مقبول خبریں
مقبوضہ کشمیر کےعوام کو بھارتی چنگل سےنجات دلانے کیلئے برطانوی حکومت کردار ادا کرے:راجہ نجابت
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سے ملاقات
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
راجہ نجابت حسین کا مسئلہ کشمیر پر بحث میں حصہ لینے پر ارکان یورپی پارلیمنٹ کو خراج تحسین
جب ریت پہ لکھو گے محبت کی کہانی!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی پارلیمنٹ کے تعطل پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے علاوہ عوام کا شدید ردعمل
لندن(خصوصی رپورٹ: عمران راجہ) برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کے پارلیمان کو معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف ارکان پارلیمان اور بغیر معاہدے کے یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج یا نو ڈیل بریگزٹ کے مخالفین نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن سمیت متعدد شہروں میں ہزاروں افراد نے مظاہرے کیے اور اس اقدام کے خلاف درخواست پر چند گھنٹوں کے دوران دس لاکھ سے زیادہ افراد نے دستخط کیے۔ حکومت کا موقف ہے کہ ستمبر اور اکتوبر میں پانچ ہفتے کی معطلی کے باوجود بریگزٹ ڈیل ہر بحث کرنے کے لیے وقت مل جائے گا تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ارکانِ پارلیمان کو نو ڈیل بریگزٹ کو ناکام بنانے سے روکنے کی غیر جمہوری کوشش ہے۔ ملکۂ برطانیہ نے بدھ کو وزیر اعظم بورس جانسن کے پارلیمان کو معطل کرنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔ امکان یہی ہے کہ دس ستمبر کو پارلیمان کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا جائے گا اور اسے 14 اکتوبر تک دوبارہ نہیں بلایا جا سکے گا اور اس وقت برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کی ڈیڈ لائن میں صرف 17 دن باقی رہ جائیں گے۔ اس بارے میں برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کے لیے ایسا کرنا اہم ہے تاکہ وہ ملک کے لیے شاندار ایجنڈا تیار کر سکیں۔ ان کا اصرار ہے کہ وہ نئی قانون سازی متعارف کروانا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم جانسن نے کہا کہ 14 اکتوبر کو ملکۂ برطانیہ کی تقریر ان کے انتہائی دلچسپ ایجنڈے کے خدوخال بیان کرے گی۔