مقبول خبریں
اکیڈمی آف سائنس،ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ اولڈہم کی سالانہ تقسیم اسناد تقریب کا انعقاد
کشمیر یوم سیاہ کے حوالے سے پاکستان ہائی کمیشن لندن میں سیمینار، بھارتی مظالم کی پرزور مذمت
دعوت اسلامی برمنگھم کے زیر اہتمام خراب موسم کے باوجودجشن عید میلاد النبیؐ کا جلوس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میلاد النبی کی تقریبات منعقد کر کے اللہ کریم کے شکر گزار ہیں کہ اس نے مومنوں پر احسان فرمایا
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
یاسمین ڈار کا لیبر پارٹی لیڈر جیریمی کوربن کے ساتھ مل کر انتخابی مہم کا آغاز
یہ رنگ جو مہکے تو ہوا پھول بنے گی!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اینڈریو سٹیفن سن سے راجہ نجابت حسین اور سردار عبدالرحمٰن کی ملاقات
نیلسن( محمد فیاض بشیر) برطانوی وزیر خارجہ و کنزرویٹو پارٹی کے امیدوار اینڈریو سٹیفن سن سے تحریک حق خود ارادیت کے چئیرمین راجہ نجابت حسین اور تحریک کے سرپرست اعلی سردار عبدالرحمن خان کی ملاقات۔ ملاقات میں برطانیہ کے انتخابات، انتخابی مہم میں پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کے کردار کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا - ملاقات میں تحریک حق خود ارادیت کے چئیرمین و سرپرست نے برطانوی وزیر خارجہ کو کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی اور کرفیو، لاک ڈاون، کالے قوانین کے تحت گرفتاریوں اور انسانی حقوق سنگین خلاف ورزیوں بارے آگاہ کیا. تحریک حق خود ارادیت کے چئیرمین راجہ نجابت حسین نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے برطانیہ کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لئے کردار ادا کرے. اس موقع پر برطانوی وزیر خارجہ اینڈریو سٹیفنسن نے تحریک حق خود ارادیت کے چئیرمین راجہ نجابت حسین،سردار عبد الرحمن خان سے کہا کہ برطانیہ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ، شخصی آزادی پر یقین رکھتا ہے،مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ایک پرانا مسئلہ ہے جسے حل ہونا چاہئیے، کشمیر میں کرفیو، لاک ڈاؤن تشویشناک اقدامات ہیں اور بھارت کو فوری کرفیو کا خاتمہ کرنا چاہئے تاکہ کشمیر میں زندگی معمول پر آ سکے، پاکستان اور بھارت کو چاہئے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے، برٹش کشمیریوں کے احساسات اور جذبات سے مکمل آگاہ ہیں. اس موقع پر چئیرمین راجہ نجابت حسین نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست کے بعد کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن کر کے کشمیر کو ایک بڑی جیل بنا دیا ہے، ہزاروں معصوم نوجوانوں، حریت لیڈران کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند یا لاپتہ کر دیا گیا ہے. گذشتہ تین ماہ سے کشمیر میں انسانی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ ہر جانب مسلح بھارتی فوج اور ہندو انتہاء پسندوں کے جتھے ہیں. مودی سرکار نے تمام بین الاقوامی قوانین، معاہدوں کو سبوتاژ کر کے کشمیر کی آئینی و قانونی حیثییت کو تبدیل کرنے کا قدم اٹھایا ہے، اس سب ظلم و تشدد کی ایک ہی وجہ ہے کہ کشمیری اپنے بنیادی حق خود ارادیت سے دستبردار ہو جائیں، راجہ نجابت حسین نے کہا کہ برطانیہ کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے خود مداخلت کر کے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلائے، 5 اگست کے بعد کرفیو اور لاک ڈاؤن کے بعد برطانوی حکومت نے قابل ذکر رد عمل نہ دیا جس کے باعث برٹش کشمیریوں میں تشیوش پائی جاتی ہے. برطانیہ کا مسئلہ کشمیر میں اہم کردار ہے اور کشمیری اسی کردار کے ادا کرنے اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ حل کرانے کے متمنی ہیں، اس موقع پر تحریک حق خود ارادیت کے رہنماؤں نے کنزرویٹو پارٹی کے عہدیداروں سے اپیل کی کہ وہ منتخب ہو کر انسان دوستی اور مساوات کے جذبے کے تحت مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے کردار ادا کریں،تحریک حق خود ارادیت کےعہدیداران راجہ نجابت حسین اور سردار عبدالرحمن خان نے کشمیری و پاکستانی کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرنے والے انسان دوست امیدواروں کی کامیابی کے لئے کردار ادا کریں۔