مقبول خبریں
روٹری کلب کے راہنما ڈاکٹر سہیل قریشی کے اعزاز میں سماجی کمیونٹی شخصیت چوہدری محمود کا استقبالیہ
پاکستان سے آئے وکلا کے اعزاز میں ورلڈ وائیڈ سالیسٹرز کے ڈائیریکٹر محمد اشفاق کا استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
سابق صدر پی ٹی آئی یارکشائر اینڈ ہمبر ریجن طاہر ایوب خواجہ کا اپنی رہائش گاہ پر محفل کا انعقاد
بے نظیر بھٹو: چراغ بجھ گیا لیکن روشنی زندہ ہے
پکچرگیلری
Advertisement
مدینہ انسٹیٹیوٹ مسجد اینڈ کمیونٹی ہب میں بین المذہب افطار پارٹی، کمیونیٹیز کے افراد کی شرکت
اولڈہم (محمد فیاض بشیر)مدینہ انسٹیٹیوٹ مسجد اینڈ کمیونٹی ہب اولڈہم میں بین المذہب کمیونٹی کے افراد نے افطار پارٹی میں شرکت کی اور مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے روزہ رکھا اور اکٹھے افطاری بھی کی ۔ دیگر مذہبی راہنماؤں نے اپنے مذاہب میں روزہ رکھنے بارے آگاہی دی۔ پادری فل سمنر، مفتی حلال مدینہ انسٹیٹیوٹ کے صدر ارشد محمود،دائرہ اسلام میں داخل ہونے والی میمنہ مفتاحی اور بین المذہب کے چئیرمن انیل کارہ نے تقریب میں شرکت کی۔اس موقع پر پادری فل سمنر کا کہنا تھا کہ ہر سال مسلمان کمیونٹی کے ساتھ اظہار یکجہتی اور باہمی ہم آہنگی اتحاد و اتفاق کو فروغ دینے کے لیے بین المذہب افطار پارٹی کا انعقاد ہوتا ہے میں نے بھی آج روزہ رکھا اور مجھے احساس ہے کہ روزہ رکھنا آسان نہیں ہے۔ ان کا یہ ضروری ہے کہ مختلف کمیونیٹیز کے درمیان ایک معاشرے میں رہتے ہوئے ہم آہنگی ہو اور ایک دوسرے کے مذاہب کا عڑت و احترام کیا جائے۔ مدینہ انسٹیٹیوٹ کے صدر ارشد محمود کا کہنا تھا کہ ہم نے دوسرے مذاہب کے افراد کو مدعو کر کے ایک دوسرے کےمذاہب میں روزہ رکھنے کی اہمیت و فضیلت بارے بات چیت کی اور اسکے بعد اکٹھے افطاری بھی کی ۔ان کا مذید کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ بین المذہب کمیونٹی کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے ہم پل کا کردار ادا کرتے ہوئے دنیا میں امن کے لیے کام کریں۔ دائرہ اسلام میں داخل ہونے والی میمن مفتاحی کا کہنا تھا کہ تقریب بین المذہب و ثقافت اور اتحاد کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔ بین المذہب فورم کے سال 2019 کے لیے منتخب چئیرمن انیل کارہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جتنے بھی مذاہب ہیں ان میں مختلف طریقوں سے روزے رکھے جاتے ہیں ہم سب نے اپنے تجربات سے حاضرین کو بتایا اور پھر مل کر افطاری بھی کی۔ مفتی حلال کا کہنا تھا کہ ماہ رمضان مسلمانوں کے لیے اہم ہے اور روزے ہم پر فرض ہیں۔ان کا مذید کہنا تھا اسی طرح دیگر اکثریتی مذاہب میں روزہ رکھنا بھی ضروری ہے لیکن ہر ایک کا طریقہ کار الگ ہےاور ہم نے مختلف مذاہب کے درمیان روزہ رکھنے کی مشابہت بارے بھی گفتگو کی ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسی تقریب کا انعقاد ہرسال کرتے ہیں اور مدینہ انسٹیٹیوٹ نے اسکی میزبانی کی جو کمیونٹی کی خدمت میں پیش پیش ہیں ہم انکے مشکور ہیں ۔