مقبول خبریں
سیاسی ،سماجی کمیونٹی شخصیت بابو لالہ علی اصغر کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بارے میٹنگ کا انعقاد
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کا کشمیر پٹیشن پر دستخطی مہم کا آغاز ،10ستمبر کو پیش کی جائیگی
کافر کو جو مل جائے وہ کشمیر نہیں ہے!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
لندن (کشمیر لنک نیوز) مسئلہ کشمیر بارے تازہ ترین صورتحال پربالآخر عالمی اخبارات نے بھی اپنے صفحات پر آگاہی دینی شروع کردی ہے، برطانوی اخبارات کے بعد اب معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی تازہ ترین اشاعت میں سرورق پر مسئلہ کشمیر کی سنگینی کا ذکر کیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے مقبوضہ وادی میں احتجاج کی نئی لہر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی حیثیت بدلنے کے بعد پوری وادی میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں اور یہ کشمیریوں کو دیوار سے لگانے کا نتیجہ ہے۔امریکی روزنامے نے سری نگر میں خواتین کے احتجاج کی تصاویر کو سرورق پر جگہ دی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں افراد کرفیو توڑ کر نماز جمعہ کے بعد سری نگر کے علاقے سعورا میں سڑکوں پر نکل آئے اور قابض بھارتی حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ اس دوران قابض فوج نے ایوا پل پر مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل اور گولیاں فائر کیں جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ یاد رہے کہ 5 اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت صدارتی حکمنامے کے ذریعے ختم کردی تھی۔ اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی تعداد اس وقت 9 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے وادی بھر میں کرفیو نافذ ہے، ٹیلی فون، انٹرنیٹ سروسز بند ہیں، کئی بڑے اخبارات بھی شائع نہیں ہورہے۔