مقبول خبریں
مقبوضہ کشمیر کےعوام کو بھارتی چنگل سےنجات دلانے کیلئے برطانوی حکومت کردار ادا کرے:راجہ نجابت
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سے ملاقات
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
راجہ نجابت حسین کا مسئلہ کشمیر پر بحث میں حصہ لینے پر ارکان یورپی پارلیمنٹ کو خراج تحسین
جب ریت پہ لکھو گے محبت کی کہانی!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
انٹر نیشنل ہیومن رائٹس موؤمنٹ،تحریک حق خود ارادیت کے زیر اہتمام جنیوا پریس کلب میں سیمینار
جنیوا (محمد فیاض بشیر) اقوام متحدہ کے انسانی کونسل کا 42واں اجلاس،کشمیر میں بھارت کی جانب سے کرفیو،لاک ڈاؤن اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف بھرپور سرگرمیاں، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے باہر احتجاجی مظاہرہ اور کشمیر سیمینار کا انعقاد، انٹر نیشنل ہیومن رائٹس موؤمنٹ اور جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام جنیوا پریس کلب میں کشمیر سیمینار میں کشمیر اور پاکستان سمیت برطانیہ و یورپ کے علاوہ دیگر ممالک کے مندوبین کی شرکت۔ انسانی حقوق کونسل کے باہر احتجاجی مظاہرے میں کشمیر میں بھارتی بربریت اور مودی سرکار کے وحشیانہ اقدامات کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ جنیوا پریس کلب میں سیمینار میں کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے ظلم بربریت، کرفیو، لاک ڈاؤن اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو زیر بحث لایا گیا۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی سوئس پریس کلب جنیوا میں باز گشت سنائی دی۔کشمیر سیمینار کی صدارت کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹر نیشنل ریلیشنز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرالطاف حسین وانی نے کی۔ اس موقع کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر الطاف حسین وانی نے شرکاء کو کشمیر کی تازہ صورتحال، بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور کرفیو لاک ڈاؤن کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ الطاف حسین وانی نے کہا کہ دنیا کو محصور وادی کشمیر میں در پیش انسانیت سوز بحرانوں پر توجہ دیناہوگی۔طویل کرفیو کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء، ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔ بچوں کے کھانے کی قلت اور بیماریوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں پربھی زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کی امداد کیلئے مداخلت کریں۔ انہوں نے اقوام عالم سے اپیل کی کہ وہ بھارت پر دبؤ بڑھائیں کہ وہ کشمیر سے کرفیو ہٹائے اور عالمی مبصرین رفاعی اداروں کو کشمیر داخلے کی اجازت دے۔ اس موقع پر جموں و کشمیرتحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کے چیئرمین راجہ نجابت نے کہا کہ ان کی تنظیم یورپ اور دیگر ممالک میں کشمیریوں کے جائز حقوق کیلئے لابنگ جاری رکھے گی۔آج جنیوا میں اکٹھا ہونے کا مقصد بھی یہی کہ مل جل کر عالمی اداروں اور بڑے ممالک کو یہ باور کرایا جائے کہ وہ کشمیر کے حالات پر مداخلت کریں اور اقوام متحدہ سمیت بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دباؤ بڑھائیں۔ کشمیری گذشتہ 36روز سے مسلسل کرفیو میں ہیں۔ کشمیر میں لاک ڈاؤن ہے۔ اس کرفیو میں لاکھوں کی تعداد میں انڈین آرمی کی جانب سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں اور بربریت کا خدشہ ہے۔ راجہ نجابت حسین کہا کہ کہ ہم یورپ اور برطانیہ میں تمام کشمیری تنظیموں اور شخصیات سے مل کر کشمیری بہن بھائیوں کا مقدمہ لڑیں گے۔ کشمیر سیمینار میں متعدد مبصرین نے بھی کشمیر میں کرفیو کے شکار لوگوں کے ساتھ اپنی وابستگی اور یکجہتی کااظہار کیا۔ سکھ کمیونٹی کے رہنماء ماسٹر کرن سنگھ نے کشمیریوں کے غم میں شریک ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جلد ہی کشمیر بھارتی قبضہ سے آزادی حاصل کرے گا۔ انہوں نے زائرین کیلئے کرتار پورہ راہداری کے افتتاح پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کے فیصلے کی تعریف کی اور اس سلسلے میں بھارتی حکومت کی دلچسپی نہ ہونے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے ڈائریکٹر سردار امجد یوسف نے بیرون ملک مقیم کشمیریوں کے بڑھتے ہوئے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے 42ویں اجلاس میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے معاملے کو بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے گا۔انٹر نیشنل ہیومن رائٹس موؤمنٹ کے چیئرمین وانسانی حقوق کے کارکن رانا بشارت خان نے سیمینار میں شرکت پر تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور انہیں اس نازک موڑ پر کشمیری عوام کی آواز اٹھانے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی تاکید کی۔انہوں نے کہا کہ کشمیری مسلسل ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔ برطانیہ، یورپ اور دیگر ممالک میں مقیم کشمیری، پاکستانی کمیونٹی کی ذمہ داریوں اور فرائض میں مزید اضاٖفہ ہو گیا ہے۔ ہمیں اپنے مظلوم بہن بھائیوں کے لیے ہمہ وقت آواز بلند کرنا ہو گی۔سیمینار سے برطانوی کشمیری مساجد کونسل برسٹل کے صدر راجہ عارف خان، محمد اعظم، مشتاق احمد، چوہدری فیروز آفتاب، کونسلر چوہدری مبشر، راجہ اظہر الحق، لالہ عبد القدیر، پروفیسر شگفتہ اشرف، مرزا علیم شفیق، راسب کشمیری، حنا یونس اور دیگر نے کشمیر میں فوری کارروائی کرنے پر زور دیا اور لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کیلئے بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔کُل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما سید پرویز شاہ نے بھارت اور اس کے قابضانہ ایجنڈے پر تنقید کی اور کہا کہ بھارت کبھی بھی نہ دبنے والے کشمیریوں کی آواز کو دبانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔اس موقع پر انٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ(یوتھ فورم فار کشمیر)کے کارکنان بھی متحرک رہے۔کشمیر فورم فار یوتھ ایک غیر جانبداربین الاقوامی این جی او(INGO) ہے جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پُر امن حل کیلئے کوشاں ہے۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے آغاز پر ہی کونسل کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔احتجاجی مظاہرے میں حریت کانفرنس کے کنوینئر سید فیض نقشبندی، تحریک حق خود ارادیت کے چیئرمین راجہ نجابت حسین، حریت رہنماء ایڈووکیٹ پرویز احمد،انٹر نیشنل ہیومن رائٹس موؤمنٹ کے سربراہ رانا بشارت علی، حریت رہنماء سید پرویز شاہ،تحریک حق خود ارادیت کے سیکرٹری جنرل محمد اعظم، برطانیہ سے مساجد کونسل کے صدر راجہ عارف خان سمیت خواتین و حضرات کی بڑی تعداد شریک تھی۔مظاہرے میں شرکاء نے کشمیرکے جھنڈے اور بھارت کے کشمیر میں ظلم و ستم کے خلاف کتبے اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف نعرے درج تھے۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے کشمیر میں کرفیو، لاک ڈاؤن، بھارتی فورسز کی کاروائیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔