مقبول خبریں
اکیڈمی آف سائنس،ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ اولڈہم کی سالانہ تقسیم اسناد تقریب کا انعقاد
کشمیر یوم سیاہ کے حوالے سے پاکستان ہائی کمیشن لندن میں سیمینار، بھارتی مظالم کی پرزور مذمت
دعوت اسلامی برمنگھم کے زیر اہتمام خراب موسم کے باوجودجشن عید میلاد النبیؐ کا جلوس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میلاد النبی کی تقریبات منعقد کر کے اللہ کریم کے شکر گزار ہیں کہ اس نے مومنوں پر احسان فرمایا
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
یاسمین ڈار کا لیبر پارٹی لیڈر جیریمی کوربن کے ساتھ مل کر انتخابی مہم کا آغاز
یہ رنگ جو مہکے تو ہوا پھول بنے گی!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پی پی سی کی محفوظ چیریٹی مہم سے معاشرے سے انتہاپسندی کے خاتمے کو تقویت ملی: شبیر انور
لندن (خصوصی رپورٹ: اکرم عابد) پاکستان پیس انیشی ایٹو (پی پی سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شبیر انور نے کہا ہے کہ محفوظ چیریٹی مہم اور سروے کے سلسلے میں ان کی تنظیم کی موثر سرگرمیوں کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آ رہے ہیں اور ملک کے اندر اور بیرون ملک انتہاپسندی اور عدم برداشت کے لئے نہ صرف عوام میں آگاہی پیدا ہوئی ہے بلکہ حکومت کو پالیسی رہنما اصول فراہم کئے گئے ہیں اور معاشرے سے انتہاپسندی اور دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کی قوت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر فلاح عامہ کے پیغامات اور ”حق حقدار تک“، ”پرعزم پاکستان“، ”ہماری پہچان پرامن پاکستان“ کے عنوان سے انتہاپسندی کے خاتمہ میں اہل خانہ کے کردار اورنفرت انگیز تقاریر کے خلاف چلائی گئی مہمات کی شکل میں جوابی بیانیہ کی تشکیل اور سروے سرگرمیوں سے ملک کے اندر اور بیرون ملک عوام میں آگاہی پیدا ہوئی۔ شبیر انور ان دنوں اپنے پرعزم نوجوانوں کی ٹیم کے ہمراہ برطانیہ کے دورے پر آئے ہوئے ہیں اور گزشتہ شام انہوں نے پاکستان ہائی کمیشن لندن میں منعقد کی گئی ایک تقریب کے دوران حاضرین کو پی پی سی کی مختلف سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان پیس انیشئیٹو، وزارت اطلاعات و نشریات کا تحقیقی و ابلاغی پراجیکٹ ہے جو ملک میں تحقیقی، ایڈووکیسی اور شواہد پر مبنی سٹریٹجک نوعیت کی ابلاغی سرگرمیوں کے ذریعے انتہاپسندی اور عدم برداشت کے خاتمہ میں حکومت کو پالیسی رہنما اصولوں کی شکل میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ شبیر انور نے بتایا کہ ان سرگرمیوں کا بنیادی مقصد انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف عوامی آگاہی میں اضافہ کرنا ہے۔ اس سلسلے میں پی پی سی وزارت اطلاعات ونشریات، متعلقہ حکومتی اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر میڈیا کے لئے مواد تیار کر رہا ہے اور معاشرے سے تشدد اور انتہاپسندی کے خاتمہ اور امن وہم آہنگی کے فروغ کے لئے تربیت فراہم کر رہا ہے۔ شبیر انور نے کہا کہ پی پی سی نے عام شہریوں کی زندگیوں پر دہشت گردی کے اثرات کے بارے میں دستاویزات بھی تیار کی ہیں جن میں تشدد کی بلاامتیاز نوعیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت اطلاعات ونشریات کی جانب سے ”حق، حقدار تک“ اور ”پرعزم پاکستان“ کے عنوان سے قومی سطح پر میڈیا کے ذریعے کامیاب مہمات چلائی گئیں جنہیں عالمی برادری کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے۔ محفوظ چیریٹی کے سلسلے میں چلائی گئی مہم ”حق، حقدار تک“ پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس مہم کا مقصد لوگوں میں محفوظ چیریٹی کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور نادانستہ طور پر ایسی تنظیموں کو عطیات کی فراہمی کے خطرات کو اجاگر کرنا تھا جو ملک کے اندر دہشت گردی اور انتہاپسندی کی سرپرستی کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی عوام سالانہ تقریباً 562 ارب روپے کی رقوم عطیات کی شکل میں دیتے ہیں اس لئے عوام میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ضروری تھا کہ یہ عطیات ملک میں اچھی شہرت رکھنے والی معتبر تنظیموں کو ہی دئیے جائیں اور ایسی تنظیموں کو ہرگز نہ دئیے جائیں جو ملک میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کو فروغ دینے والے عسکریت پسند گروہوں کو فنڈز فراہم کرتی ہیں۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان سرگرمیوں کی بدولت لوگوں میں پیدا ہونے والی آگاہی نے انتہاپسند عناصر کی حوصلہ شکنی اور ان کے لئے عطیات روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر پی پی او نے پاکستانی تارکین وطن پر زوردیا کہ وہ پاکستان میں اپنے عطیات معتبر تنظیموں کو بھیجیں جن کے عسکریت پسند اور انتہاپسند گروہوں کے ساتھ کوئی رابطے نہیں ہیں۔ برطانیہ میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد ایوب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں محفوظ چیریٹی سرگرمیوں کے فروغ اور عوامی آگاہی کی مہمات کے سلسلے میں شبیر انور کی زیرقیادت پی پی سی کے کردار کو سراہا۔ شبیر انور نے بتایا کہ پی پی سی نے محفوظ چیریٹی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے پاکستان میں دس ہزار لوگوں کا ملک گیر سروے کیا۔ اس تنظیم کی بدولت ان لوگوں کی آواز اٹھائی گئی جن کی آواز کوئی نہیں سنتا جس کے نتیجے میں ملک میں انتہاپسندوں، دہشت گردوں اور نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کے ایک نئی بحث شروع ہوئی۔ برداشت کو اپنے بچوں کی تربیت اور انتہاپسندانہ رجحانات کو ختم کرنے کے لئے نگرانی کے فروغ میں اہل خانہ بالخصوص والدین کے کردار پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابلاغی مہم کا مرکزی مقصد عوام میں اس بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں اور ان کے دوستوں کے بارے میں آگاہ رہیں اور ان پر نظر رکھیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ خطرات اور دھمکیوں کے باوجود وہ اور ان کی ٹیم ملکی خوشحالی کے لئے انتہاپسندی کو لعنت کو ختم کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت تعلیم کے اشتراک سے ان کی مہم اور تحقیقی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی معلومات ملک کے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کو فراہم کی جائیں گی۔ برطانوی پاکستانی تارکین وطن، تدریسی ماہرین، کونسلروں اور پاکستانی میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔