مقبول خبریں
سیاسی ،سماجی کمیونٹی شخصیت بابو لالہ علی اصغر کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بارے میٹنگ کا انعقاد
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کا کشمیر پٹیشن پر دستخطی مہم کا آغاز ،10ستمبر کو پیش کی جائیگی
کافر کو جو مل جائے وہ کشمیر نہیں ہے!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھارتی حکومت کا کشمیر کوحصوں میں تقسیم کرنا قابل مذمت ہے:ممبر برطانوی پارلیمنٹ لزمیگننز
راچڈیل (محمد فیاض بشیر)کیسل مییر سنٹر راچڈیل میں پاکستانی و کشمیری کمیونٹی ایسوسی ایشن نے بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف ایک احتجاجی تقریب کا انعقاد کیا جس میں ممبر برطانوی پارلیمنٹ و شیڈو وزیر جنوبی ایشیا لز میگننز،ٹونی لائیڈ،ممبر یورپین پارلیمنٹ جولی وارڈ کشمیری راہنمائوں اور بین المذاہب کمیونیٹیز کے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ممبر برطانوی پارلیمنٹ لز میگننز کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے کشمیری قیادت سے بات چیت کیے بغیر یکطرفہ اقدامات اٹھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے بھارتی حکومت کا اس اقدام سے خطہ میں افراتفری بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ خطہ کے اندر صورتحال بارے جاننے میں مشکل پیش آ رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ لیبر پارٹی کشمیری قوم کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتی ہے اور کشمیریوں کی خصوصی شناخت کے لیے ہر ممکن مدد کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کا کشمیر کو دو الگ حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ قابل مذمت ہے ہم اپوزیشن میں رہ کر برطانوی حکومت پر دباؤ ڈالیں گے بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنا انتہائی اقدام ہے چین اور دنیا کے دیگر ممالک نے بھی اسکی مذمت کی ہے ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے آفس جا کر خارجہ امور کے شیڈو سٹاف کے ساتھ خصوصی میٹنگ کا انعقاد کر کے ہم بات چیت کر کے لائحہ عمل تیار کریں گے اور برطانوی پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپنی تجاویز پیش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی صورتحال پچھلے دو ہفتوں سے بدتر ہے ہم اب مذید ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر انتظار نہیں کر سکتے۔ تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کے چئیرمن راجہ نجابت حسین کا کہنا تھا ہم برطانوی اراکین پارلیمنٹ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے موسم گرما کی تعطیلات کے باوجود حکومتی ذمہ داران کو کشمیر کی موجودہ انتہائی کشیدہ صورتحال بارے خط لکھے اور آئندہ بھی ہماری معاونت کرنے کا وعدہ کیا ۔ان کا مذید کہنا تھا میری پاکستانی و کشمیری کمیونٹی سے اپیل ہے کہ وہ اپنے حلقہ انتخاب کے ممبران پارلیمنٹ سے رابط کریں اور کشمیر کی صورتحال بارے اقدام اٹھانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ راچڈیل کونسل کے لیڈر ایلن بریٹ کا کہنا تھا کہ ہم نے راچڈیل کونسل میں کشمیر کے اندر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کے پیدائشی حق خود ارادیت بارے قراداد منظور کی ہوئ ہے۔ ڈپٹی مئیر راچڈیل کونسلر عاصم رشید کا کہنا تھا کشمیری قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اپنے پارلیمنٹیرین کے ساتھ ملکر تقریب کا انعقاد کیا ہے۔ بھارت کی جانب سے کشمیری عوام سے پوچھے بغیر آرٹیکل 370 کی منسوخی پر دنیا اسکی بھرپور مذمت کر رہی ہے ۔ان کا مذید کہنا تھا کہ ہم انڈین حکومت کو باور کروانا چاہتے ہیں کہ وہ کشمیری قوم کو انکا پیدائشی حق خود ارادیت تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ سابق مئیر کونسلر محمد زمان کا کہنا تھا کہ طاقت کے زور پر کسی کو دبایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی اس سے مسائل حل ہوتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ کشمیری کمیونٹی کو آگے بڑھ کر مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں بارے عالمی سطح پر آواز اٹھائیں اور باور کروائیں کے اس بارے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ کشمیری راہنما عظمت اے خان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی عوام کو اپنے مظلوم بہن بھائیوں جو کے پابند سلاسل ہیں کے لیے آواز اٹھائیں انکے لیے ہم نے لڑنا ہے آگے مشکل وقت آنے والا ہے آزاد کشمیر کے لوگوں کو اسکے لیے اٹھنا ہو گا۔ تقریب میں شریک افراد نے برطانوی ممبران پارلیمنٹ سے برطانیہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر اٹھائے جانے اقدامات بارے سوالات بھی کیے۔ شرکائے تقریب نے کشمیری قوم سے مکمل اظہار یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔