مقبول خبریں
مقبوضہ کشمیر کےعوام کو بھارتی چنگل سےنجات دلانے کیلئے برطانوی حکومت کردار ادا کرے:راجہ نجابت
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سے ملاقات
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
راجہ نجابت حسین کا مسئلہ کشمیر پر بحث میں حصہ لینے پر ارکان یورپی پارلیمنٹ کو خراج تحسین
جب ریت پہ لکھو گے محبت کی کہانی!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مدینہ انسٹیٹیوٹ مسجد اینڈ کمیونٹی ہب میں بین المذہب افطار پارٹی، کمیونیٹیز کے افراد کی شرکت
اولڈہم (محمد فیاض بشیر)مدینہ انسٹیٹیوٹ مسجد اینڈ کمیونٹی ہب اولڈہم میں بین المذہب کمیونٹی کے افراد نے افطار پارٹی میں شرکت کی اور مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے روزہ رکھا اور اکٹھے افطاری بھی کی ۔ دیگر مذہبی راہنماؤں نے اپنے مذاہب میں روزہ رکھنے بارے آگاہی دی۔ پادری فل سمنر، مفتی حلال مدینہ انسٹیٹیوٹ کے صدر ارشد محمود،دائرہ اسلام میں داخل ہونے والی میمنہ مفتاحی اور بین المذہب کے چئیرمن انیل کارہ نے تقریب میں شرکت کی۔اس موقع پر پادری فل سمنر کا کہنا تھا کہ ہر سال مسلمان کمیونٹی کے ساتھ اظہار یکجہتی اور باہمی ہم آہنگی اتحاد و اتفاق کو فروغ دینے کے لیے بین المذہب افطار پارٹی کا انعقاد ہوتا ہے میں نے بھی آج روزہ رکھا اور مجھے احساس ہے کہ روزہ رکھنا آسان نہیں ہے۔ ان کا یہ ضروری ہے کہ مختلف کمیونیٹیز کے درمیان ایک معاشرے میں رہتے ہوئے ہم آہنگی ہو اور ایک دوسرے کے مذاہب کا عڑت و احترام کیا جائے۔ مدینہ انسٹیٹیوٹ کے صدر ارشد محمود کا کہنا تھا کہ ہم نے دوسرے مذاہب کے افراد کو مدعو کر کے ایک دوسرے کےمذاہب میں روزہ رکھنے کی اہمیت و فضیلت بارے بات چیت کی اور اسکے بعد اکٹھے افطاری بھی کی ۔ان کا مذید کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ بین المذہب کمیونٹی کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے ہم پل کا کردار ادا کرتے ہوئے دنیا میں امن کے لیے کام کریں۔ دائرہ اسلام میں داخل ہونے والی میمن مفتاحی کا کہنا تھا کہ تقریب بین المذہب و ثقافت اور اتحاد کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔ بین المذہب فورم کے سال 2019 کے لیے منتخب چئیرمن انیل کارہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جتنے بھی مذاہب ہیں ان میں مختلف طریقوں سے روزے رکھے جاتے ہیں ہم سب نے اپنے تجربات سے حاضرین کو بتایا اور پھر مل کر افطاری بھی کی۔ مفتی حلال کا کہنا تھا کہ ماہ رمضان مسلمانوں کے لیے اہم ہے اور روزے ہم پر فرض ہیں۔ان کا مذید کہنا تھا اسی طرح دیگر اکثریتی مذاہب میں روزہ رکھنا بھی ضروری ہے لیکن ہر ایک کا طریقہ کار الگ ہےاور ہم نے مختلف مذاہب کے درمیان روزہ رکھنے کی مشابہت بارے بھی گفتگو کی ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسی تقریب کا انعقاد ہرسال کرتے ہیں اور مدینہ انسٹیٹیوٹ نے اسکی میزبانی کی جو کمیونٹی کی خدمت میں پیش پیش ہیں ہم انکے مشکور ہیں ۔