد پر ہائی کمشنر کا شکریہ ادا کیا۔ سیمینار کا اختتام ’کشمیر یوم سیاہ 2019 سیمینار کی دستاویز‘ کی متفقہ منظوری کے ساتھ ہوا۔ سیمینار کی میزبانی کے فرائض فرسٹ سیکرٹری انیل ظفر نے انجام دئیے۔