مقبول خبریں
مقبوضہ کشمیر کےعوام کو بھارتی چنگل سےنجات دلانے کیلئے برطانوی حکومت کردار ادا کرے:راجہ نجابت
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سے ملاقات
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
راجہ نجابت حسین کا مسئلہ کشمیر پر بحث میں حصہ لینے پر ارکان یورپی پارلیمنٹ کو خراج تحسین
جب ریت پہ لکھو گے محبت کی کہانی!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وہ جو آنکھ تھی وہ اجڑ گئی ،وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے
مظفر نگر اتر پردیش سے منتخب ہونے والے ایم ایل اے مسٹر وکرم سیانی نے اپنی ایک حالیہ تقریر میںکم ظرفی، تنگ نظری اور انتہا پسندی کا جو بھیانک ترین نمونہ پیش کیا ہے، شاید اس زمانہ جدید میں اس کی دوسری مثال آسانی سے دستیاب نہ ہو سکے۔ انہوں نے بی جے پی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے نہایت پرجوش انداز میں بتایا کہ آرٹیکل370اور35Aکے خاتمے کے بعد بھارت کے ہندو نوجوانوں کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ انہیں کشمیر کی گوری چٹی لڑکیاں بھی مل سکیں گی اور وہاں کی زمین بھی۔ انہوں نے ہوا میں مکا لہراتے ہوئے فرمایا، ’ ہمارے کنوارے نوجوانوں کو اب مکمل آزادی ہے کہ وہ کشمیر جاکر لڑکیاں بھی پسند کریں اور زمین بھی۔ اس سے پہلے کشمیری لڑکیوں پر بہت ظلم ہورہا تھا کہ ہمارے نوجوانوں کی ان تک رسائی نہیں تھی۔‘ جب میڈیا والوں نے انہیں احساس دلایا کہ آپ نے انتہائی نازیبا بات کی ہے تو وکرم سیانی نے دانت نکالتے ہوئے کہا ’’ میں نے کچھ بھی غلط نہیں کہا۔ سارا ملک کشمیر میں مودی سرکار کی طرف سے کی جانے والی اس تبدیلی پر جشن منا رہا ہے۔ ہمارے نوجوان خوش ہیں کہ کشمیر کا حسن اب ان کے لیے خواب نہیں رہے گا۔ـ‘‘واضح رہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے انتظامی ڈھانچے میں کی جانے والی تبدیلی کے حوالے سے منعقدہ ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے پہلے ہی قابض بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بدترین استحصال کا شکار تھے،کام کاروبار، عزت اور عصمت کچھ بھی محفوظ نہیں تھا، اب مذکورہ تبدیلی کے بعدانہیں بربادی کی ایک ایسی رات دکھائی دے رہی ہے جس کی صبح ہونے میں شائد کئی دہائیاں بیت جائیں۔مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل مزید کیا قدم اٹھائے گی، کون کون سے ممالک اس صورت حال میں پاکستان کے ہم نوا ہوں گے اور کن کن ممالک کی طرف سے سردمہری کا اظہار ہوگا، ان سب باتوں سے قطع نظر سب سے اہم بات یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی اور مودی سرکار کے خوفناک عزائم کو دنیا کے ہر فورم پر نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ یہ بات بھی تسلیم کر لی گئی کہ کشمیر کسی طور بھی بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں اور اس بات کا بھی اعتراف ہوگیا کہ کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے جسے بہر حال کسی نہ کسی صورت حل کیا جانا چاہیے۔اگر سیاسی پسند ناپسند سے بالا تر ہو کر اور ایک متحد قومی سوچ کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ کشمیر کے حوالے سے موجودہ منظر نامہ پاکستان کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔بھاتی سیاسی سورمائوں کا خیال تھا کہ سیکیورٹی کونسل میں پیش ہوتے ہی مقبوضہ کشمیر میں پیش کی جانے والی پاکستانی درخواست کو بیک جنبش قلم یہ کہ کر رد کر دیا جائے گا کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور بھارتی حکومت کی مرضی ہے انتظامی حوالوں سے اپنے علاقے میں جو تبدیلی چاہے کرلے، کسی کو اعتراض کا کوئی اختیار نہیں۔ لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہوسکا۔یقینا موجودہ صورت حال مودی سرکار کے لیے فکرمندی اور پریشانی کا باعث ہوگی۔ اس فکرمندی اور پریشانی کا اظہار گذشتہ کئی روز سے لائین آف کنٹرول پر بھارت کی بلا اشتعال اور بلاسبب گولہ باری سے ہورہا ہے جس کے نتیجے میں ہماری شہری آبادی میں بہت سا جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے ’ سپیشل اسٹیٹس‘ کو ختم کرنے کے لیے آرٹیکل 370اور 35Aکی منسوخی پر مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے جو بھرپور احتجاج کیا، دنیا بھر میں اس احتجاج کو بھی بہت اہمیت دی جارہی ہے۔مختلف ٹی وی چینلز اور اخبارات کے نمائیندے اس احتجاج کی کوریج کے لیے ، وادی کشمیر میں موجود ہیں۔ ہر طرف سے ایک جیسی رپورٹ آرہی ہے کہ وہاں مسلسل کرفیو کے باعث خوراک اور ادویات کا شدید بحران ہے۔ بیمار وں کو ہسپتالوں تک لے جانے کو کوئی ذریعہ موجود نہیں، سکول کالج اور دیگر تعلیمی ادارے تو دور کی بات بچوں کے لیے دودھ کی دکانیں تک بند ہیں۔موبائل فون، انٹرنیٹ،ٹی وی سمیت باہر کی دنیا سے رابطے کا کوئی وسیلہ موجود نہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ صورت حال کب تک جاری رہے گی۔شاید مودی سرکار اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ بھوک اور بیماری سے تنگ آکر کشمیری اپنے احتجاج سے دستبردار ہوجائیں گے اور یوں بھارتی نوجوانوں کے لیے اس جنت بے نظیر میں فاتحین کی طرح داخل ہوکر مال غنیمت میں وہاں کی لڑکیوں اور جائیدادوں پر قابض ہونا آسان ہوجائے گا۔ ابھی دو چار روز پہلے TRT WORLD میں ثمرین مشتاق نام کی ایک کشمیری خاتون کا ایک مضمون شائع ہوا ۔ یہ خاتون نئی دہلی میں مقیم ہیں اور ریسرچ کے شعبے سے منسلک ہیں۔ثمرین نے لکھا، آج اگست کی 8تاریخ ہے۔ میں ٹوئیٹر اور واٹس ایپ کی مدد سے مسلسل اس کوشش میں ہوں کہ مجھے کشمیر میں اپنے لوگوں کی کوئی خبر مل سکے لیکن ہر راستہ اندھیری گلی لگتا ہے۔کچھ پتہ نہیں لگ رہا کہ کیا ہونے جارہا ہے۔ تاہم مجھے یہ دیکھ کر رونا آگیا کہ ٹوئٹر اور واٹس ایپ سمیت بھارت میں استعمال کیے جانے والے تمام سوشل میڈیا ٹولز پر ہر طرف بھارتی نوجوانوں کے پیغامات کی بھرمار ہے جس میں وہ کشمیری لڑکیوں کو مخاطب کرکے کہہ رہے ہیں، ’جلدی آئو۔ ہم تمہارے لیے بے قرار ہیں۔ ‘ثمرین مشتاق کا یہ بھی کہنا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے میں انڈین گوگل سرچ بار پر جو جملہ سب سے زیادہ لکھا گیا وہ یہ تھا، ’خوبصورت کشمیری لڑکیاں‘۔یعنی یہ کہ سارے کے سارے ہندو نوجوان ایک ہی کام پر لگے ہوئے ہیں، پرستان میں پریاں ڈھونڈ رہے ہیں۔ ایک طرف کشمیریوں کی سرپرست ہونے کی دعویدار اور دوسری طرف کشمیر کی بیٹیوں کا بیوپار کرنے کو تیار مودی سرکار کا اگلا قدم کیا ہوگا، کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ہر طرف بے یقینی میں لپٹی خوف کی ایک عجیب سی فضا ہے۔اس سے بڑی انسانی حقوق کی پامالی اور کیا ہوگی کہ انسانوں سے ان کے خواب تک چھین لیے جائیں بلکہ خواب دیکھنے والی آنکھوں کو ہی پیلیٹ گنز کی گولیوں سے چھلنی کردیا جائے۔الجزیرہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عید قربان سے محض ایک روز پہلے سری نگر کے علاقے بمینا میںایک چودہ سالہ معصوم بچہ اپنے گھر کے سامنے قربانی کے لیے پالے جانے دنبے کو چرا رہا تھا۔ اسی دوران دو تین جیپوں پر مشتمل بھارتی فوجیوں کا ایک قافلہ وہاں سے گذرا۔ ایک گاڑی سے اس معصوم پر پیلیٹ گن سے چہرے کا نشانہ لے کرفائرنگ کردی گئی، اس بچے کے گھر والے اسے لے کر قریبی ہسپتال روانہ ہوئے تو راستے میں ایک فوجی چوکی پر انہیں روک لیا گیا۔ بچہ درد اور تکلیف سے چلاتا رہا لیکن بے رحم بھارتی فوجیوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ہسپتال تک پہنچنے میں بہت دیر ہوگئی۔ ڈاکٹروں نے ایکسرے اور سی ٹی سکین کیا تو معلوم ہوا کہ پیلیٹ گن کی گولیوں نے اس کے دماغ کو چھلنی کردیا تھا اور وہ کچھ ہی دیر کا مہمان ہے۔اس طرح کے واقعات مقبوضہ کشمیر میں معمول کا حصہ ہیں۔بھارتی فوجی عام طور پر بارہ سے پچیس برس کے نوجوانوں کو اپنے ایسے وحشیانہ سلوک کا نشانہ بناتے ہیں۔شاید ان کا خیال ہے کہ کشمیریوں کی نئی نسل کو نقصان پہنچائے بغیر تحریک آزادی ء کشمیر کو کچلنا ممکن نہیں ہوگا۔بھارتی فوجی اور مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی جو داستان رقم کر رہے ہیں ، وہ یقینا اپنی جگہ قابل مذمت ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم پر ہمارے مسلمان ممالک کی مجرمانہ خاموشی بھی کچھ کم قابل مذمت نہیں۔مسلمان ممالک کی حالت اس وقت ریوڑ میں شامل بھیڑ بکریوں جیسی ہے جن کی آنکھوں کے سامنے بھیڑیا کسی ایک بھیڑ یا بکری کو اٹھا لے جاتا ہے اور انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ اگلا نمبر ان کا پنا بھی ہوسکتا ہے۔