مقبول خبریں
پاکستان پریس کلب برطانیہ یارکشائیر ریجن کا سہیل وڑائچ کے اعزاز میں استقبالیہ
پاکستان اور بھارت میں واقعی برابری کہاں ؟ ایک طرف محبت دوسری طرف نفرت
پاکستانی نژاد پیشہ ورانہ ماہرین اور طلبہ جہاں بھی ہوں اقدار کی پاسداری کریں: نفیس زکریا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
قومی برطانوی انتخابات میں کشمیر دوست امیدواران کو ووٹ دینے بارے آگاہی میٹنگ
سہمے ہوئے لوگوںسے بھی خائف ہے زمانہ
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیر کی حیثیت میں یکطرفہ بھارتی تبدیلی جنوبی ایشیا میں خطرناک بگاڑکا باعث ہوگی: پاکستان ہائی کمشنر
لندن (خصوصی رپورٹ) برطانیہ میں تعینات پاکستان ہائی کمشنر محمد نفیس زکریا نے برطانوی ارکان پارلیمنٹ کو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی بحران پر بریفنگ دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری باالخصوص برطانیہ پر زور دیا کہ وہ مشترکہ طور پر اس کا جواب دیں اور وہاں پر انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کو ختم کرائیں۔ وہ آل پارٹیز کشمیر لابی کانفرنس کے مرکزی مقرر کے طور پر خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام جموں کشمیر تحریک حق خودارادیت نے برطانوی پارلیمنٹ میں کیا اور آل پارٹی پارلیمنٹری کشمیر گروپ نے اس سلسلے میں معاونت کی۔ تین بڑی جماعتوں یعنی کنزرویٹو، لیبر اور لبرل ڈیموکریٹس کے ارکان پارلیمنٹ نے کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ کشمیری کمیونٹی، سول سوسائٹی کے ارکان، انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں اور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔ ہائی کمشنر نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں بالخصوص 5 اگست 2019 سے بھارت اپنے مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے جس پر کوئی اس سے بازپرس نہیں کر رہا۔ انہوں نے زور دیا کہ نہتے کشمیریوں کے قتل عام، بڑے پیمانے پر انہیں نابینا کرنے، ریپ کرنے، اجتماعی قبروں، جعلی مقابلوں، لاپتہ ہونے والے افراد اور ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کی شکل میں ڈھائے جانے والے مختلف بھارتی مظالم کا ریکارڈ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں، عالمی شہرت کی حامل این جی اوز، اور سول سوسائٹی کے ارکان مثلاً او ایچ سی ایچ آر، آئی پی ایچ آر سی، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، یو ایس ہیومن رائٹس رپورٹ آن انڈیا، انٹرنیشنل پیپلز ٹریبونل اور ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز مرتب کر چکی ہیں اور انسانی حقوق کے تمام بین الاقوامی کنونشنز اور دستوری دستاویزات کی رو سے یہ سب انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔ ہائی کمشنر نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں خونریزی فی الفور اور غیرمشروط طور پر ختم کرنے، متاثرین کو انصاف کی فراہمی، انسانیت کے خلاف جرائم کرنے والوں کے احتساب اور تنازعہ کشمیر کے مستقل حل پر زور دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ برطانوی حکومت اس دیرینہ تنازعہ کو حل کرانے کے لئے اپنا موزوں کردار ادا کرے گی۔ برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے انسانی حقوق کی المناک صورتحال اور بھارت کی جانب سے اپنے مقبوضہ کشمیر کو مکمل طور پر بند کرنے پر ناپسندیدگی اور تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مودی حکومت کی جانب سے کشمیر کی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی کو جنوبی ایشیا میں ایک خطرناک دوڑ میں مزید بگاڑ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے جس پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادیں عملدرآمد کی منتظر ہیں اور اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ کشمیری عوام کو درپیش انسانی مشکلات کا خاتمہ یقینی بنانے کے لئے کوششوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ ارکان پارلیمنٹ نے اس حوالے سے واشگاف موقف اختیار کیا کہ تجارت کو انسانی زندگیوں پر فوقیت نہیں ملنی چاہئے اور اس پر خاموشی کو کشمیر کی صورتحال میں ملوث ہونے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تجارت کو انسانی زندگی پر ترجیح دینے کا کلچر ختم کرنا ہو گا اور پوری مہذب دنیا کو چاہئے کہ وہ تشدد، اذیت اور موت کے اس گھناؤنے چکر کو توڑنے کے لئے اٹھ کھڑی ہو۔ ارکان پارلیمنٹ نے پاکستان کی جانب سے اپنائے گئے اعلیٰ اخلاقی موقف کو سراہا۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا۔ ان کا خیال تھا کہ دولت مشترکہ کے رکن کی حیثیت سے بھارت کو انسانی حقوق سمیت اس تنظیم کی بنیادی اقدار کا احترام کرنا چاہئے۔ ایم پیز نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالے۔ ارکان پارلیمنٹ نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کشمیری عوام کی جائز قانونی تحریک کی مستقل حمایت کا یقین دلایا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ یہ مسئلہ حل نہ ہو جائے اور معصوم کشمیریوں کو انصاف نہ مل جائے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے کشمیریوں نے، جن کا اپنے دیگر اہل خانہ کے ساتھ رابطہ گزشتہ 72 دن سے مکمل طور پر منقطع ہے، نے ان لوگوں کی حالت زار پر روشنی ڈالی اور اپنی بے بسی، عالمی برادری کی بے حسی اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی جانب سے عدم دلچسپی پر مایوسی اور فرسٹریشن کا اظہار کیا۔