مقبول خبریں
سیاسی ،سماجی کمیونٹی شخصیت بابو لالہ علی اصغر کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بارے میٹنگ کا انعقاد
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کا کشمیر پٹیشن پر دستخطی مہم کا آغاز ،10ستمبر کو پیش کی جائیگی
کافر کو جو مل جائے وہ کشمیر نہیں ہے!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
صدر پی پی سی یو کےگریٹر مانچسٹر ماجد نذیر کے بیٹے امان کوگریجویشن کی ڈگری ملنے پرتقریب
راچڈیل (محمد فیاض بشیر)برطانوی معاشرے میں ذہنی و جسمانی طور پر معذور افراد کے لیے تعلیم کے میدان سے لیکر دیگر شعبہ جات میں آگے بڑھنے کے مواقع برابری کی سطح پر بہم موجود ہیں اور حکومت اس ضمن میں ایسے افراد کی ہر طرح کی مدد میں مکمل معاونت فراہم کرتی ہے ۔ ایشیائی خاندان کے افراد بھی اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے میں کوئ دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے اس کی زندہ مثال راچڈیل کے رہائشی امان ماجد کی ہے جنہوں نے اپنی جسمانی معذوری کو اپنی طاقت بنا کر والدین اور خاندان کے دیگر افراد کی مدد اور حوصلہ افزائی سے بولٹن یونیورسٹی سے میڈیا میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کر کے دوسروں کے لیے قابل تقلید بن گئے ۔ مقامی ہال میں امان ماجد کے والدین نے اپنے بیٹے کی گریجویشن امتیازی نمبروں سے پاس ہونے کی خوشی میں تقریب کا انعقاد کیا جس میں خاندان بھر کے افراد اور قریبی رفقا نے شرکت کی۔ اس موقع پر امان ماجد کا کہنا تھا کہ انہوں نے دوران تعلیم کلاس کے اندر اور باہر کے ماحول سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ان کا مذید کہنا تھا کہ دوران تعلیم ہر مشکل مرحلے پر والدین کا تعاون حاصل رہا انکے کردار کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے قابل رشک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے آپ معذور ہیں یا پھر صحت مند اگر محنت لگن اور آگے بڑھنے کا جذبہ آپکے اندر ہے تو زندگی میں کچھ بھی حاصل کرنا ناممکن نہیں ہے۔ والد ماجد نذیر کا کہنا تھا کہ میری ان والدین سے جن کے بچے ذہنی وجسمانی معذوری کا شکار ہیں کہ جسطرح ہم نے اپنے دونوں جسمانی طور پر معذور بچوں کو ہر طرح کی سہولت مہیا کی تاکہ انہیں یہ احساس نہ ہو کہ انکی معذوری کی وجہ سے انکے ساتھ مثبت رویہ نہیں اپنایا جا رہا ہے اسی طرح آپ بھی اپنے معذور بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیم کے لیے تمام تر وسائل کو بروئے کار لائیں یقین کریں یہ بچے ذہنی طور پو مکمل صحتیاب بچوں سے زیادہ ذہین ہوتے ہیں میرا پیغام ہے کہ معذور بچوں کو معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیے انہیں ہر طرح کی سہولت فراہم کریں اور انکی حوصلہ افزائی میں بھی کمی نہ چھوڑیں یہ ایسا کارنامہ سر انجام دیں گے جس سے آپکے سر فخر سے بلند ہو جائیں گے۔ امان کی والدہ غزالہ ماجد ،نانا محمد صادق نانی ، دادا دادی، چچاؤں نے بھی امان ماجد کی ہمت و جرات اور میڈیا میں گریجویشن مکمل کرنے کو خاندان کے لیے سرمایہ حیات قرار دیا اور کہا کہ ہمارے سر فخر سے بلند ہو گئے ہیں۔ گریجویشن کی اس تقریب میں شریک قریبی رفقا اور امان ماجد کے ساتھ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے دوسرے طالبعلموں اور لیکچرار نے بھی امان ماجد کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔