مقبول خبریں
سیاسی ،سماجی کمیونٹی شخصیت بابو لالہ علی اصغر کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بارے میٹنگ کا انعقاد
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کا کشمیر پٹیشن پر دستخطی مہم کا آغاز ،10ستمبر کو پیش کی جائیگی
کافر کو جو مل جائے وہ کشمیر نہیں ہے!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
عالمی مبصرین کو کشمیر جانے کی اجازت ،برطانوی پارلیمنٹ میں بحث و مباحثہ ہونا چاہیے: جم میکمان
اولڈہم (محمد فیاض بشیر)بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آزاد حیثیت شق 370 اور 35a کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تبدیل کر کے مقبوضہ کشمیر کو بھارتی یونین کا حصہ بنانے اور انسانی حقوق کی بدترین کھلم کھلا خلاف ورزیوں میں شدت ، برطانیہ کی اس نازک ترین صورتحال میں کردار اور عملی اقدامات اٹھانے بارے اکیڈمی آف سائنس ،ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سنٹر اولڈہم میں خیبر پختون خواہ حکومت کے نمائندہ خصوصی برائے تعلیم تارکین وطن سید باسط شاہ مشوانی نے میٹنگ کا انعقاد کیا۔ ممبر برطانوی پارلیمنٹ جم میکمان ،قونصلیٹ آف پاکستان مانچسٹر میں تعینات کمیونٹی ویلفیئر اتاشی مسز فضہ نیازی ،مقامی کونسلرز، سیاسی سماجی اور کمیونٹی کی چیدہ چیدہ شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر ممبر برطانوی پارلیمنٹ جم میکمان نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ کے آل پارٹیز کشمیر پارلیمانی گروپ کئ سالوں سے کام کر رہا ہے لیکن خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔ بھارت تواتر سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے اب دنیا اس سے چشم پوشی نہیں کر سکتی۔ بین الاقوامی طاقتوں اور سیاسی راہنماؤں نے اس بارے مداخلت نہیں کی ۔ انہوں نے مذید کہا کہ بھارتی حکومت جو کشمیری لوگوں کے ساتھ سلوک کر رہی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اس بارے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے اقوام متحدہ کی رپورٹ بھی شائع ہو چکی ہے۔ان کا کہنا کہ عالمی مبصرین کو کشمیر میں جانے دیا جائے برطانوی پارلیمنٹ کے اندر اس بارے بحث و مباحثہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دو ایٹمی طاقتیں ہیں کشیدگی پیدا ہونے سے اسکے اثرات عالمی سطح پر پڑھیں گے۔ کشمیر کے اندر لوگوں کی روزمرہ کی زندگی متاثر ہو رہی ہے اسکو بدلنے کی ضرورت ہے۔ کونسلر عتیق الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم رکن برطانوی پارلیمنٹ جم میکمان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے ہر سطح پر آواز اٹھائیں گے۔ کونسلر شاہد مشتاق نے کہا کہ اس وقت کشمیر میں سب سے بڑا مسئلہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا ہے ۔ بھارت میں جمہوری روایات کے تحت انتخابات ہوئے اور اب کشمیر میں غیر جمہوری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ہم سب کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ چوہدری محمد نواز نے کہا کہ بین الاقوامی کمیونٹی کو اس بارے آواز اٹھانی چاہیے اگر آج کشمیری قوم کے ساتھ یہ ہو رہا ہے تو کل کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہم کشمیریوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کھڑے ہیں اور ہر طرح کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ میٹنگ کے میزبان سید باسط شاہ مشوانی کا کہنا تھا کہ اکٹھے ہونے کا مقصد ہے کہ بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام جائے کہ ہم مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہیں صرف باتوں سے نہیں عملی اقدامات بھی اٹھائیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ حکومت پاکستان نے بھارت سے ہر سطح پر تعلقات ختم کر کے اچھا اقدام اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف کشمیریوں کا نہیں بلکہ بین الاقوامی کمیونٹی کا مسئلہ ہے اور بین الاقوامی کمیونٹی کی مداخلت وقت کی ضرورت ہے۔ میٹنگ میں شریک افراد نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر کشمیر کے مسئلہ پر یک آواز ہو کر آواز اٹھائ جائے گی تاکہ عالمی سطح پر ٹھوس پیغام پہنچ سکے اور عالمی طاقتیں مداخلت کر کے بھارت پر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بند کرنے بارے دباؤ ڈال سکیں۔