مقبول خبریں
اکیڈمی آف سائنس،ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ اولڈہم کی سالانہ تقسیم اسناد تقریب کا انعقاد
کشمیر یوم سیاہ کے حوالے سے پاکستان ہائی کمیشن لندن میں سیمینار، بھارتی مظالم کی پرزور مذمت
دعوت اسلامی برمنگھم کے زیر اہتمام خراب موسم کے باوجودجشن عید میلاد النبیؐ کا جلوس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میلاد النبی کی تقریبات منعقد کر کے اللہ کریم کے شکر گزار ہیں کہ اس نے مومنوں پر احسان فرمایا
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
یاسمین ڈار کا لیبر پارٹی لیڈر جیریمی کوربن کے ساتھ مل کر انتخابی مہم کا آغاز
یہ رنگ جو مہکے تو ہوا پھول بنے گی!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان کشمیر میں بھارت کی ’’آبادیاتی دہشت گردی‘‘ کے جواب میں کیا کرسکتا ہے
پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کے جواب میں بہت کچھ کر سکتا ہے اگر وہ سنجیدہ ہو اور بھارت کے ساتھ اس معاملے میں اُس کی ’’انڈرسٹینڈنگ‘‘ نہ ہو۔ آجتک مسلئہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی کشمیر پرپالیسی اپنی مفاداتی سیاست کے گرد ہی گھومتی دکھائی دیتی ہے۔ اس مسلئہ کے حل کی جانب کبھی درست راستے کا تعین ہی نہیں کیا گیا بلکہ اسے ’’زندہ‘‘ رکھنے کی ہی کوششیں کیں جاتیں رہیں تاکہ اپنے مفادات کو حاصل کیا جاسکے۔ قائداعظم کے پرائیوٹ سیکرٹری اور قیام پاکستان میں اُن کے معاون جناب کے ایچ خورشید وہ واحد کشمیری لیڈر تھے جنہوں نے مسلئہ کشمیر کے حل کے لیئے پاکستان کو انتہائی مثبت اور قابلِ عمل تجاویز دیں اور مطالبہ کیا تھا کہ مظفرآباد کی حکومت کو پورے کشمیر کی نمائندہ حکومت کے طور پر تسلیم کیا جائے اور اپنے دوست ممالک سے بھی اسے تسلیم کروایا جائے تاکہ بین الاقوامی طور پر اس حکومت کے سفارت خانے قائم ہوں اور یہ حکومت دنیا کے سامنے خود اپنا کیس رکھے لیکن پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو یہ بات منظور نہیں تھی اور کچھ آزاد کشمیر کے سیاسی لیڈروں نے انہیں یہ باور کروایا کہ اس کے بعد خورشید پاکستان کی وازرتِ عظمیٰ کے خواب دیکھے گا۔ یہی وہ واحد راستہ تھا جو کشمیر کی آزادی کے سفر کو مختصر کرسکتا تھا۔ اس کے بعد آزاد کشمیر میں سب سے بڑی غلطی یہ کی گئی کہ ریاستی جماعتوں کا گلہ گھونٹ دیا گیا اور پاکستانی سیاسی جماعتوں کے چیپٹر وہاں کھول دیے گئے۔اس سے اقتدار کی رسہ کشی اور برادری ازم کو کھل کھینے کا موقع ملا اور مسلئہ کشمیر کے حل کے اصل راستے سے لوگوں کو بھٹکا دیا گیا۔ کل پارلینمٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک موقع پر وزیر اعظم عمران خان میاں شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’’سب کچھ تو کیا ہے، بتائیں کیا کروں۔ کیا حملہ کر دوں ہندوستان پر‘‘۔ تو عرض یہ ہے جناب وزیر اعظم آپ کو بھارت پر حملہ کرنے کی ضرورت نہیں آپ اگر کر سکتے ہیں تو صرف یہی کیجئے کہ جناب کے ایچ خورشید کے ویژن کے مطابق مظفرآباد کی حکومت کو پورے کشمیر کی نمائندہ حکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کردیں آپ اسٹیبلشمنٹ کو یہ باور کرواسکتے ہیں کہ کے ایچ خورشید تو اب اس دنیا میں نہیں رہے اس لیئے پاکستان کی وزارتِ عظمیٰ تو اب ’’خطرے‘‘میں نہیں ہے۔ دوسرا کام یہ کرسکتے ہیں کہ آزاد کشمیر سے پاکستانی سیاسی جماعتوں کے چیپٹر مرحلہ وار ختم کردیں۔ اس سے خالصتاً کشمیری قیادت کو آگے آنے کا موقع ملے گا اور وہ دنیا بھر میں اپنے سفارتی تعلق کی بنا پر مسلئہ کشمیر پیش کرسکیں گے۔ جناب وزیر اعظم کیا آپ بھارتی اقدامات کے جواب میں یہ کرسکتے ہیں۔۔۔؟