مقبول خبریں
کونسلر شکیل احمد تیسری بار لیبر پارٹی کی طرف سے مئی 2020ء کے لئے امیدوار نامزد
کشمیر کی حیثیت میں یکطرفہ بھارتی تبدیلی جنوبی ایشیا میں خطرناک بگاڑکا باعث ہوگی
پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری محمد رضا کی زیر صدارت عہدیداران و کارکنان کا اجلاس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
پروفیٹک گفٹس ویڈنگ اینڈ ایونٹس آرگنائزر کے زیر اہتمام ایشین ویڈنگ اینڈ پلانرز ایونٹ کا انعقاد
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
پکچرگیلری
Advertisement
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
کمر سے ڈھلکتی ہوئی سبز رنگ کی ساڑھی، چہرے کو اوٹ میں لیے ہوئے لمبے لمبے سیاہ بال اور ہونٹوں پر سجی معصوم سی مسکراہٹ،یہ کسی فلمی اداکارہ کا تذکرہ نہیں ہورہا، یہ اس نامعلوم لڑکی کا قصہ ہے جس کی تلاش میں آج بھارتی سیکیورٹی ادارے در در کی خاک چھانتے پھر رہے ہیں، ہر افسر اسی کے بارے میں فکرمند دکھائی دیتا ہے، ہر طرف ایک ہی شور ہے،وہ لڑکی کہاں گئی، اسکو ڈھونڈو، اس کو پکڑو۔یہ داستان ہے کیپٹن انیکا چوپڑا کی جس نے گذشتہ پندرہ ماہ میں تین سے زائد فوجی اہلکاروں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسایا اور ان سے حساس معلومات سمیٹ کر رفو چکر ہوگئی۔لطیفے کی بات یہ کہ را اور دیگر بھارتی انٹیلی جنس ادارے ایک طرف اس لڑکی کو نامعلوم قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف اسے کسی بھی تصدیق کے بغیر آئی ایس آئی کا ایجنٹ بھی ٹھہرایا جارہا ہے۔دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مذکورہ نامعلوم لڑکی کی ان تمام بے وقوف بھارتی فوجی اہلکاروں سے اس لڑکی کی کبھی بھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی، وہ اس کی محبت کے اسیر فیس بک اور واٹس ایپ پر آویزاں اس کی ڈسپلے پکچر کو دیکھ کر ہوئے۔اس گمنام حسینہ کی ان دیکھی زلفوں کے اسیر ہونے والوں میں ضلع مہندر گڑھ کے رویندر کمار یادیو، روہتک کے سمویر سنگھ اور سونی پت کے گوروو کمارجی شامل ہیں۔اس لڑکی نے ان تینوں احمقوں سے اپنا تعارف کیپٹن انیکا چوپڑا کے طور پر کرایا تھا۔ رابطے کے لیے وہ زیادہ تر واٹس ایپ نمبر استعمال کرتی تھی اور وہ نمبر بھی بھارت میں رجسٹرڈ تھا۔ کیپٹن انیکا کے شکار ان تینوں فوجی اہلکاروں کے بنک اکائونٹ میں مختلف اوقات میں معمولی درجے کی رقوم بھی بھیجی گئیں جس سے اندازہ ہوا کہ بھارتی فوجی اپنے معاشی حالات کے ہاتھوں اتنے تنگ ہیں کہ چھوٹی چھوٹی رقموں پر بک جاتے ہیں۔یہ اپریل 2018 کی بات ہے جب گروو کمار نام کے ایک نوجوان کو اپنی مشکوک حرکات کے سبب روہتک پولیس گرفتار کر کے انویسٹی گیشن سنٹر لائی۔ اس نوجوان کو ایک سے زائد بار فوجی بھرتی کے دفتروں میں آتے جاتے دیکھا گیا تھا۔مبینہ تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ یہ نوجوان مذکورہ بھرتی دفاتر کی لوکیشن اور ان کے اندر کے ماحول کے بارے میں کیپٹن انیکا کو واٹس ایپ پر پعلومات فراہم کرتا تھا۔یہ 23سالہ نوجوان تب سے روہتک کی سونیریا جیل میں قید ہے۔ اس گرفتاری کے کوئی ڈیڑھ ماہ بعدنرنول پولیس نے 10جولائی کو سڑک کنارے ایک ڈھابے سے ایک اور فوجی ملازم رویندر یا کماردیو کو حراست میں لیا، اس نوجوان پر بھی الزام ہے کہ اس نے کیپٹن انیکا سے بہت سی حساس معلومات کی شیئرنگ کی تھی۔ فیس بک حسینہ کیپٹن انیکا کے دام محبت میں پھنسنے والے تیسرے فوجی جوان کا نام سمویر سنگھ ہے جو اپنی گرفتاری سے پہلے راجھستان کی ایک آرمڈ کور میں تعینات تھا۔سمویر سنگھ اس وقت جئے پور جیل میں پابند سلاسل کیپٹن انیکا چوپڑا کے خواب دیکھ کر اپنے دن پورے کر رہا ہے۔ جانے وہ لڑکی کون تھی، کہاں سے آئی اور کہاں کو چلی گئی، یہ بات کوئی نہیں جانتا لیکن بھارتی تحقیقاتی اداروں نے اس نام نہاد سچائی کو ضرور کھود لیا ہے کہ وہ آئی ایس آئی کی ایجنٹ تھی۔گرفتار ہونے والوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ مذکورہ لڑکی سے بارہا انہوں نے اپنی انتہائی ذاتی نوعیت کی تصاویر بھی شیئر کیں اور جواب میں اس لڑکی نے بھی انہیں اپنی ناقابل تذکرہ قسم کی تصاویر سے نوازا لیکن بدقسمتی سے کسی بھی تصویر میں لڑکی کا چہرہ واضح نہیں تھا۔تاہم پکڑے جانے والوں نے امکانی طور پر یہی جواب دیا کہ ہم نے چہرے پر کچھ زیادہ توجہ نہیں کی۔نرنول پولیس کے ڈی ایس پی مسٹر ونود کمار نے میڈیا کو بتایا کہ ہم نے نہایت جدوجہد کے بعد یہ بات معلوم کر لی ہے کہ لڑکی کا فیس بک اکائونٹ بھی جعلی تھا اور واٹس ایپ آئی ڈی بھی فرضی۔یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ بھارتی فوج اور پولیس کے تمام تحقیقاتی ادارے دن رات کی جدوجہد کے بعد اب تک صرف دو باتیں معلوم کر سکے کہ لڑکی کی فیس بک اور واٹس ایپ آئی ڈی جعلی تھی اور یہ کہ وہ لڑکی آئی ایس آئی کی ایجنٹ تھی۔سوال کرنے والے یہ سوال ضرور کریں گے کہ جس لڑکی کی سوشل میڈیا آئی ڈی بھی فرضی تھی، جس کی بھیجی تصاویر بھی واضح نہیں تھیں اور جس کی کسی بھی شکار سے بالمشافہ ملاقات بھی نہیں ہوئی اس کے بارے میں یہ کیسے معلوم ہوا کہ وہ آئی ایس آئی کی ایجنٹ تھی۔اگر بھارتی تحقیقاتی اداروں کا یہ کہنا سچ بھی ہے کہ وہ لڑکی آئی ایس آئی کی ایجنٹ تھی، تب بھی آئی ایس آئی کی کارکردگی کو سلیوٹ کرنے کو دل کرتا ہے۔یہاں ایک اور دلچسپ بات یہ کہ جولائی 2019میں بھارتی میڈیا کیپٹن انیکا نام کی جس لڑکی کے بارے میں خبر دے رہا ہے کہ اس نے تین فوجی اہلکاروں کو اپنے جال میں پھنسا کر اہم اور حساس معلومات پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی کو منتقل کردیں، جنوری 2019 میں اسی لڑکی کے بارے میں بھارتی اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ اس پاکستانی ایجنٹ نے 50سے زائد بھارتی فوجیوں کو اپنی جھوٹی محبت کے دام میں گرفتار کر لیا۔ ان سے مختلف فوجی کیمپوں کے بارے میں حساس معلومات حاصل کیں اور پاکستان منتقل کردیں۔یعنی یہ کہ سال ڈیڑھ سال ایک لڑکی اپنی تصویر کے بل بوتے پر ساری بھارتی فوج کو بے وقوف بناتی رہی لیکن کوئی انٹیلی جنس ایجنسی اسے ٹریس کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ واقفان حال بخوبی آشنا ہیں کہ اس طرح کی فرضی کہانیوں کا بھارتی میڈیا میں آنا کوئی نئی بات نہیں۔تاہم جب سے بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو گرفتار ہوا اور اسے پاکستانی عدالت نے بے گناہ پاکستانیوں کے قتل کی منصوبی بندی کے جرم میں سزائے موت سنائی، اس طرح کی بوگس کہانی نویسی کا سلسلہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا۔ایسی من گھڑت داستانیں سنا کر بھارت شاید دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ خرابی میں پہل پاکستان کی طرف سے ہوتی ہے، ہم نے تو کلبھوشن کو جوابی حملے کے لیے بھیجا تھا۔ آئی ایس آئی اور پاکستان مخالف اس طرح کے بے بنیاد اور ڈرامے رچانے میں ہمارے جنم جنم کے ہمسائے بھارت کو ایک خاص مہارت حاصل ہے اور سچ پوچھیں تو بھارت کا یہ عمل کچھ غلط بھی نہیں۔یہ انسانی فطرت ہے کہ جسے ہم طاقت ور سمجھتے ہیں، اپنے لیے خطرہ جانتے ہیں، اسے کمزور کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کرتے رہتے ہیں، بھارت کی طرف سے پاکستان کے لیے مدتوں سے ایسا ہی کیا جارہا ہے، کبھی ممبئی دھماکے تو کبھی پٹھان کوٹ واقعہ، اپریل 2017میں بھی اسی طرح کا ایک ڈرامہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب دبئی سے کھٹمنڈو جانے والی ایک پرواز نے نئی دلی ائرپورٹ پر کچھ دیر کو قیام کیا۔مسافر امیگریشن کائونٹر پر پہنچا اور زور زور سے چلانے لگا، ’ میں آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہوں لیکن میں اب اس کام سے تھک چکا ہوں۔میں اب آئی ایس آئی کے ساتھ کام نہیں کروں گا۔ مجھے بچائو، مجھے بچائو۔ ‘ معلوم نہیں اس سب کے بعد کیا ہوا لیکن را کی چھتری تلے پلنے بڑھنے والے کچھ میڈیا ہائوسز نے دلی ائرپورٹ پر ہونے والے اس شور ھنگامے کی رپورٹنگ بڑے بھرپور انداز میں کرکے اپنی روزی ضرور حلال کرلی۔ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے ایسی ناپختہ کاروائیوں سے ایک طرف ان ایجنسیوں کی استعداد کار پر لوگوں کو انگلی اٹھانے کا موقعہ ملتا ہے تو دوسری طرف اس خیال کو بھی مزید تقویت ملتی ہے کہ بے شمار مسائل اور اقتصادی رکاوٹوں کے باوجود بھی کارکردگی کے اعتبار سے آئی ایس آئی دنیا کی چند بہترین ایجنسیوں میں شمار ہوتی ہے۔ امکانی طور پر بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا اگلا نشانہ پاکستان کی طرف سے شروع کیا جانے والا کرتارپور راہداری منصوبہ ہوگا۔ سرحد کے اس پار آباد ل سکھ برادری کے لاکھوں افرادکے لیے گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور ہمیشہ سے مرکز نگاہ رہا ہے۔پاکستان نے ان کی اس گوردوارے تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے کرتار پور راہداری منصوبے کا آغاز کیا جس کی تکمیل بابا گرونانک کے 550ویں جنم دن کی تقریبات سے پہلے ہوجائے گی۔کرتاپور راہداری سرحد کے اس پار آباد سکھ برادری کے لیے گوردوارہ دربار صاحب تک رسائی کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ، پاکستان سے ان کی محبت اور قربت میں بھی اضافے کا باعث ہوگی۔ سکھ بھارت میں اقلیت ہیں اور ان کو بھی وہاں اسی بدسلوکی کا سامنا ہے جو وہاں کی تمام اقلیتوں کا مقدر ہے۔ پاکستان کا ان سے حسن سلوک یقینا بھارت میں آباد انتہا پسند ہندو ٹولے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اسی لیے اندیشہ ہے کہ کوئی نہ کوئی کلبھوشن یادیو کرتار پور رائداری کو ثبوتاژ کرنے کے لیے کہیں نہ کہیں کسی منصوبہ بندی میں ضرور مصروف ہوگا۔ لیکن ایک اچھی بات یہ کہ آئیندہ کوئی بھی بھارتی جاسوس پاکستان کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے، عالمی عدالت انصاف کے اس حالیہ فیصلے کو ضرور پیش نظر رکھے گا جس میں عدالت نے کمانڈر کلبھوشن نامی را کے ایجنٹ کو رہائی دلوانے کی بھارتی درخواست کو بیک جنبش قلم رد کر دیا۔