مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ کی منڈی میں پاکستان کے آموں کی مانگ بلندیوں کو چھونے لگی:پاکستانی تاجر
مانچسٹر(محمد فیاض بشیر)گرمی شروع ہوکر اپنے جوبن تک پہنچ جائے اور پھلوں کا بادشاہ آم مارکیٹ میں نظر نہ آئے یہ بھلا کیسے ممکن ھوسکتا ھے۔برطانیہ اور یورپ کے دیگر ممالک میں پاکستانی مینگوں کی ڈیمانڈ دن بدن بڑھ رھی ھے۔کیونکہ پاکستان کے آم دوسرے ملکوں دلفریب اور اپنی نوعیت کا علحیدہ پھل ھے اسکی مٹھاس ذائقہ بھی دنیا کے اموں سے علحیدہ ھے اس لیے یورپین افریکن دیگر براعظم کے افراد پاکستانی آم کو پسند اور ذوق سے کھاتے ،ملک شیک لسی،اور دیگر غذائی کھانوں میں استعمال کرتے ہیں۔گریٹر مانچسٹر کے مختلف شہروں کا دورہ کیاتو مقامی تجارتی منڈیوں میں کام اور بزنس کرنے والے،چوہدری خالد محمود،چوہدری پرویز احمد،سید گلزار یزدانی،اوردیگر پاکستانیوں کا کہنا تھا کہا کہ پاکستان کے اموں کی قسمیں تقریبا 250سے ذیادہ ھے۔اور پاکستان میں ام کو پیدا کرنے اور برآمدات کا جدید فارمولے استعمال کرنے اور دنیا کے ساتھ مسلسل راوبط بڑھانے کے ضرورت پر زور دیا۔اور کہا کہ پاکستانی ام برطانیہ اور یورپ میں لوگوں کا پاکستانی ام کے بارے میں کہا کہ اگر حکومت وقت اموں کو صیح طریقہ سے برآمدات کرنے کی پالیسی بنائے، اورپاکستانی تاجروں کو سہولیات فراھم کر ئے ۔اور موسم کے ساتھ صیح وقت پر فروخت کیا جائے ،تو یقیناً پاکستان کا زدمبادلہ پہلے سے کہی گناہ ذیادہ ھو جائے گا۔انہون نے مذید کہا کہ پاکستانی آموں میں اللہ تعالی کی طرف سے مٹھاس اور ذائقہ قدرتی ھے۔کھانے والہ پاکستانی آم کو ہی دوبارہ پسند اور خریدے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا میں جہاں پاکستانی سفارت کار موجود ھے وہ پاکستان کے سفیر ھے وہ بین اقوامی سطع پر پاکستان کی تجارت کو بڑھانے میں مؤثر اقدام کرکے پاکستان کے زرمبادلہ بڑھاسکتے ھے ۔اس سے پاکستان کے امیج دنیا میں اجاگر کرنے میں پش رفت ھوگئ۔انہوں نے کہا کہ رواں سیزن میں سندھ کے باغات میں پھلوں کے بادشاہ آم کی کئی اقسام پک کر تیار ہوچکی ہیں جبکہ پنجاب سندھ کے باغات میں بھی آم کی کئی قسمیں برداشت کے لیے تیار ہیں۔اس مرتبہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث خلاف توقع آم پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں شاذونادر ہی دکھائی دے رہاہے ۔لیکن اسکے باوجود برآمد کنندگان پھلوں کے بادشاہ کو برآمد کرنے کے لیے تیار رھتے ہیں ۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں ام پک کے تیار ھوتے ھی بیرون ملک بھج رھے ھے تاکہ ام کی تیاری کے بعد فوراً دوسرے ملکوں میں پہنچ جائے۔تاکہ اموں کاانتظار کرنے والوں کو پاکستانی ام وقت پر ملے۔تاکہ وہ اپنے وطن کے ساتھ محبت یکیہت انداز مناسکے، ۔آل پاکستان ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق رواں سیزن میں پھلوں کے بادشاہ آم کی برآمدات کا آغاز 20 مئی کواغاز جردیا گیا۔آل پاکستان ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے راھنما کا کہنا تھا کہ اسں سیزن میں لگ بھگ ایک لاکھ ٹن آم برآمد ہوگا۔ ملک میں آم کی پیداوارکی اوسطا شرح 18 لاکھ ٹن رہی ہے۔ تاہم اس سال موسمی تبدیلی کی وجہ سے پیداوار میں 30 فیصد کمی کا سامنا ہے۔وحید احمد کے مطابق سندھ اور پنجاب میں بارشوں سے آم کی پیداوار 12 لاکھ ٹن رہنے کی امید ہے۔انہوں نے مےڈےا کو بتاےا کہ گذشتہ سال 75 ہزار ٹن آم برآمد کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ رواں سیزن میں ایک لاکھ ٹن آم کی برآمد سےملک کو 8 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہونے کی توقع ہے۔ایسویش کےعہدار کے مطابق پاکستان سے زیادہ تر آم سمندری راستے سے برآمد کیا جاتا ہے۔زمینی راستے سے آم کی برآمد کا حصہ 15 فیصد اور فضائی راستے سے 15 فیصد ہے۔ یوں سمندری راستے سے آم کی برآمدات کا حصہ 70 فیصد ہے۔