مقبول خبریں
کونسلر شکیل احمد تیسری بار لیبر پارٹی کی طرف سے مئی 2020ء کے لئے امیدوار نامزد
کشمیر کی حیثیت میں یکطرفہ بھارتی تبدیلی جنوبی ایشیا میں خطرناک بگاڑکا باعث ہوگی
پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری محمد رضا کی زیر صدارت عہدیداران و کارکنان کا اجلاس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
پروفیٹک گفٹس ویڈنگ اینڈ ایونٹس آرگنائزر کے زیر اہتمام ایشین ویڈنگ اینڈ پلانرز ایونٹ کا انعقاد
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
پکچرگیلری
Advertisement
جب ریت پہ لکھو گے محبت کی کہانی!!!!!!!!!
جھنڈا، پرچم، علم،کسی بھی قوم کے لیے جان سے بھی زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ جس جھنڈے کو ہم آنکھوں سے لگاتے ہیں، سرپر رکھتے ہی، سینے پہ سجاتے ہیں اس جھنڈے کو جلایا جائے اور پیروںکے نیچے روندا جائے تو یہ بات کسی سے بھی محب وطن کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں ہوتی۔ابھی چند روز پہلے کی بات ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ کثرت سے شیئر ہوا۔ اس کلپ میں کچھ بھارتی مسلمان، پاکستانی جھنڈے کو نذر آتش کر رہے تھے اور پاکستان کے خلاف غلیظ زبان بھی استعمال کر رہے تھے۔ کلپ پوسٹ کرنے والوں کا دعویٰ تھا کہ یہ مذموم کاروائی ہندوستان کے ایک بہت بڑے دینی مدرسے کے طلباء اور ان کے اساتذہ کرام کے ہاتھوں سر انجام پائی۔بعد میں کچھ لوگوں نے یہی کلپ مختلف کیپشنز کے ساتھ بھی پوسٹ کیا جس میں اس دینی مدرسے کی بجائے مقبوضہ کشمیر کے کسی اور مدرسے کا نام لکھا گیا تھا۔اس کلپ کو پوسٹ کرنے کے جو بھی پوشیدہ مقاصد تھے، وہ اپنی جگہ الگ لیکن ایک مقصد نہایت واضح تھا وہ صرف یہ کہ پاکستانی مسلمان بھارت ا ور مقبوضہ کشمیر میں آباد مسلمانوں سے نفرت کرنے لگیں۔مقبوضہ کشمیر کی آزادی کو اپنے ایمان کی طرح مقدس سمجھنے والے پاکستانی اس سارے سلسلے سے متنفر ہوجائیں اور بھارت کو ہر طرح کی من مانی کرنے کی کھلی چھٹی مل جائے۔اس ویڈیو کلپ کو دیکھ کر ہمارے پاکستانی بھائیوں نے شدید ترین ردعمل کا اظہار کیا۔ہزار قسم کی گالیاں، سینکڑوں صلوٰتیں لعن طعن اور پتہ نہیں کیا کیا۔زیادہ تر لوگوں کو یہ شکایت تھی کہ مسلمان ہوکر پاکستان کا جھنڈا جلارہے ہو۔لیکن یہ شکایت کرنے والے اس حقیقت کو بھول بیٹھے کہ ملکوں کی سیاست میں مذہبی حوالہ کہیں پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ آپ ایک پل کو اس ظلم و ستم کا ذرا سا تصور کر لیجیے جو گذشتہ کئی ہفتوں سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ڈھایا جارہا ہے۔مسلسل کرفیو، مسلسل جبر و تشدد، بیماروں کے لیے دوا نہیں ، بچوں کے لیے دودھ نہیں ۔ عورتوں کی بے حرمتی، نوجوانوں کی گمشدگی اور بزرگوں کی بے عزتی معمول کی بات ہے، محرم ہو یا پھر نماز جمعہ کی ادائیگی، مسلمان وہاں ہر حق سے محروم ہیں۔ اور یہ سب کچھ مودی نام کے ایک مذہبی انتہا پسند کے ہاتھوں سر انجام پارہا ہے۔ مگر مجال ہے کہ سارے ہندوستان میں ،کوئی ایک مسلمان بھی، مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی اس نا انصافی پر کوئی ایک لفظ بھی بولا ہو۔ وہاں مختلف مکاتب فکر کے مسلمان راہنما مودی صاحب سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، ضیافتیں اڑائی جارہی ہیں، سیلفیاں بن رہی ہیں اور فوٹو سیشن ہو رہے ہیں۔ ایک نظر برما پر بھی ڈال لیں جہاں مسلمانوں کو زندہ جلایا جارہا ہے، تڑپتی سلگتی جان کنی کی حالت میں ان بے بس مسلمانوں کی ویڈیوز بنا کر شیئر کی جارہی ہیں مگر دنیا بھر کے 1.8بلین مسلمانوں اور 50سے زائد مسلمان اکثریتی ممالک میں سے کوئی بھی آواز نہیں اٹھاتا۔ہماری اس سے بڑی بے حسی کیا ہوگی کہ ایک طرف مودی سرکار مسلمانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی برا سلوک کر رہی ہے لیکن ہمارے کچھ انتہائی موئثر اور محترم اسلامی ممالک کے سربراہان مودی صاحب کو ایوارڈز سے نواز رہے ہیں، شاہی مہمان کے طور پر بلا بلا کر گلے لگا رہے ہیں اور کبھی نہ ساتھ چھوڑنے کی قسمیں کھارہے ہیں۔مختصر یہ کہ اسلامی امہ کا جو سبق ہمیں ہمیشہ سے پڑھایا گیا، آج ہمارے رویوں میں اس کا کہیں دور دور تک حوالہ نہیں۔ ابھی تو دیکھتے جائیے، بہت سے اور تکلیف دہ مناظر بھی ہماری آپ کی آنکھوں کے منتظر ہیں۔ابھی تک بابری مسجد سانحے پر ہمارے آنسو خشک نہیں ہوئے ہیں کہ انتہا پسند ہندوئوں نے ایک اور قدیمی مسجد کو شہید کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق گیان وپی نام کییہ مسجد ایک مندر کی تعمیر کے راستے میں حائل ہورہی ہے۔ مسٹر نریندرا مودی نے یوپی کے علاقے ورانسی میں حلقے کے لوگوں سے لوک سبھاکے 2019انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی ایک تقریب میںوعدہ کیا تھا کہ وہ کامیابی کے بعد قدیمی کاشی وشواناتھ مندر کی ازسر نو تعمیر کے منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں گے۔ اس منصوبے پر 600کروڑ روپے کے لگ بھگ اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔کاشی، دریائے گنگا کنارے ہندوئوں کا ایک قدیم مقدس مقام ہے اور اسے شیو دیوتا سے مربوط کیا جاتا ہے۔اس مندر تک پہنچنے کے لیے 45000مربع میٹر کے علاقے کو صاف کر کے ایک کوریڈور بنایا جائے گا تاکہ یہاں آنے والوں کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مذکورہ رقبے میں 300سے زائد گھر اور چندایک چھوٹے چھوٹے مندر بھی شامل ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس ساری کاروائی میں 800سے زائد گھرانے بے گھر ہوجائیں گے۔ان گھروں میں رہنے والوں نے مودی سرکار کے اس بے رحمانہ اقدام پر احتجاج کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے لیکن ان کا یہ احتجاج اس لیے بے اثر دکھائی دیتا ہے کہ مودی صاحب نے راستے میں آنے والے مندروں پر قابض یوگیوں سے وعدہ کر رکھا ہے کہ کاشی مندر کے انتظام و انصرام میںان سب کو شامل کیا جائے گا لہٰذ یہ مذہبی لوگ احتجاج کرنے والوں کا بالکل بھی ساتھ نہیں دے رہے۔چنانچہ مندر کی توسیع اور ازسر نو تزئین و آرائش کا کام نہایت زور و شور سے جاری ہے۔مندر سے تقریبا جڑی ہوئی مسجد گیان وپی کو بھی عنقریب منظر سے مٹا دیا جائے گا کیونکہ اس مسجد کی موجودگی میں مندر کی توسیع کا کام منصوبے کے مطابق نہیں ہوسکتا۔مسلمانوں کے ممکنہ رد عمل سے بچنے کے لییاس سارے پراجیکٹ کی تکمیل کی ذمے داری وہاں کے چیف منسٹر یوگی ادیتیاناتھ کو سونپی گئی ہے جو اپنی مسلمان دشمنی کے حوالے سے دنیا بھر میں بدنام ہیں۔انہیں سازشیں کرنے میں بھی مہارت ہے او ر انہیں اس کا بھی بخوبی علم ہے کہ اس مہارت کو مسلمانوں کے خلاف کیسے استعمال کرنا ہے۔ مذکورہ مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے 1664میں مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے تعمیر کروایا تھا۔بابری مسجد کی طرح اس مسجد کے بارے میں بھی ہندو انتہاپسندوں کا پراپگینڈہ ہے کہ یہ مسجد پہلے ایک مندر تھی۔اسی پراپگینڈے کو تقویت دینے کے لیے کچھ عرصہ قبل مقامی ہندو فسادیوں نے مسجد کے احاطے میں زور زبردستی ایک بت کو بھی دفنادیا اور شور مچایا کہ یہ بت صدیوں سے وہاں دفن ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ بہت جلد اس مسجد کو شہید کردیا جائے گا۔ تھوڑا بہت ہنگامہ ہوگا، آٹھ دس بارہ پندرہ مسلمان مارے جائیں گے، کچھ کے گھر جلیں گے تو کچھ کی دکانیں، جو بچ جائیں گے ان پر گائو ماتا کی توہین کا الزام لگا کر انہیں زندہ درگور کردیا جائے گا۔لیکن یاد رہے اس سب کے باوجود بھی مسلمان ممالک میں مودی صاحب کی عزت و تکریم اور مقبولیت میں معمولی سی بھی کمی نہیں ہوگی۔ہر ملک اپنا مفاد دیکھتا ہے اور اس زمانہ جدید میں اقتصادی و معاشی مفاد سے بڑھ کر اور کوئی مفاد نہیں ہوتا۔ سیاست کے اطباء کی نظر میں بین الاقوامی رشتوں اور تعلقات کو تقویت دینے کے لیے اقتصادیات سے بڑھ کر موئثر اور زود اثر دوا اور کوئی بھی نہیں۔بھارت میں بسنے والے مسلمان اگر بھارت ماتا کے گن گاتے ہیں تو یہ کوئی غلط بات نہیں۔ غلطی دراصل ہمارے سوچ کی ہے۔ کسی نے ہمیں سمجھایا ہی نہیں کہ انسان کی شناخت کا بنیادی حوالہ دھرتی سے ہوتا ہے، وہی دھرتی جسے زمانہ جدید میں ملک کہا جاتا ہے، ہمارا شناختی کارڈ، ہمارا پاسپورٹ، تعلیمی اسناد، ڈرائیونگ لائیسنس یا بین الاقوامی دنیا سے ہمارے تعارف کا کوئی بھی ذریعہ براہ راست ہماری ملکی شناخت سے منسلک ہوتا ہے۔برطانیہ میں بسنے والا کوئی بھی مسلمان یا عیسائی یا پھر سکھ اور ہندو اپنا پہلا تعارف یہی کہہ کر کرائے گا کہ’I am a Britisher ‘ ۔ امریکا سے لے کر جرمنی، آسٹریلیا اور فرانس تک، تعارف کا یہی طریق کار مستعمل ہے۔ بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، بھوٹان اور چین میں بھی ایسا ہی کیا جاتا ہے۔لوگ اپنی دھرتی سے محبت کرتے ہیں، ملک پر جان نثار کرتے ہیں۔ملک گھر کی طرح ہوتا ہے، گھر کی چار دیواری میں رہنے والوں کے بیچ اختلافات ہوسکتے ہیں،ایک دوسرے کے لیے ناپسندیدگی بھی ہوسکتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں کہ گھر میں رہنے والے، گھر سے نفرت کرنے لگیں ، اسے توڑنے کے منصوبے بنانے لگیں۔ہمیں بھارت کے ان مسلمانوں سے سبق سیکھنا چاہیے کہ جو بھارت میں انتہا پسند ہندوئوں کے ہر قہر کا شکار ہیں، جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزار رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجودان کی ساری محبت اپنی دھرتی کے لیے ہے۔ان کی نظر میں سچ پوچھیں تو نام نہاد’ او آئی سی‘ کی بھی کوئی حیثیت نہیں جو اسلامی امہ کا ڈھنڈورا پیٹ کر سال بھرمیں چند پھسپھسی سی کانفرنسوں کے علاوہ کچھ بھی کرنے کی اہل نہیں۔ایسی تنظیمیں ایک ڈھکوسلے سے بڑھ کر اور کچھ بھی نہیں ہوتیں۔ڈھکوسلا دکھاوے کو کہتے ہیں، دکھاوے اور دھوکے میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے میں مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ زندہ باد ، مردہ باد کے نعروں اورسوشل میڈیا پر لعنت ملامت میں وقت ضائع کرنے کی بجائے آنکھ کھول کر دیکھیے، منظر وہ نہیں جو آپ کو دکھائی دے رہا ہے۔اپنے اندر منظر بدلنے کی ہمت اور طاقت پیدا کیجیے۔