مقبول خبریں
مقبوضہ کشمیر کےعوام کو بھارتی چنگل سےنجات دلانے کیلئے برطانوی حکومت کردار ادا کرے:راجہ نجابت
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سے ملاقات
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
راجہ نجابت حسین کا مسئلہ کشمیر پر بحث میں حصہ لینے پر ارکان یورپی پارلیمنٹ کو خراج تحسین
جب ریت پہ لکھو گے محبت کی کہانی!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مودی سرکار کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور کرفیو کے خلاف مانچسٹر میں مظاہرہ
مانچسٹر (محمد فیاض بشیر)مودی سرکار نے صدارتی حکم نامے کے تحت جب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد وادی سری نگر میں کرفیو نافذ کیا ہوا ہے برطانیہ میں بسنے والی پاکستانی و کشمیری کمیونٹی سراپا احتجاج ہے اور ظلم و ستم بربریت اور بدترین انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف برطانوی اراکین پارلیمنٹ بھی انکے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔مانچسٹر کے وسط میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین پر مشتمل کشمیر گروپ کی چئیر پرسن ڈیبی ابراہم، ممبران برطانوی پارلیمنٹ جم میکمان، ٹونی لائیڈ، افضل خان، یاسمین قریشی نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر ڈیبی ابراہم کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں ہم برطانوی حکومت کے ساتھ عالمی طاقتوں پر بھی دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں ۔ان کا مذید کہنا تھا کہ یہ قانون کی بالادستی جمہوریت اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے انڈین حکومت کے اقدامات سے بھروسے کو ٹھیس پہنچی ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی بھی کی ہے۔ کشمیری عوام کی مرضی کے خلاف کوئ اقدام نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔ رکن برطانوی پارلیمنٹ افضل خان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر پچھلے پچیس دنوں سے کرفیو کی زد میں ہے ہم بھارت کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔رکن برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ کا کہنا تھا کہ بھارت میں دائیں بازوں کے لوگوں کی حکومت ہے مقبوضہ کشمیر میں کئ سالوں سے خواتین کی عصمت دری،نوجوانوں کو شروں کی رائفل سے اندھا کیا جا رہا ہے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ہم آزادی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے جمع ہیں۔ رکن برطانوی پارلیمنٹ یاسمین قریشی کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور عالم اقوام کا عام شہری اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں گے کہ اس مسئلہ بارے اقدامات اٹھائیں انکا مذید کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کو عالمی انسداد جرائم کی عدالت میں لیکر جانا چاہیے۔ کشمیر کی آزادی کے لیے سرگرم عظمت اے خان کا کہنا تھا کہ اب نعروں کا وقت گزر گیا ہمیں ملکر عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ مظاہرے میں شریک افراد نے اپنے جذبات و خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کے لیے اخر تک لڑیں گے مقبوضہ کشمیر میں قتل عام ہو رہا ہے اور دنیا کا کوئ ملک بھی کھل کر مدد نہیں کر رہا ۔شرکائے مظاہرین کا مذید کہنا تھا کہ اگر ہمارے اندر اسی طرح یکجہتی رہی تو دن دور نہیں کہ کشمیری قوم آزاد ہو جائے گی ۔مودی سرکار کو پتہ چل جائے گا کہ کشمیری قوم کو بہت دیر تک غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں کشمیر کے مظلوموں کا درد محسوس ہو رہا ہے تو پھر امت مسلمہ کو کیوں نہیں ہو رہا کیونکہ بھارت ایک دہشت گرد ملک ۔کشمیری قوم ایمان کی طاقت سے آزادی حاصل کرے گی۔ ہے انکا کہنا تھا کہ برطانیہ گریٹ بریٹن ہے تو انہیں اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھل کر کشمیری قوم کی حمایت کرنی چاہیے۔ ۔ مظاہرے میں شریک خواتین بچوں بزرگوں، علمائے دین ۔ سماجی تنظیموں کے نمائندگان دیگر کمیونیٹیز کے افراد نے کتبے اٹھائے ہوئے جن پر طرح طرح کے نعرے درج تھے اور سب ایک ہی مقصد کے لیے آئے تھے کہ کشمیر سے کرفیو ہٹایا جائے انسانی حقوق کو بحال کیا جائے اور کشمیری قوم کو انکا پیدائشی حق خود ارادیت دیا جائے۔