مقبول خبریں
کونسلر شکیل احمد تیسری بار لیبر پارٹی کی طرف سے مئی 2020ء کے لئے امیدوار نامزد
کشمیر کی حیثیت میں یکطرفہ بھارتی تبدیلی جنوبی ایشیا میں خطرناک بگاڑکا باعث ہوگی
پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری محمد رضا کی زیر صدارت عہدیداران و کارکنان کا اجلاس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
پروفیٹک گفٹس ویڈنگ اینڈ ایونٹس آرگنائزر کے زیر اہتمام ایشین ویڈنگ اینڈ پلانرز ایونٹ کا انعقاد
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیر کے لوگ تب سے کشیدہ صورتحال میں ہیں جب میرے دادا جوان تھے: ملالہ یوسف زئی
لندن (کشمیر لنک نیوز) نوبل انعام یافتہ پاکستانی خاتون ملالہ یوسف زئی نے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی صورتحال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے عالمی برادری اور متعلقہ حکام پر مسئلہ کشمیر حل کرنے اور کشمیریوں کی مشکلات دور کرنے پر زور دیا ہے۔ملالہ یوسف زئی نے سوشل میڈیا ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ کشمیر کے لوگ تب سے کشیدہ صورتحال میں ہیں جب میں چھوٹی تھی، میرے والد، والدہ چھوٹے تھے حتی کہ میرے دادا دادی جوان تھے۔ سات دہائیوں سے کشمیر کے بچے صرف تشدد کے بیچ پروان چڑھ رہے ہیں۔انہوں نے دو صفحات پر مشتمل اپنے بیان میں مزید لکھا کہ "مجھے کشمیر کی پرواہ ہے کیونکہ جنوبی ایشیا میرا گھر ہے جسے میں بشمول کشمیریوں کے ایک ارب 80 کروڑ عوام کے ساتھ شیئر کرتی ہوں۔ملالہ لکھتی ہیں کہ ہم سب مختلف مذاہب، ثقافت و روایات، زبانیں اور رہن سہن کی نمائندگی کرتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم سب امن سے رہ سکتے ہیں۔نوبیل انعام یافتہ ملالہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت پر لکھا کہ "مجھے کشمیری عورتوں اور بچوں کے غیرمحفوظ ہونے پر تشویش ہے، انہیں کشیدہ حالات میں سب سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ملالہ یوسف زئی نے اپنے پیغام میں تمام جنوبی ایشا کے لوگوں، بین الاقوامی برادری اور متعلقہ حکام سے امید کا اظہار کیا کہ وہ کشمیریوں کی مشکلات دور کرنے کے لیے اقدام کریں گے۔انہوں نے مزید لکھا کہ جو بھی اختلاف ہیں ان سب کے برعکس ہمیں ہمیشہ انسانی حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے اور بچوں اور خواتین کی حفاظت کو ترجیح دینا چاہیے۔ملالہ یوسف زئی نے اپنے پیغام کے آخر میں سات دہائیوں پرانے مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے پر زور دیا۔