مقبول خبریں
اولڈہم کے مقامی ہوٹل ہال میں باغیچہ سجانے کی تقسیم انعامات کی تقریب
پاکستان اور بھارت میں واقعی برابری کہاں ؟ ایک طرف محبت دوسری طرف نفرت
پاکستانی نژاد پیشہ ورانہ ماہرین اور طلبہ جہاں بھی ہوں اقدار کی پاسداری کریں: نفیس زکریا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
قومی برطانوی انتخابات میں کشمیر دوست امیدواران کو ووٹ دینے بارے آگاہی میٹنگ
سہمے ہوئے لوگوںسے بھی خائف ہے زمانہ
پکچرگیلری
Advertisement
میرے سارے خواب سمندر جیسے ہیں
ظہار رائے کی آزادی یقینا بہت بڑی نعمت ہے اور پاکستان میں تو ویسے بھی اس نعمت کی ہر طرف بہتات دکھائی دیتی ہے لیکن اظہار رائے کی آزادی کے نام پر جو کچھ منہ میں آئے بکتے چلے جانا، بہر حال ایک بڑی زیادتی ہے۔میں آج تک یہ بات نہیں سمجھ سکا کہ پاکستان کے بارے میں لکھنے اور بولنے والے نام نہاد تجزیہ کار یہ خواہش کیوں رکھتے ہیں کہ پاکستان آرمی اور اس سے منسلک اداروں میں ہر طرح کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر ان سے پوچھ کر ان کی مرضی کے مطابق کی جائے۔فوج کسی بھی محاذ کی طرف قدم بڑھائے تو ان سے پوچھ کر بڑھائے اور یہ کہ آئی ایس آئی ملکی تحفظ اور سلامتی کے لیے جو بھی منصوبہ بنائے پہلے ریڈیو ٹی وی کے ذریعے قوم کے ساتھ شئیر کرے اور پھر ان تجزیہ کاروں سے میٹنگ کے بعد معاملات کو حتمی شکل دی جائے۔ صرف غیر ملکی ہی نہیں ، ہمارے اپنے ملک کے بہت سے دفاعی تجزیہ نگاروں، کالم نگاروں، ٹی وی اینکرز اور مقررین کی گفتگو میں بھی یہی خواہش دبی چھپی دکھائی دیتی ہے۔ اس طرح کی توقع سی آئی اے، موساد، خاد، ایم آئی سکس را اور دیگر ایجنسیوں سے کیوں نہیں کی جاتی۔ اس قسم کی مداخلت کی خواہش صرف آئی ایس آئی کے معاملات تک ہی محدود کیوں ہے۔ کیا اس طرح کا تجزیاتی ڈھنڈورا کبھی سی آئی اے اور را چیف کی تبدیلی پر بھی پیٹا جاتا ہے جیسا آئی ایس آئی چیف کی تبدیلی پر پیٹا جارہا ہے۔ بعض مرتبہ ان خود ساختہ نام نہاد تجزیہ کاروں کی حالت کرکٹ پویلین میں بیٹھے ان تماشائیوں جیسی لگتی ہے جو ہر شارٹ کے بعد مشورہ دیتے نظر آتے ہیں کہ اس گیند کو آگے بڑھ کر ہٹ لگانی تھی اور اس کیچ کو دائیں جھک کر ڈائیوو مار کر پکڑنا چاہیے تھا۔عملی طور پر ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ وکٹ پر کھڑے ہوکرایک گیند کا سامنا کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ ابھی حال ہی میں بھارت سے جاری ہونے والے ایک اخبار دی پرنٹ میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں عائشہ صدیقہ نام کی مضمون نگار نے یہ ثابت کرنے کے لیے اپنا ہر ممکن زور لگالیا کہ نئے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی تقرری دراصل آرمی چیف جنرل باجوہ کی ذاتی دلچسپی اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔مضمون نگار نے دنیا کو یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ نئے آئی ایس آئی چیف ماضی میں چند سیاسی معاملات میں بھی دخیل رہے ہیں اور اب اتنے با اختیار عہدے پر آنے کے بعد انہیں سیاسی معاملات میں مداخلت سے روکنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہوگا۔ مضمون میں یہ زہر آلود تاثر دینے کی بھی بھرپور کوشش کی گئی ہے کہ جنرل فیض حمید کی تعیناتی ان کے پیشرو اور دیگر سینئرز کی دل آزاری کا باعث بن رہی ہے۔محسوس یوں ہوتا ہے کہ جنگی محاذ پر آئی ایس آئی اور پاکستان آرمی کو شکست دینے میں ناکام ہوکر پاکستان کے دشمنوں نے اب ایسی مہم چلانی شروع کردی ہے جس سے ان کے خیال میں ایک طرف تو ہمارے عسکری حلقے اندرونی انتشار کا شکار ہوجائیں گے اور دوسری طرف عوام میں ان کے لیے محبت ، اعتماد اور بھرم جیسے جذبات کو بھی کم کیا جا سکے گا۔اس ساری مہم میں یقینا بہت سے غیر پاکستانی بھاڑے کے صحافی،برائے فروخت تجزیہ کار اور’ ہل من مزید‘ کا شور مچاتے مفکرین ایک نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔افوج کا اپنا ایک مخصوص نظام ہوتا ہے، کب کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے، یہ تمام معاملات مشاورت سے طے ہوتے ہیں۔ فوج کبھی بھی کہیں بھی ون مین شو کا نام نہیں۔آئی ایس آئی چیف کی تبدیلی فوج کا اندرونی معاملہ ہے، بے مقصد لوگوں کو اس تبدیلی پر پریشان ہونے اور اپنا خون جلانے کی ضرورت نہیں۔فوج میں کوئی بھی His Master s Voice نہیں ہوتا، ہر فوجی کی جان، ملک کے لیے وقف ہوتی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ہوں یا پھر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، ہر ایک کی فوقیت صرف اور صرف پاکستان ہوتا ہے۔پھر یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ نئے آئی ایس آئی چیف بھی کوئی غیر تجربہ کار قسم کے آفیسر نہیں،ان کے سروس ریکارڈ میں بھی بے شمار کامیابیاں درج نظر آتی ہیں بالخصوص انٹیلی جنس کے شعبے میں ان کی کارکردگی ہمیشہ سے غیر معمولی رہی ہے ۔ اسے پاکستان کی غیر معمولی مقبولیت کہیے یا پھر پاکستان کے بد خواہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کہ جگہ جگہ پاکستان کا تذکرہ سننے میں آتا ہے۔جناب عمران خان کی وزارت عظمیٰ سے لے کر پاکستان میں جاری احتساب کے عمل تک، ہر معاملہ ان لوگوں کے لیے بھی مقبول ترین موضوع ہے جن کا پاکستان سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں۔چلیں پاکستان میں رہنے والے، پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کرنے والے یا پھر پاکستانی شناختی کارڈ کو اپنی پہچان کا ذریعہ سمجھنے والے پاکستان کے اندرونی معاملات پر فکر مند ہوں تو بات عقل میں آتی ہے لیکن جن کا پاکستان سے کوئی واسطہ ہی نہیں، ان کی پاکستان کے بارے میں فکر مندی بہرحال حیران کن ضرور ہوتی ہے۔ایک اور دلچسپ بات یہ کہ پاکستان سے وابستہ موضوعات میں سب سے مقبول موضوع پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی کی کارکردگی کے علاوہ شاید کوئی دوسرا موضوع نہیں۔امریکا برطانیہ انڈیا افغانستان اور نہ جانے کون کون سے ممالک کے نام نہاد تجزیہ کار اپنا سارا زور صرف یہ ثابت کرنے میں لگا دیتے ہیں کہ پاکستان آرمی دنیا کی پہلی پانچ طاقتور ترین افواج میں شامل نہیں ہے اور یہ کہ آئی ایس آئی کا دنیا کی تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں میں پہلا یا دوسرا نمبر نہیں۔پتا نہیں اس نمبر گیم کا کیا مقصد ہے۔ پاکستان آرمی یا پھر آئی ایس آئی کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ انہیں پہلے نمبر پر شمار کیا جائے یا پھر دسویں نمبر پر، اصل چیز تو کام ہے، اور کام خود بولتا ہے۔ذرا غور سے دیکھیے،افغانستان وار کی ابتداء سے لے کر آج تک امریکی اور نیٹو افواج کے ہزاروں سپاہیوں ، ٹینکوں توپوں اور جنگی جہازوں کے ساتھ ساتھ آپ کو دنیا کی بے شمار انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی افغانستان میں ا پنے مکمل سازوسامان کے ساتھ متحرک اورمصروف عمل دکھائی دیں گی۔ دلچسپ بات یہ کہ ان سب کا ہمیشہ ایک ہی ٹارگٹ رہا ہے۔افغانستان میں رہ کر پاکستان کو برباد کرو۔آئی ایس آئی نے اکیلے تن تنہا ان تمام فوجوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو شکست دی۔ پاکستان پر آنچ تک نہ آنے دی، اپنے ہزاروں افسر اور جوان، وردی والے بھی اور بغیر وردی کے بھی، پاکستان کے لیے قربان کردیے مگر پاکستان دشمن ایجنسیوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔اس سب کے بعد آئی ایس آئی اور پاکستان آرمی کو دسویں نمبر پر رکھیں یا بیسویں نمبر پر، اس سے کوئی بھی فرق نہیں پڑتا۔ پاکستان سے باہر بیٹھ کر پاکستان پر پتھر برسانے والوں کے لیے یہ حقیقت یقینا نہایت پریشانی کا باعث ہے کہ بہت سے پاکستان مخالف جوتشیوں اور منتریوں کی پیش گوئیوں کے باوجود پاکستان آج بھی پوری قوت سے عالمی منظرنامے پر موجود ہے۔ساری قوم جناب عمران خان کی قیادت میں ایک نہایت فرسودہ سے نظام کو سنبھالنے سنوارنے کی کوشش کر رہی ہے۔سیاسی وابستگیوں سے بے نیاز ہوکر لوگ خوش ہیں کہ احتساب ہورہا ہے۔بے ایمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے تاکہ ان کی شناخت ہوسکے۔اگلا مرحلہ ٹیکس چوروں اور ناجائز اثاثے بنانے والوں سے قومی دولت واپس لینے کا مرحلہ ہوگا۔احتساب سے کوئی بھی بچ نہیں سکے گا، تاہم یہ سب کام پلک جھپکتے میں نہیں ہوسکتے۔خواب حقیقت کی سمت کسی پہلے قدم کی طرح ہوتے ہیں۔خوابوں کو حقیقت بننے میں کچھ نہ کچھ وقت تو ضرور لگتا ہے۔تھوڑا صبر کیجئے، تھوڑا انتظار ،ایک روشن اور دیانتدار سا موسم آپ کی راہ تک رہا ہے۔