مقبول خبریں
سیاسی ،سماجی کمیونٹی شخصیت بابو لالہ علی اصغر کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بارے میٹنگ کا انعقاد
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کا کشمیر پٹیشن پر دستخطی مہم کا آغاز ،10ستمبر کو پیش کی جائیگی
کافر کو جو مل جائے وہ کشمیر نہیں ہے!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیر بزور شمشیر ؟؟؟؟؟؟
وادی کشمیر کی خوبصورتی کا تذکرہ تو بہت ہو چکا لیکن آج بات صرف موجودہ صورتحال کی جائے گی،کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ساٹھ یا ستر اسلامی ممالک اور ان کی افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف صاحب اب تک مذمتی بیان تو ریکارڈ کروا چکے ہیں لیکن فرنٹ فُٹ پر کھیلنے کیلئے آپ کو دبنگ قسم کی لیڈر شپ کی ضرورت ہوتی ہے،یہ کام بھی قدرت نے پاکستان کے حصے میں لکھا اور عمران خان اور فوجی قیادت نے ایک پیج پر رہتے ہوئے بھارت کے ساتھ ایگریسو موڈ میں بات کی،ویسے تو مہاتیر محمد،طیب اردگان اور ایسے بہت سے لیڈران بیانات تو دے رہے ہیں کہ بھارت کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا لیکن بھارت کے ہائی کمشنر کو گھر واپس بھیجنے کا اعزاز بھی پاکستان کو ہی حاصل ہوا،انڈیا کو اس موقع پر شَٹ اَپ کال دینی فرض عین کی حیثیت کر چکی تھی،آ ج جس کا ردِ عمل یہ ہوا کہ بھارتی لیڈران کی زبان کافی بدل چکی ہے،اب وہ میڈیا پر یہ بیان دینے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ ہم پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنا چاہتے ہیں،پاکستان مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں پوری دنیا کے سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا ہے،سمجھوتہ ایکسپریس کو بھی معطل کر دیا گیا ہے،اب رہا سوال کہ کشمیر کو بزور شمشیر لیا جا سکتا ہے یا نہیں،میرے خیال میں یہ ممکن نہیں،پاکستان نے اب تک جو اقدامات کئے وہ شمشیر سے زیادہ موثر ہیں،کشمیر کے لوگ اس وقت ریاستی دہشتگردی کا سامنا کر رہے ہیں بس اب وہ کرفیو کے ہٹنے کا انتظار کر رہے ہیں اور پھر احتجاج کا بھرپور سلسلہ شروع ہو گا اور عالمی دنیا دیکھے گی کہ بغیر شمشیر کس طرح بھارت کے غاصبانہ قبضے کو للکارا جاتا ہے،اب ایک نیا کشمیر دیکھنے کو ملے گا،بھارت نے پارلیمنٹ کا سہارا لے کر کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کو ختم نہیں کیا بلکہ اپنے گھٹیا پن سے پردہ اٹھایا ہے،وہ وقت دور نہیں جب یہ ظلم ختم ہو گا اورکشمیر جنت نظیر کو آزادی ملے گی۔