مقبول خبریں
اولڈہم کے مقامی ہوٹل ہال میں باغیچہ سجانے کی تقسیم انعامات کی تقریب
پاکستان اور بھارت میں واقعی برابری کہاں ؟ ایک طرف محبت دوسری طرف نفرت
پاکستانی نژاد پیشہ ورانہ ماہرین اور طلبہ جہاں بھی ہوں اقدار کی پاسداری کریں: نفیس زکریا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
قومی برطانوی انتخابات میں کشمیر دوست امیدواران کو ووٹ دینے بارے آگاہی میٹنگ
سہمے ہوئے لوگوںسے بھی خائف ہے زمانہ
پکچرگیلری
Advertisement
بلیک ڈے۔ وائیٹ ڈے
جاپان ، تائیوان، سائوتھ کوریا،ویت نام، ہانگ کانگ، سنگاپور،تھائی لینڈ، منیامار،کمبوڈیا اور چین جیسے بہت سے ممالک ہیں جہاں ہر سال 14مارچ کا دن وائٹ ڈے White Dayکے طور پر منایا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ وائٹ ڈے اصل میں 14فروری کو منائے جانے والے ویلینٹائن ڈے کا جواب ہوتا ہے۔ویلنٹائن ڈے بنیادی طور پر مردوں کے لیے مخصوص ہوتا ہے جس پر مرد اپنی محبت کے اظہار کے لیے اپنے ممکنہ یا متوقع جیون ساتھی کو پھول، چاکلیٹ یا پھر اسی قسم کا کوئی اور تحفہ پیش کرتے ہیں۔ ویلنٹائین ڈے سے ٹھیک ایک ماہ بعد منایا جانے والا وائٹ ڈے خواتین کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ اس روز خواتین ویلینٹائن ڈے پر ملنے والے تحفوں کے جواب میں اپنے چاہنے والوں کو جوابی تحفوں سے نوازتی ہیں۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ابھی تک امریکا ، برطانیہ اور اسی قبیل کے دیگر ممالک میں وائٹ ڈے کو کچھ زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ہمارے ملک میں بھی چند برس ویلینٹائن ڈے کا کافی زور رہا، مٹھی بھر مغرب زدہ لوگوں نے مارکیٹنگ سے وابستہ چند بین الاقوامی اشتہاری اداروں کے تعاون سے ویلنٹائن کو ایک’ قومی تہوار‘ کی صورت دینے کی بڑی کوشش کی لیکن انہیں کامیابی نہیں ہوسکی۔ گزشتہ دو تین برس سے ویلینٹائن ڈے پر اچھل کود کرنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور امید ہے آئیندہ دو تین برسوں میں ہمارے ہاں لوگ ویلینٹائن ڈے کا نام تک بھول جائیں گے لیکن ہر سال 27اکتوبر کو منایا جانے والا یوم سیاہ یعنی Black Dayاگلے سو سال بھی ہم پاکستانیوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہوسکتا۔یہ تاریخ کاوہ سیاہ دن ہے جب 1947میں اسی روزجھوٹے سچے معاہدوں کو بنیاد بنا کر بھارت نے اپنی فوج زبردستی وادیء کشمیر میں داخل کردی۔وہاں کے لوگوں سے ان کے جینے کے تمام بنیادی حقوق چھین لیے، عزت محفوظ رہی، نہ جان نہ مال۔کشمیریوں کو نئے آقائوں نے اپنا غلام بنالیا۔سینکڑوں کی تعداد میں اجتماعی قبریں، سربریدہ لاشیں، جلے ہوئے گھر، اجاڑ فصلیں اور پامال عزتیں، تب سے اب تک، مقبوضہ جموں کشمیر کے جی دار لوگ ان غاصب بھارتی فوجیوں سے مسلسل برسر پیکار ہیں۔وہ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ جذبوں کے سامنے پہاڑ بھی ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں ۔ ہمت وجوانمردی کا یہ سبق انہوں نے بلاشبہ پاکستان سے حاصل کیا ہے کیونکہ پاکستان دنیا کی وہ ریاست ہے جسے بیک وقت بہت سے طاقت ور دشمنوں کا سامنا ہے۔کوئی اسے اقتصادی محاذ پر شکست دینے کا خواہشمند تو کوئی دہشتگردوں کے ذریعے اسے برباد کرنے کا خواہاں۔ مگر پاکستان نے کسی بھی محاذ پر نہ تو ہمت ہاری نہ ہی نہ ہی حوصلہ چھوڑا۔کشمیریوں کی حمایت کے جرم میں پاکستان کو گذشتہ کئی برس سے ایک مسلسل حالت جنگ کا سامنا ہے، کبھی لائین آف کنٹرول پر بے گناہوں کا بھارتی فوجوں کے ہاتھوں قتل عام تو کبھی کلبھوشن جیسے بے رحم درندوں کی مذموم کاروئیاں، لیکن پاکستان کبھی بھی اپنے موئقف سے پیچھے نہیں ہٹا۔پاکستان کل بھی کشمیریوں کا ساتھی تھا اور آج بھی ہے۔جینے کی خواہش بھی ہو اور حالات سے مقابلے کا حوصلہ بھی تو ہر رکاوٹ ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔ حالات چاہے جتنے بھی کٹھن ہوں،زندہ قوموں کے لوگ کبھی مایوس اور نا امید نہیں ہوتے۔امید کی یہی کرن قوموں کے لیے زندگی کی ڈور بھی ہوتی ہے اور ایک روشن کل کی طرف جانے کا راستہ بھی۔ موسم عارضی طور پر خراب ہوتے رہتے ہیں۔ بڑی بڑی شاہراہوں پر پہاڑی پتھر اچانک سے لڑھکتے آتے ہیں اور راستوں کو بے بس کردیتے ہیں۔ مگریہ سب کچھ زندگی کا حصہ ہے۔ ہم پاکستانیوں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمیں ڈرانے والے زیادہ ہیں اور حوصلہ دینے والے کم۔ہر طرف ایک سی تقریریں ہیں کہ سب بک گیا، سب لٹ گیا، جو بچ گیا ہے وہ جل کر راکھ ہوجائے گا۔جو زندگی میں خود کچھ نہ کر سکے وہ Motivational Speakersبن گئے،شہر شہر خود ساختہ مفکرین نے اپنی اپنی ٹولیاں بنا رکھی ہیں، کائینات کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہونے کے دعویدار بہت سے نام نہاد فلسفی بھی مارکیٹ میں کثرت سے دستیاب ہیں جو آج تک فیصلہ نہیں کرپائے کہ ان کے لیے زیادہ کارآمد وجہ شناخت روحانیت ہے یا فلسفہ۔ماضی پر لعن طعن، حال پر ملامت اور مستقبل کے لیے کوسنے،کاش ہماری قوم ایسے کاریگروں کے حصار سے باہر آسکے۔سیدھی سادی آسان سی زندگی کو اتنا گنجلک اور پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ جینا ایک آزمائش محسوس ہونے لگا ہے۔ سچ پوچھیں تو ہم کئی معاملات میں دنیا بھر کے بہت سے ممالک سے بہتر ہیں،ترقی کے کئی گراف ہیں جو ہمیں دوسروں سے اونچا دکھاتے ہیں، بہت سے ایسے سروے موجود ہیں جن میں ہم بحیثیت ملک ایک بلند حیثیت میں نظر آتے ہیں۔ مگر افسوس کہ ہماری کامیابیاں ذاتی پسند ناپسند اور ذاتی وابستگیوں کی بھینٹ چڑھاکر تاریکیوں میں چھپا دی جاتی ہیں۔ جبکہ ہمارے مقابل ممالک میں بہت کچھ برا اور منفی ہونے کے باوجود بھی سب اچھا سب چمکیلا کا شور مچایا جاتا رہتا ہے۔ہم سے کئی گنا بڑا او ر بے شمار وسائل سے مالامال ہمارا پڑوسی ملک بھارت بھی ایسے گمراہ کن پراپگینڈے میں ایک خاص قدرت رکھتا ہے۔ حال ہی میں بھارت کی وزارت محنت و افرادی نے جو اعدادو شمار شائع کیے ہیں ان کے مطابق گزشتہ 45برسوں میں بھارت اس وقت بے روزگاری کے حوالے سے بدترین صورت حال کا شکار ہے۔شہری علاقوں میں بسنے والے لوگ جو کسی نہ کسی روزگار کے لیے اہل ہوسکتے ہیں ان میں بے روزگاری کی شرح 7.8فیصد ہے جبکہ دیہی علاقوں میں ایسے لوگوں کی شرح5.3فیصد سے بھی زیادہ شمار کی گئی ہے۔اس قدر تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے بھارتی معاشرے میں جہالت اور جرائم کی شرح میں بھی نہایت تیزی سے اضافہ کیا ہے۔کرپشن کے اس سیلاب سے قانون نافذ کرنے والے ادارے بالخصوص پولیس ڈیپارٹمنٹ بھی محفوظ نہیں رہا۔اغوا برائے تاوان، ڈکیتی، بینکوں میں لوٹ مار، پیسے لے کر کسی کو بھی موت کے گھاٹ اتارنا اور اسی نوعیت کے بہت سے سنگین جرائم وہاں معمول کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ غربت، لاقانونیت اور پولیس کی کرپشن نے جس برائی کو سب سے زیادہ فروغ دیا ہے وہ عورتوں کی جسم فروشی ہے۔ہمسایہ ممالک نیپال، سری لنکا، منیامار سے نوعمر لڑکیوں کو اغواء کرکے یا پھر سبز باغ دکھا کر بھارت لایا جاتا ہے اور پھر انہیں قحبہ خانوں کی زینت بنادیا جاتا ہے۔ ان غیر ملکی لڑکیوں کی دیکھا دیکھی مقامی لڑکیاں بھی بہت تیزی کے ساتھ اس مکروہ دھندے کا حصہ بنتی جارہی ہیں۔2015کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میںجسم فروشی کے کاروبار سے ہر سال کم از کم 8بلین امریکی ڈالر کمائے جاتے ہیں۔275000 سے زائد جسم فروشی کے اڈوں پر20لاکھ سے زائد خواتین اپنے گاہکوں کا دل بہلانے میں دن رات مصروف رہتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارت میں ایڈز کا مرض بے حد تیزی سے بڑھنے کا بنیادی سبب جسم فروشی کے یہ لاکھوں اڈے ہیں۔ آج سے کوئی23برس پہلے1996 میںبھی بھارت میں جسم فروشی کے حوالے سے حالات کچھ ایسے ہی تھے۔ رابرٹ فرائیڈ مین نام کے ایک انویسٹی گیٹو رپورٹر نے کسی مغربی جریدے کے لیے بھارت میں جسم فروشی کی لعنت پر ایک رپورٹ تیار کی جس میں اس نے لکھا، ’’بھارت کا کوئی شہر کوئی قصبہ ایسا نہیں جہاں جسم فروشی کو ایک باقائدہ صنعت کی حیثیت حاصل نہ ہو۔ہر جگہ ڈھیروں کے حساب سے قحبہ خانے ہیں۔صرف ممبئی شہر میں قحبہ خانوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔ممبئی کو ایشیا کا سب سے بڑا جسم فروشی کا بازار کہا جائے تو یہ بالکل بھی غلط نہیں ہوگا۔‘‘ ممبئی جیسے تاریخی شہر کو ایشیا بھر میں جسم فروشی کے سب سے بڑے بازار کے نام سے جانا جائے، یہ بات بذات خود نہایت تکلیف کا باعث ہے۔ اس ذلت آمیز صورت حال کا صرف ایک ہی سبب ہے کہ بھارت میں اپنے عوام کی بہتری پر توجہ دینے کی بجائے پڑوسی ممالک میں گڑ بڑ پھیلانے پر زیادہ وقت اور سرمایہ خرچ کیا جاتا ہے۔ کاروباری سرگرمیوں کو بہتر بناکر نوجوانوں کو روزگار کے وسائل فراہم کرنے کی بجائے اسلحے کی خریداری پر قومی دولت ضائع کی جاتی ہے۔ بلکہ ایک مضحکہ خیز خبر یہ کہ وہ بھارت جہاں دو وقت کی روٹی اور سر چھپانے کے لیے ایک بدحال سی’ کھولی‘ حاصل کرنے کے لیے عورتوں کو اپنی عزتیں نیلام کرنا پڑتی ہیں اسی بھارت نے ابھی چند روز پہلے افغانستان کو دو Mi-24Vگن شپ ہیلی کاپٹر عنایت کیے ہیں۔ہیلی کاپٹر افغانستان کے حوالے کرنے کے لیے کابل میں ایک باقائدہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں افغانستان میں بھارتی سفیر جناب ونے کمار نے یہ ہیلی کاپٹر افغانستان کی وزارت دفاع کے حوالے کیے۔افغانستان کے وزیر دفاع جناب اسد اللہ خالد نے کہا کہ افغانستان یہ ہیلی کاپٹر ہمسائے میں واقع دشمن ممالک کی افغانستان میں مداخلت سے نمٹنے کے لیے استعمال کرے گا۔معلوم نہیں افغانستان کے ہمسائے میں وہ کون سا دشمن ملک واقع ہے جس کے خلاف بھارت سے تحفے میںملنے والے یہ ہیلی کاپٹر استعمال ہوں گے؟؟ افغانستان کا قریب ترین ہمسایہ تو پاکستان ہے، وہی پاکستان جو آج بھی لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ محض اس لیے اٹھائے ہوئے ہے کہ پاکستان کے یہ مسلمان بھائی دربدر کی ٹھوکریں کھانے سے محفوظ رہیں۔آج پاکستان پر سے ان افغان مہاجرین کا بوجھ ختم ہوجائے تو پاکستان کے اندرونی معاملات تیزی سے بہتری کی طرف جاسکتے ہیں۔