مقبول خبریں
کونسلر شکیل احمد تیسری بار لیبر پارٹی کی طرف سے مئی 2020ء کے لئے امیدوار نامزد
کشمیر کی حیثیت میں یکطرفہ بھارتی تبدیلی جنوبی ایشیا میں خطرناک بگاڑکا باعث ہوگی
پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری محمد رضا کی زیر صدارت عہدیداران و کارکنان کا اجلاس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
پروفیٹک گفٹس ویڈنگ اینڈ ایونٹس آرگنائزر کے زیر اہتمام ایشین ویڈنگ اینڈ پلانرز ایونٹ کا انعقاد
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
پکچرگیلری
Advertisement
ہمارا کام تو بس چراغ جلانا ہے
دیار غیر میں آباد امیگرینٹس کی زندگی میں بہت سے مواقع آتے ہیں جب انفرادی کی بجائے اجتماعی مفادات کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ کامیابی کی صورت میں پوری کمیونٹی کو فائدہ ہو۔ میرا وکالت کے پیشے سے تعلق کوئی سترہ سال سے ہے اورالفرڈ سے تعلق کوئی سولہ سال سے۔ جب میں ولایت میں آیا تو میرا پہلا قیام الفرڈمیں ہی تھا جہاں تارکین کی پہلی اور دُور نسل آباد ہے۔ آبادی کے لحاظ سے آل فورڈ ساؤتھ میں مسلمان ہندو سکھ عیسائی یہودی اور دوسری قومیتیں آباد ہیں۔ ان سب قوموں کا ہمیشہ عیسائی پارلیمانی رکن نمائندہ رہا ہے۔ بہت عرصے کے بعد قدرت نے ہماری کمیونٹی کو ایک موقع فراہم کیا کہ یہاں سے اپنا ممبر پارلیمنٹ منتخب کیا جاسکے، ابتدائی رمضان میں میں اپنے چیمبر میں کام میں مصروف تھا کہ کلرک نے بتایا کہ میرا ایک پرانا ساتھی ایک سماجی کارکن اور ایک سائل کے ساتھ مجھے ملنے کے لئے منتظر ہیں۔ کمیونٹی رہنما نے میرے سے اکیلے میں بات کرنی چاہی۔ گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلامی کمیونٹی سینٹرز کو ایک مسلمان امیدوار کی تلاش جاری ہے جو بغیر کسی دباؤ یا لالچ کے پورے الفرڈ کے معاشرے کی نمائندگی کرسکے۔ میں نے کبھی سیاست میں عملی اقدام نہیں کیے تھے اگرچہ میرے بہت سے دوست دُنیا کے کافی کونوں میں سیاست دان ہیں اور مجھے سیاست میں آنے کے لئے ماضی میں بضد بھی رہیں ہیں۔ میرا ہمیشہ سے موقف رہا کہ جب میں وکالت سے کمیونٹی کی خدمات دے رہا ہوں اور لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ تو سیاست میں آنے کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے کمیونٹی رہنما کو ادباً عرض کیا کہ میں سوچ کر جواب دوں گا لیکن بہتر ہے کہ وہ کوئی اور بندہ بھی تلاش کریں۔ دوسرے یا تیسرے دن کمیونٹی رہنما کا فون آیا اور کمیونٹی سنٹر میں ملنے کے لئے اصرار کیا۔ میں نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا اور دوستوں کی رائے لینے کے بعد میں ایک دوست کے ساتھ ملاقات کرنے کمیونٹی سنٹر اس وقت پہنچا جب افطار میں آدھا گھنٹہ باقی تھا۔ وہاں چوہدری صاحب جو کہ مقامی سیاست کے کنگ میکرز میں شمار ہوتے ہیں ایک لوکل حلقہ کے سیکریٹری اور ہمارے کمیونٹی رہنما موجود تھے۔ سب نے اسی بات کو دہرایا اور ارادہ کیا کہ میرے ساتھ مل کر کوشش کی جائے گی کہ ہماری کمیونٹی کو میرے روپ میں ایک مسلمان رہنما مل جائے۔ ایک بات کی وضاحتت کردوں کہ اس میٹنگ کے وقت ڈاکٹر اشرف چوہان صاحب پہلے ہی ارادہ ظاہر کر چُکے تھے کہ وہ الفرڈ سے اُمیدوار بننا چاہ رہے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ ڈاکٹر صاحب سے بات کرکے اُن کو قائل کرلیا جائے گا کہ میں مقامی ہونے اور مقامی لوگوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہونے کی وجہ سے زیادہ حقدار ہوں اور ڈاکٹر صاحب تجربہ کار سیاستدان ہونے کی وجہ سے یہ بات سمجھیں گیں اور مقامی کمیونٹی رہنماؤں کی بات کا احترام کریں گیں۔ میں نے مقامی لوگوں کو ملنا شروع کیا اور میرے دوستوں (امجد خان، سردار شفقت، سعید صاحب محترم مشتاق لشاری، عامر خان، ملک مختار اور رانا وحید ) نے نہ صرف میری حوصلہ افزائی کی بلکہ سب مقامی لوگوں کو بھی اصرار کیا میرے لئے اپنے دوستوں سے رابطے کریں۔ اسی حلقے سے امیدوار چوہدری لیاقت صاحب سے میرا بہت احترام کا رشتہ ہے۔ انکے مرحوم بیٹے چوہدری ندیم نے ہمیشہ مجھے بھائی کہا اور میں نے اِس ناتے سے چوہدری صاحب کو ہمیشہ انکل کہا۔ ہمارا دُوسرا تعلق میرے بہت قابل احترام عا بد چشتی بھائی ہیں (جو کہ چوہدری خاندان کے بہت قریب ہیں) میں عابد بھائی کے ساتھ پہلے ہی مشورہ کر کے آشیرواد لے چکا تھا اور اُنھیں گزارش کی کہ انکل لیاقت کو بھی بولیں کہ اپنے الفرڈ کے دوستوں کو میرے لئے فون کریں۔ مجھے عابد بھائی سے کچھ دن بعد پتہ چلا کہ انکل لیاقت بھی خواہش رکھتے ہیں کہ یہاں سے الیکشن کے خواہشمند ہیں۔ میں تذبذب کا شکار ہوا لیکن سارے دوستوں کی مشاورت سے ہم اِس نتیجے پر پہنچے کہ ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں اور جب چوہدری صاحب رابطہ کریں تو ہم بیٹھ کر فیصلہ کرلیں گیں کہ ہم میں سے کون آگے بڑھے۔ یہ بڑا دانشمندانہ فیصلہ تھا کیونکہ اس طرح ہم نے اپنی کوششوں کو یکجا کر کے اپنی قوت میں اضافہ کر لیتے اور پوری مسلمان کمیونٹی کو اس کا فائدہ پہنچتا۔ میں نے لوگوں اور مقامی رہنماؤں بالخصوص لیبر پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا۔ میرا یہ ملاقاتوں کا تجربہ بہت دلچسپ اور سیکھنے سے بھرپور ثابت ہوا زیادہ تفصیلات میں نہیں جاؤں گا لیکن مختصراًمجھے ایک مرکزی مسجد کے ٹرسٹی کو یاد کروانا پڑا کہ ایک سکھ اُمیدوار کی شان میں قصیدہ گوئی سے پہلے یاد رکھے کہ ہر چیز کا اختیار الله کے ہاتھ میں اور ہمارے ہاتھ میں کوشش کرنا ہے۔ اس کے علاوہ علاقہ کے بہت معتبر بندوں کو بھی یہ باور کروانے کی ضرورت پیش آئی کہ الله کے علاوہ اور اُس کے منتخب بندوں کے علاوہ کوئی بھی مشکل سے اور مسائل سے نہیں نکال سکتا۔ لہزا وہ اپنے ذاتی مفادات کی بجائے اور سکھ رہنما سے ڈرنے کی بجائے پوری مسلمان کمیونٹی کے مفاد کا سوچیں۔ مورخہ 15/08/2019 کو لیبر پارٹی نے درخواستوں کی تاریخ کا اعلان کیا اور ہم نے اپنی درخواستوں کو جمع کرایا۔ ساتھیوں کا خیال تھا کہ ہم جب اور اگر شارٹ لسٹ میں آئیں گیں تو شارٹ لسٹ میں آنے والوں کے درمیان بیٹھ کر فیصلہ کر لیں گیں کہ کس کو دُوسرے کے حق میں بیٹھ جانا چاہئے۔ مورخہ 27/08/2019 کو سب اُمیدواروں کو پر وسیجرل سیکریٹری کی ایمیل موصول ہوئی جس کے مطابق ہر ممبر نے ایک اُمیدوار چُننا تھا اور ہر وارڈ سے ایک اُمیدوار (ایک مرد اور ایک خاتون) سامنے آنا تھا۔ یہ روایتی طریقہ کار کے برعکس تھا۔ میں نے فوراً پروسیجرل سیکرٹری کو اپنا احتجاج درج کروایا اور انکل لیاقت سے رابطہ کیا کہ وہ بھی احتجاج کریں۔ پروسیجرل سیکرٹری نے جوابًا بات جی ایل اے پر ڈال دی۔ خیر یہ پہلی تبدیلی نہیں تھی جو روائتی طریقہ کار کے خلاف ہو اور علاقائی راہنما کو واضح طور پر فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جارہی تھی۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ممبران تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کریں گیں اور ایک لیفلٹ بنایا گیا جو کہ30/08/2019 جمعہ کی نماز سے تھوڑی دیر پہلے مکمل ہوا۔ میں نے اور میرے ساتھیوں نے ہر کسی کو وہ لیفلٹ واٹس ایپ کیا اور گزارش کی کہ اپنے الفرڈ کے دوستوں تک پہنچا دے۔ ابھی میں جمعہ کی نماز سے فارغ ہی ہوا تھا کہ میرے اچھے دوست کا فون آگیا جو کہ مقرر بھی ہیں لکھاری بھی ہیں اور میرے ہی پروفیشن سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے پہلے ہی انکل لیاقت کی پوسٹس دیکھ رکھی تھیں اور اور اُنھیں ڈاکٹر صاحب کے اُمیدوار ہونے کا بھی معلوم تھا۔ مختصراً میں نے اُن کے گوش گزار کیا کہ میں نے بہت پہلے سے کمپئن شروع کی ہوئی تھی اور فیسبک یا کسی اور طرح سے اس لئے نہیں شئیر کیا کیونکہ شارٹ لسٹ میں آنے سے پہلے کچھ شئیر کرنا بہت قبل ازوقت ہوتا۔ اُن کے جواب میں میں نے بلا تامل بتایا کہ ہم پاکستانی اُمیدواروں میں سے کسی کے سیلیکٹ ہونے کا کوئی چانس نہیں اور ہم ان پہلوانوں کی طرح ہیں جو اکھاڑے سے باہر ہی کُشتی کررہے ہوں۔ خیر اُنھوں نے اصرار کیا کہ ہمیں اکھٹے ہوکر ایک اُمیدوار کو چننا چاہئے۔ میں نے اُن کی ہاں میں ہاں ملائی اور اُمید ظاہر کی ہم اکھٹے ہوکر ایک مشترکہ امیدوار سامنے لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اُسی دن شام کو مجھے ڈاکٹر صاحب نے بھی رابطہ کیا اور اِس بات کا اظہار کیا کہ جس طرح رولز کو تبدیل کیا گیا ہے ہمارے جیتنے کے مواقع بہت محدود ہیں اور ہمیں اکٹھے ہوکر ایک اُمیدوار کو سامنے لانا چاہیے چاہے میرے جیسا سیاست میں نووارد ہو (اگر میری پوزیشن بہتر ہے) یا انکل لیاقت یا بلال محمود اور یا ڈاکٹر صاحب خود ہوں۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کا شکریہ کرتے ہوئے اُن کی سیاسی بصیرت کو سراہا اور اُن کی بات سے بلا شرط اتفاق کیا اوراُنھیں آگاہ کیا کہ ہمارے ایک مشترکہ دوست انکل لیاقت سے بات کر کے میٹنگ رکھ رہیں ہیں۔ ہفتہ والے دِن ہمارے مشترکہ دوست نے ہفتہ والے دن ہی میٹنگ رکھنے کے لئے رابطے شروع کردیے لیکن خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی کیونکہ ایک اُمیدوار اُسی صورت میں ساتھ بیٹھنے پر رضا مند تھا اگر اُسے یقین دہائی کروائی جائے کہ باقی اُس کے حق میں دستبردار ہوجائیں گیں۔ یہ انتہائی غیر مناسب شرط تھی جو کہ انکار کرنے کے مترادف تھی۔ میں نے ڈیڈلاک کو توڑنے کے لئے درج ذیل تجاویز رکھیں جن پر ڈاکٹر صاحب نے تو اتفاق کیا لیکن ایک اُمیدوار کو ہر بات پر تامل تھا: ۱- ہم لوکل کمیونٹی رہنماؤں میں بیٹھ کر اپنے کارڈز دکھائیں اور جس کی پوزیشن بہتر ہو وہ دوسرے کے حق میں دستبردار ہوجائے۔ یا ۲- ہم لوکل کمیونٹی رہنما (لیبر اور دوسری پارٹیوں کے ملا کر چُنیں) کو بٹھائیں اور اُن سے خفیہ رائے شماری کراسکیں۔ یا ۳- ہم لیبر کے ممبرز (جن کا ہمیں پتہ ہیں) بُلا کر کسی بھی طریقے سے رائے شماری کرا لیں۔ یا ۴- ہم بارہ وارڈز کو آپس میں بانٹ لیں ہر اُمیدوار تین وارڈز لے لے اور دُوسرے اُمیدواروں کو اُن کی وارڈز میں تعاون مہیا کرے۔ مجھے انتہائی دُکھ ہوا جب ہمارے ایک تجربہ کار سیاستدان نے ان تجاویز کو زیر غور لانے سے ہی انکار دیا اور بضد رہے کہ اگر ہم دستبردار ہونے کے لئے تیار ہیں تو وہ بیٹھنے کے لئے تیار ہیں۔ اگر کم از کم چوتھی رائے پر غور کرتیں تو ہم چاروں نمائندہ بن کر اگلے مرحلے تک پہنچ جاتے اور بیٹھنے بٹھانے کا فیصلہ شارٹ لسٹ ہوکر کر لیتے۔ ہفتہ کی رات کو میرے ایک صحافی دوست نے اصرار کیا کہ ہمیں ایجوئیر روڈ پر اُس کے تعاون سے بیٹھیں۔ میں نے اس میٹنگ پر اصولی اختلاف کیا دو بنیادی وجُوہات کی بنیاد پر۔ پہلی یہ میٹنگ الفرڈ میں ہونی چاہئے اور دوسری اس میٹنگ میں لوکل آدمی یا رہنما کو جو کہ ہمارے فیصلہ سے متاثر ہوتے ہوں کی بھی شمولیت ہونی چاہئے۔ اِس سے پہلے کہ میں انھیں قائل کرتا میرے موبائل کی ہمت جواب دے گئی اور بیٹری سو گئی۔ مجھے اگلے دن پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب نے رائے دی ہے کہ وہ دستبردار ہوجائیں گیں اگر سب ایک اُمیدوار کے حق میں فیصلہ کریں۔ میرے خیال کے مطابق ہمارے پہلے مشترکہ دوست اتوار کو بھی کوششوں میں مصروف رہے کہ کسی طرح ہم درج بالا یا کسی اور تجویز پر میٹنگ کرلیں۔ لیکن میری سمجھ کے مطابق یہ میٹنگ نہ ہو سکی کیونکہ ایک اُمیدوار کو اپنی جیت کی پُوری اُمید تھی۔ 02/09/2019 سوموار کو پہلی چار وارڈز کی میٹنگ ہوئی اور نتیجہ میری اُمیدوں کے مطابق آیا۔ ہم میں سے کوئی بھی نہ جیت سکا۔ منگل کو کوئی میٹنگ نہ تھی اور ہم اپنی اپنی کوششوں میں مصروف رہے۔ بدھ کو تین وارڈز کی میٹنگز ہوئی اور ہم ایک دفعہ پھر ناکام۔ یہ ایک بنیادی اصول ہے کہ مقامی مئیر میٹنگ میں شریک تو ہو سکتا ہے لیکن ووٹ نہیں ڈال سکتا۔ ایک وارڈ میں مسلمان مئیر صاحب شامل ہوئے۔ میٹنگ کے آغاز میں انھوں نے سکھ امیدوار کے حق میں ایک تقریر کی اور اُس کے حق میں ووٹ بھی کاسٹ کیا۔ یہ بات سُن کر جو تھوڑا بہت اعتبار بچا تھا کہ و لائت میں سب کچھ رُولز اور پروسیجر کے مطابق ہوتا ہے جاتا رہا۔ میں اُس دن بہت کشمکش میں تھا کہ اب کیا کیا جائے اب کوئی کتنی دفعہ شکایت کرسکتا ہے؟ خیر الله کی ذات بہت محبت کرنے والی ہے اور انسان کی تسکین کے لئے کوئی انتظام کر دیتی ہے خصوصاً جب آپ کی نیت اچھی ہو۔ میری نظر سے قرآن کی یہ آیت گزری تو دل کو دھا ڑ س ہوئی کہ دھاندلی تو ہمیشہ سے اُن لوگوں کا شیوہ ہے جن کو تھوڑا بہت اختیار مل جائے میں نے اور میری ٹیم نے اگلی صبح نئی اُمید کے ساتھ پھر سے وعدہ وفائی کی جستجو شروع کی اور اُن لوگوں سے ملے جنہوں نے ہمیں اِس بات کی آگاہی دلا دی تھی کہ باتیں اور حقیقت ایک دُوسرے سے میلوں دُور ہیں اور بڑے بڑے لوگوں کی بڑی بڑی تقریریں اور دعوے فقط ایک پانی کا بل کہ ہیں جو کسی بھی وقت خودغرضی کے آگے پھٹ سکتا ہے۔ ایسے موقع پر میں میاں حنیف، کلدیپ سنگھ، مختار ملک، سعید صاحب اور محبوب بھائی کے یقین اور استقامت کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا جو کہ میرے ارادوں کو مضبوط کرنے کے لئے نتیجہ کو دیکھتے ہوئے نتیجہ کی پرواہ کیے بغیر میرے ساتھ کھڑے تھے اور میرا حوصلہ بنے ہوئے تھے۔ خیر شام کو لاکسفورڈ اور شیڈویل وارڈز کا نتیجہ بھی دوستوں اور قریبی مددگار وں کی جفا کاری کی عکاسی کرگیا اور میرے سمیت کوئی بھی ساتھی کامیاب نہ ہو سکا اگرچہ نویں فیصد لوگ ہمارے ساتھی تھیں۔ میری سیکریٹری جو تقریباً ایک ہفتہ سے میرے ساتھ لوگوں کو مل رہی تھی اور میٹنگز کے باہر کھڑی تھی نتیجوں سے بہت ششدر تھی کیونکہ لوگ اندر جاتے ہوئے اس سے ملتے اور اُسے بتاتے کہ میری کمیونٹی کے لئے بڑی خدمات ہیں اور میں ایک بہتریاں نمائندہ ہو سکتا ہوں اور وہ مجھے ووٹ دینے کے لئے ہی آئیں ہیں۔ اُس نے میرے سے ایک سوال کیا کہ لوگ اندر جاکر بدل کیوں جاتیں ہیں۔ اُس کے ایرانی پس منظر اور محرم کے مہینے کے پیش نظر مجھے ایک ہی مثال یاد آئی اور اُسے کہا کہ امام مسلم بن عقیل نے امام حسین (ع) کو خط میں کیا لکھا تھا کہ کوفہ میں نہ آئے کیونکہ اُن کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں لیکن تلواریں آپُکے لئے نہیں اُٹھیں گیں۔ اسی طرح لوگوں کو شائد سب کو خوش کرنے کا فن آتا ہے یا پھر لوگوں کی وقتی مجبوریاں اُن کی آنے والی نسلوں کی بہتری سے زیادہ مجبور ہیں۔ میں نے کافی سوچ و چار کے بعد اور دوستوں کے مشورہ سے یہ فیصلہ کیا کہ میں آخری دن ہماری سب سے زیادہ مضبوط (اُنکی رائے میں) ساتھی کی لئے میدان خالی کردوں۔ میں نے پر وسیجرل سیکرٹری کو ایک ایمیل کی کہ میں ساری نا انصافیوں اور دھاندلی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سیلیکشن سے دستبردار ہوتا ہوں اور دستبردار ہو گیا۔ اب نظر آرہا ہے کہ عیسائی یا سکھ نمائندہ مسلمانوں کی آشیرواد سے اگلے بیس تیس سال مسلمانوں اگلی دو نسلوں کی نمائندگی کرے گا اور شائد کوئی مسلمان ہمت نہ کرے مقابلہ میں آنے کی۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے۔ میرے آگے دو مہینے کی محنت سے کچھ اور ہو یا نہ ہوا سیاسی شعور ضرور بیدار ہو ا ہے۔ یاد کراتا چلوں کہ بات شروع ہوئی تھی ایک مسلمان کو پارلیمنٹ کا رکن بنانے سے۔ اگر میں نے اپنے آپ کو پارلیمانی رکن بنانا تھا تو میں ناکام ہوا اور اگر اس کے برعکس اگر مجھے ایک نڈر مسلمان کو پارلیمانی رکن بنانا تھا تو جدوجہد جاری ہیں اور اس جدوجہد کا دائرہ الفرڈ سے نکل کر پورے انگلستان میں پھیلے گا اور جدوجہد ۲۵ فیصد اپنے نمائندہ لانے تک جاری رہے گی۔ کیونکہ ایک مسلمان امیدوار کا مطلب پارلیمان میں ایک آواز کا اضافہ ہے: کشمیر کے لئے، افغانستان کے لئے، مشرق وسطٰی کے لئے، مقامی مسلمانوں کے لئے جن کے خلاف داہنے بازو کی تنظیمیں آوازیں ابھر رہی ہیں۔ ہمارا کام تو بس چراغ جلانا ہے، روشنی میں ہم بہٹھیں یا آنے والی نسلیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ الله ہم سب کو نیک مقاصد میں کامیاب کرے۔ آمین۔