مقبول خبریں
کونسلر شکیل احمد تیسری بار لیبر پارٹی کی طرف سے مئی 2020ء کے لئے امیدوار نامزد
کشمیر کی حیثیت میں یکطرفہ بھارتی تبدیلی جنوبی ایشیا میں خطرناک بگاڑکا باعث ہوگی
پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری محمد رضا کی زیر صدارت عہدیداران و کارکنان کا اجلاس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
پروفیٹک گفٹس ویڈنگ اینڈ ایونٹس آرگنائزر کے زیر اہتمام ایشین ویڈنگ اینڈ پلانرز ایونٹ کا انعقاد
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
پکچرگیلری
Advertisement
کافر کو جو مل جائے وہ کشمیر نہیں ہے!!!!!!!!!!
چند روز پہلے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مجبور اور نہتے لوگوں پر جس بے رحمی اور بے دردی سے کلسٹر بموں کی بارش برسائی، دنیا بھر میں ابھی تک اس کے خلاف مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔انگریزی زبان میں کلسٹر بموں کے لیے Cluster Munitionsکی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔دنیا میں اس انتہائی مہلک ہتھیار کا استعمال پہلی بار جنگ عظیم دوم میں کیا گیا تھا اور اس وقت جو کلسٹر بم استعمال ہوا تھا اس کا نام SD-2 German تھا۔ان بموں کو مزید سفاک اور مہلک بنانے کے لیے امریکا، روس اور اٹلی نے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے تجربات کیے اور اس وقت ایسے کلسٹر بم بھی موجود ہیں جن میں سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹے بم موجود ہوتے ہیں۔سیدھے سادے عام الفاظ میں، کلسٹر بم کو ایک ایسے کنٹینر سے تشبیہ دی جاسکتی ہے جو انواع و اقسام کے چھوٹے بڑے بموں سے بھرا ہوتا ہے۔ یہ بم عام طور پر انسانوں اور گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان بموں کی ہولناکی کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کلسٹر بم کسی بھی علاقے میں گرنے کے بعد فوری طور پر لامحدود قسم کے جانی و مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں لیکن اس سے بھی خوفناک بات یہ کہ بہت سے بم فوری طور پر پھٹنے کی بجائے زمین میں دھنس جاتے ہیں یا بعض صورتوں میں ندی نالوں اور دریائوں کے پانی میں بھی غرق ہوجاتے ہیں ، کچھ عرصے بعد موسمی حالات و تغیرات کے زیر اثر ان بموں کو تحریک ملتی ہے اور ان کے اس صورت میں پھٹنے سے اتنا نقصان ہوتا ہے جتنا زمانہ جنگ میں ان کے پھٹنے سے نہیں ہوتا۔آپ نے عراق اور افغانستان کے بارے میں بارہا پڑھا ہوگا کہ زمین میں دبا ہوا کوئی بم اچانک پھٹ گیا اور اس سے بے پناہ جانی نقصان ہوا۔حالت جنگ میں لوگ ہر طرح کے حالات کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد زندگی نارمل ہوجاتی ہے، لوگ اتنے چوکس اور چوکنا نہیں رہتے، ایسے میں کلسٹر بموں کی باقیات بدترین نقصان کا سبب بنتی ہیں۔ان بموں کو فائر کریکرز، پاپ کارن شیلز اور بٹر فلائی بموں کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔مئی 2008میں آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میںکلسٹر بموں کے استعمال کو روکنے کے لیے مختلف ممالک کا ایک مشترکہ اجلاس ہوا جس میں ان بموں کے استعمال کے حوالے سے قانون سازی پر بات کی گئی۔اس اجلاس کوConvention on Cluster Munitionکا نام دیا گیا۔یکم اگست2010کو 30کے لگ بھگ ممالک نے کلسٹر بموں کے استعمال کے حوالے سے ایک ضابطے کے مسودے پر دستخط کیے، اپریل 2018تک اس قانون سازی کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد 120 تک پہنچ گئی۔قصہ مختصر یہ کہ دنیا کے اکثرو بیشتر ممالک نے کلسٹر بموں کے استعمال کی نہ صرف مذمت کی بلکہ ان کے استعمال کی روک تھام کے لیے اپنے مکمل تعاون پر بھی آمادگی ظاہر کردیا۔آج کلسٹر بموں کے استعمال کو انسانی حقوق کی بدترین پامالی شمار کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں بہت سی تنظیمیں اس ہتھیار کی تیاری کو سرے سے بین کرنے کی مہم بھی چلارہی ہیں۔ اسی لیے گزشتہ دنوں بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے بے بس شہریوں پر کی جانے والی کلسٹر بموں کی بارش پر دنیا بھر کی امن پسند تنظیموں نے شدید احتجاج بھی کیا اور عالمی طاقتوں سے مطالبہ بھی کہ بھارت کو اس طرح کے ظلم سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔دفاعی امور کے بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو عراق، شام اور افغانستان کی طرح ایک اجاڑ بیابان ویرانے میں بدلنے کا جو منصوبہ بنا رکھا ہے ، یہ اس کی پہلی کڑی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کے حالیہ دورہ امریکا کے موقعے پر، صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے، معاملے کے حل کے لیے خود کو ثالث کے طور پر پیش کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ بھارتی وزیر اعظم مسٹر مودی بھی ماضی میں ان سے مسئلہ کشمیر میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی درخواست کر چکے ہیں۔صدر ٹرمپ کی اس حق بیانی نے مسٹر مودی کے لیے سیاسی طور پر ایک بھونچال کھڑا کردیا۔ ان کے سیاسی مخالفین انہیں بزدل، ڈرپوک اور منافق کے القابات سے نوازنے لگے۔وہاں کی اسمبلی میں بھی اپوزیشن نے اچھا خاصہ ہنگامہ کیا۔مجبور ہوکر مودی صاحب کو بیک فٹ پر آنا پڑا۔ انہوں نے صاف انکار کردیا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے کسی بھی قسم کی ثالثی کی خواہش کا اظہار نہیں کیا ہے۔انہوں نے اس بات کو بھی دہرایا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور ہم اسے کسی طور بھی خود سے الگ نہیں ہونے دیں گے۔لیکن اس بیان کے باوجود مسٹر مودی کی پوزیشن غیر متنازعہ نہیں ہوسکی۔ اب اپنی قوم کو اس بات کا یقین دلانے کے لیے کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے سامنے کشمیر کو ایک مسئلہ تسلیم کیا ہے اور یہ کہ ان سے ثالثی کی درخواست کی ہے، مسٹر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی انتظامی حیثیت کو ہی مکمل طور پر تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام شروع کردیا۔اس سلسلے کی پہلی کڑی یہ کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل370اور 35Aکے خاتمے کا اعلان کردیا گیا۔ ان دونوں آرٹیکل کے خاتمے سے مقبوضہ کشمیر کو حاصل نیم خود مختار حیثیت ختم ہوجائے گی۔راجیہ سبھا میں بات کرتے ہوئے، وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ اب مقبوضہ جموں کشمیر مرکز کے زیر انتظام ایک الگ خطہ بنے کا اور ہم اس ریاست کی تشکیل نو کریں گے۔ آرٹیکل 35Aکے تحت مقبوضہ ریاست جموں کشمیر میں غیر منقولہ جائداد کی خرید و فروخت، سرکاری وظائف اور سرکاری ملازمتوں کا حصول اور ریاستی اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کا حق صرف اور صرف وہاں کے مقامی باشندوں کو حاصل تھا۔جبکہ آرٹیکل 370کے تحت مقبوضہ ریاست میں دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے علاوہ بہت سے دوسرے شعبوں میں کسی بھی قسم کی قانون سازی کے لیے بھارتی حکومت وہاں کی قانون ساز اسمبلی کی محتاج اور مرہون منت رہتی تھی۔ مقبوضہ کشمیر کی علاقائی اور مقامی سیاسی قیادت کا کہنا ہے کہ دفعہ370کا خاتمہ ریاست جموں کشمیر اور لداخ کے عوام کے ساتھ ایک سنگین نا انصافی ہے۔سابق وزیر اعلی جموں کشمیر محبوبہ مفتی نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی یہ ناانصافی تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اس طرح کی یک طرفہ کارروائی غاصب بھارتی فوجی دستوں کو ہماری ریاست میں قانونی حیثیت دینے کا باعث ٹھہرے گی۔ واضح رہے کہ ان دفعات کی منسوخی کے بعد جموں کشمیر کے داخلی امر مقامی وزیر اعلیٰ کی بجائے مرکزی وزیر داخلہ کے ماتحت ہوجائیں گے اور ان معاملات کو ایک لیفٹیننٹ جنرل کی سربراہی میں چلایا جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتخابی منشور میں عوام سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ریاست جموں کشمیر کو بھارت کا ایک قانونی حصہ بنانے کے لیے آئین کی مذکورہ دفعات کو موقعہ ملتے ہی ختم کردیا جائے گا۔ ریاست جموں کشمیر میں مودی سرکار کی اس مکارانہ چال پر پرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔عوامی غیض وغضب سے بچنے کے لیے مودی سرکار کی ہدایت پر علاقے میں مکمل کرفیو ہے، تعلیمی ادارے، دفاتر ، بازار اور ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہیں۔قابض بھارتی فوجی اپنے لامحدود اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جس کو چاہتے ہیں دہشت گرد قرار دے کر گولیوں سے بھون دیتے ہیں۔ایک اطلاع کے مطابق صدر ٹرمپ کی طرف سے ثالثی کی پیشکش کے بعد مقبوضہ ریاست جموں کشمیر میں بھاتی فوجیوں کے ہاتھوں مقامی لوگوں کے قتل عام اور عورتوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کا گراف اتنی تیزی سے اوپر کی طرف گیا ہے جس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔وہاں کے تمام نمایاں اور سرکردہ سیاسی قائدین کو جیلوں میں بھر دیا گیا ہے، اکثر علاقوں میں خوراک اور ادویات کی بدترین قلت دیکھنے میں آرہی ہے۔ایسی صورت حال میں ایک بڑی ذمے داری بہر حال صدر ٹرمپ پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور ان بے بس کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھائیں جن کے لیے مودی سرکار نے ہری بھری زندگی کو جہنم بنادیا ہے۔ویسے ذمے داری تو بہت سے مسلمان ممالک پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ محض احتجاجی اجلاس منعقد کرنے اور مذمتوں کی قرار دایں پیش کرنے کی بجائے کوئی عملی قدم اٹھائیں۔ان مسلمان ممالک کے پاس ہر طرح کی قوت ہے، ہر طرح کے وسائل ہیں ، اگر فقدان ہے تو نیت، ارادے اور اس شعور کا جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو اتحاد کی سمت لے جاتا ہے۔تاہم امید افزاء سچائی یہ بھی ہے کہ مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں کوئی کھڑا ہو یا نا کھڑا ہو، پاکستان بہر حال ہر صورت میں کشمیریوں کی اخلاقی اور سیاسی مدد کے لیے ہر لمحے موجود ہے۔بھارت بہت جلد اس غلط فہمی سے بھی نکل آئے گا کہ آئین میں الٹی سیدھی غیر قانونی تبدیلیاں کشمیریوں کو اپنے حقوق کی جنگ لڑنے سے کبھی نہیں روک سکتیں۔ کشمیر صرف اور صرف کشمیریوں کا ہے، کشمیر کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے۔