مقبول خبریں
کشمیر میں مظالم کیخلاف اقدامات نہ اٹھائے تو تباہی کی ذمہ داری بین الاقوامی کمیونٹی پر ہو گی:نعیم الحق
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سے ملاقات
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
جموں کشمیرتحریک حق خود ارادیت کاسردارمسعود کے دورہ برطانیہ و یورپ کےموقع پرتقریبات کااہتمام
سوچنے کے موسم میں سوچنا ضروری ہے!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان امن اوراستحکام کی جانب گامزن، چیلنجزسے نبٹنے کیلئے عالمی تعاون ضروری ہے: جنرل قمر باجوہ
لندن (خصوصی رپورٹ: عمران راجہ) پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے برطانیہ میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیزمیں “پاکستان کے علاقائی سکیورٹی سے متعلق نکتہ نظر“ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیامیں دیرپاامن واستحکام کا دارومدارتنازعات کےجلدحل میں ہے، سیکیورٹی کی بہتر صورتحال سے غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموارہوگی۔ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے اپنے خطاب کے دوران پاکستان میں بہتر ہوتی ہوئی امن و امان کی صورتحال سمیت قومی سلامتی اورجنوبی ایشیامیں تازہ پیش رفت پر کہا جنوبی ایشیاء میں دیرپا ترقی اور امن و استحکام کا مکمل دار و مدار دیرینہ تنازعات کے جلد حل میں ہے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا پاکستان امن اوراستحکام اورپائیدارترقی کی جانب گامزن ہے، دیرپاامن واستحکام اورپائیدار ترقی کے عمل کو بین الاقوامی شراکت اورتعاون سے مزید تقویت ملے گی ، علاقائی چیلنجزسے نبر دآزما ہونے کیلئے عالمی تعاون ضروری ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ سیکیورٹی کی بہتر صورتحال سے غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموارہوگی،اور علاقائی رابطہ کاری کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوسکے گا ، بلاشبہ علاقائی روابط کے فروغ کیلئے بیرونی سرمایہ کاری کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ برطانوی تھنک ٹینک کے اس سیمینار میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور، پاکستان ہائی کمشنر نفیس زکریا اور لارڈ نذیر احمد سمیت اہم برطانوی شخصیات شریک تھیں۔