مقبول خبریں
یار غار خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبرؓ کی شان میں عظیم الشان محفل کا انعقاد
مہنگائی کی ذمے دار عمران خان حکومت ہے ،شہباز شریف
دعوت اسلامی برمنگھم کے زیر اہتمام خراب موسم کے باوجودجشن عید میلاد النبیؐ کا جلوس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
اسرار احمد راجہ کی کتاب کی تقریب رونمائی ،مئیر آف لوٹن کونسلر طاہر ملک ودیگرافراد کی شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
راجہ نجابت حسین کی ڈیبی ابراھام کے ہندوستان میں داخلے پر پابندی کی شدید مذمت
آتش فشاں
پکچرگیلری
Advertisement
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
اسلام آباد /کراچی: پاکستانی ہندو کمیونٹی کی ملک گیر نمائندہ تنظیم پاکستان ہندو کونسل نے نارووال میںبابا گورونانک سے منسوب تاریخی مقام کے انہدام کی میڈیا رپورٹس پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے، منگل کے روز پاکستان ہندوکونسل کے صدر گوپال خامانی اور سیکرٹری جنرل پرشوتم رامانی نے اپنے مشترکہ بیان میں غیرمسلم اقلیتوں کے مقدس مقامات کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ کسی تعلیم یافتہ اور قابل پاکستانی ہندو شہری کو لگانے کاپرزور مطالبہ ایک بار پھر دہرادیا، بیان میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان ہندوکونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی وزیراعظم عمران خان کے نام تحریرکردہ خط میں چیئرمین قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کی حالیہ تعنیاتی پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ انگریزی روزنامے میں شائع کردہ رپورٹ کے مطابق نارووال میں واقع باباگورونانک سے منسوب مقدس مقام کو مقامی آبادی کے چند شرپسند عناصر کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے، اس حوالے سے پاکستان ہندوکونسل کا کہنا ہے کہ ایسے مقدس تاریخی مقامات کی حفاظت یقینی بناکر نہ صرف دنیا بھر سے مذہبی سیاحوں کو پاکستان کی جانب راغب کیا جاسکتا ہے بلکہ ملک کا مثبت امیج بھی اجاگر کیاجاسکتا ہے۔ صدر گوپال اور سیکرٹری جنرل پرشوتم نے اپنے بیان میں شکارپور شہر میں واقع ایک اور قدیمی ہندومندر کو منہدم کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا ، صوفی بھگت شری شنکر آنند سے منسوب دوسو سالہ مندر میں واقع مقدس تالاب کو مکمل طور پر منہدم کردیا گیا ہے جبکہ مندر کی اراضی پرغوث بخش بھٹو نامی اثرورسوخ رکھنے والے مقامی باشندے نے قبضہ جمارکھا ہے، پاکستان ہندوکونسل کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے بتاریخ 24دسمبر2018ء فیصلے کے نتیجے میں محب وطن اقلیتوں کو ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوئی تھی لیکن ڈسٹرکٹ انتظامیہ تاحال عملدرآمد کرانے میں بے بس نظر آتی ہے۔ پاکستان ہندو کونسل کے مطابق ملک بھر میں رونماء ہونے والے ایسے افسوسناک واقعات کی بنیادی وجہ قومی وقف متروکہ املاک بورڈ کا اپنی ذمہ داریوں سے چشم پوشی برتنا ہے، پاکستان ہندوکونسل کے عہدے داران نے اس اہم قومی ادارے کا سربراہ پاکستان ہندو کمیونٹی سے لگانے کا مطالبہ ایک بار پھر دہرایا ہے، واضح رہے کہ پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے گزشتہ دور حکومت میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس رانا بھگوان داس کو سربرا ہ قومی متروکہ وقف املاک بورڈ متعین کرنے کی تجویز دی تھی جس پر بدقسمتی سے کوئی عملدرآمد نہ ہوسکا۔