مقبول خبریں
کونسلر شکیل احمد تیسری بار لیبر پارٹی کی طرف سے مئی 2020ء کے لئے امیدوار نامزد
کشمیر کی حیثیت میں یکطرفہ بھارتی تبدیلی جنوبی ایشیا میں خطرناک بگاڑکا باعث ہوگی
پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری محمد رضا کی زیر صدارت عہدیداران و کارکنان کا اجلاس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
پروفیٹک گفٹس ویڈنگ اینڈ ایونٹس آرگنائزر کے زیر اہتمام ایشین ویڈنگ اینڈ پلانرز ایونٹ کا انعقاد
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیر بزور شمشیر ؟؟؟؟؟؟
وادی کشمیر کی خوبصورتی کا تذکرہ تو بہت ہو چکا لیکن آج بات صرف موجودہ صورتحال کی جائے گی،کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ساٹھ یا ستر اسلامی ممالک اور ان کی افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف صاحب اب تک مذمتی بیان تو ریکارڈ کروا چکے ہیں لیکن فرنٹ فُٹ پر کھیلنے کیلئے آپ کو دبنگ قسم کی لیڈر شپ کی ضرورت ہوتی ہے،یہ کام بھی قدرت نے پاکستان کے حصے میں لکھا اور عمران خان اور فوجی قیادت نے ایک پیج پر رہتے ہوئے بھارت کے ساتھ ایگریسو موڈ میں بات کی،ویسے تو مہاتیر محمد،طیب اردگان اور ایسے بہت سے لیڈران بیانات تو دے رہے ہیں کہ بھارت کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا لیکن بھارت کے ہائی کمشنر کو گھر واپس بھیجنے کا اعزاز بھی پاکستان کو ہی حاصل ہوا،انڈیا کو اس موقع پر شَٹ اَپ کال دینی فرض عین کی حیثیت کر چکی تھی،آ ج جس کا ردِ عمل یہ ہوا کہ بھارتی لیڈران کی زبان کافی بدل چکی ہے،اب وہ میڈیا پر یہ بیان دینے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ ہم پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنا چاہتے ہیں،پاکستان مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں پوری دنیا کے سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا ہے،سمجھوتہ ایکسپریس کو بھی معطل کر دیا گیا ہے،اب رہا سوال کہ کشمیر کو بزور شمشیر لیا جا سکتا ہے یا نہیں،میرے خیال میں یہ ممکن نہیں،پاکستان نے اب تک جو اقدامات کئے وہ شمشیر سے زیادہ موثر ہیں،کشمیر کے لوگ اس وقت ریاستی دہشتگردی کا سامنا کر رہے ہیں بس اب وہ کرفیو کے ہٹنے کا انتظار کر رہے ہیں اور پھر احتجاج کا بھرپور سلسلہ شروع ہو گا اور عالمی دنیا دیکھے گی کہ بغیر شمشیر کس طرح بھارت کے غاصبانہ قبضے کو للکارا جاتا ہے،اب ایک نیا کشمیر دیکھنے کو ملے گا،بھارت نے پارلیمنٹ کا سہارا لے کر کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کو ختم نہیں کیا بلکہ اپنے گھٹیا پن سے پردہ اٹھایا ہے،وہ وقت دور نہیں جب یہ ظلم ختم ہو گا اورکشمیر جنت نظیر کو آزادی ملے گی۔