مقبول خبریں
کونسلر شکیل احمد تیسری بار لیبر پارٹی کی طرف سے مئی 2020ء کے لئے امیدوار نامزد
کشمیر کی حیثیت میں یکطرفہ بھارتی تبدیلی جنوبی ایشیا میں خطرناک بگاڑکا باعث ہوگی
پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری محمد رضا کی زیر صدارت عہدیداران و کارکنان کا اجلاس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
پروفیٹک گفٹس ویڈنگ اینڈ ایونٹس آرگنائزر کے زیر اہتمام ایشین ویڈنگ اینڈ پلانرز ایونٹ کا انعقاد
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
پکچرگیلری
Advertisement
مال غنیمت
ؓبھوک ننگ اور افلاس کے ستائے معاشروں میں سب کچھ ہی برائے فروخت ہوتا ہے۔ایسے معاشرے ڈیپارٹمنٹل سٹور کی طرح ہوتے ہیں جہاں مرغی کے گوشت سے لے کر کتوں کی خوراک تک ، سب بکتا ہے۔ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی اس طرح کی خرید و فروخت کی بڑی ہی بارونق منڈی ہے۔ابھی چند روز پہلے جب وہاں الیکشن کے پہلے مرحلے کے حوالے سے بہت گہماگہمی تھی، بڑے بڑے شہروں کے چوک چوراہوں پر ایک عجیب سی عبارت کے رنگ برنگے پینافلیکس ہورڈنگز نے دنیا کو بھارتی معاشرے میں سیاستدانوں کے کردار اور مزاج کے حوالے سے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔’بی جے پی کو ووٹ دو، کشمیر میں پلاٹ لو‘۔اس عبارت کے بہت سے مفہوم نکلتے ہیں لیکن جو سب سے آسان اور واضح مطلب نکلا وہ یہی ہے کہ اگر بی جے پی جیت گئی تو کشمیر کو مال غنیمت کی طرح حصے بخرے کر کے، بی جے پی کے سیاسی مددگاروں میں تقسیم کردیا جائے گا۔سوال یہ ہے کہ کیا اس تقسیم کے نتیجے میں وہاں کے لوگوں کو بھی لونڈی اور غلام بنا کر ان سیاسی مددگاروں کے حوالے کردیا جائے گا اور پھر وہاں لوگوں کے کام کاروبار بھی سرکاری سرپرستی میں ان کے حوالے کردیا جائے گا جنہوں نے بی جے پی کی حمایت کی۔اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ مودی صاحب کی بی جے پی کشمیریوں کو زندہ رہنے کے لیے بنیادی حقوق دینے کی بجائے ان کا سب کچھ انتہا پسند ہندوئوں کو انعام میں دینے کی خواہش بھی رکھتی ہے اور ارادہ بھی۔بھارت میں بھی ہمارے خطے کے دیگر ممالک کی طرح عوامی سطح پر لوگوں کے اقتصادی معاملات کچھ زیادہ بہتر نہیں ہیں۔ممبئی کی سڑکوں پر آج بھی ہر رات بے شمار بے گھر لوگ کھلے آسمان کے نیچے رات بسر کرنے پر مجبور ہیں۔بیماروں کے پاس علاج کو پیسے نہیں، نوجوانوں کے پاس روزگار کے امکانات نہیں،مزید تعلیم کی حصول کی خواہش اور ضرورت رکھنے والے بچوں کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لیے وسائل نہیں،ایسے میں محض ووٹ دینے کے صلے میں کشمیر میں پلاٹ ملنے کی خبر کا عوامی رد عمل یقینا یہی ہوگا کہ لوگ بی جے پی کے حق میں اپنی رائے فروخت کر دیں گے۔خریدو فروخت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی رائے کو کسی بھی صورت اتفاق رائے نہیں کہا جاسکتا۔ ممکن ہے بی جے پی ایک بار پھر مسند اقتدار پربراجمان ہوجائے لیکن اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں ہوگا کہ بی جے پی وہاں کی نمائندہ جماعت ہے۔بی جے پی نہ تو وہاں کے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے نہ ہی دیگر اقلیتوں کی اور نہ ہی ان لاکھوں کروڑوں نچلی ذات کے ہندوئوں کی کہ جن کا جینا اونچی ذات کے انتہا پسندہندوئو ں نے دوبھر کر رکھا ہے۔یہ پچھلے برس کی بات ہے کہ بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے ایک ڈالت نوجوان پرشانت سولنکی نے اپنی شادی کے موقعے پر بارات میں اپنی سواری کے لیے ایک گھوڑے کا انتظام کیا۔ ابھی تھوڑا ہی فاصلہ طے ہواتھا کہ اچانک جھاڑیوں میں چھپے ہندو انتہاپسندوں نے بارات پر حملہ کردیا، دولہا کو بد ترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے بار بار کہا گیا، ’ تیری جرات کیسے ہوئی کہ اعلی ذات کے ہندوئو ںکی طرح گھوڑے پر سوار ہوکر بارات لے کر جائے‘۔یاد رہے کہ ڈالت کم تر ذات کے ہندوئوں کو کہا جاتا ہے اور اونچی ذات کے ہندو انہیں کسی طور بھی جینے کا کوئی حق دینا نہیں چاہتے۔ اونچی ذات کے انتہاپسند ہندوئوں کی طرف سے نچلی ذات کے ہندوئوں کی گھڑ سواری پر پابندی بھی ایک عرصے سے وہاں کے معاشرتی نظام کا حصہ ہے۔2015میں بھی گھوڑے پر سوار ہوکر بارات لے جانے والے ایک اور دلہا کو ایک ایسے ہی انتہا پسندوں نے پتھر مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔نچلی ذات کے ہندوئوں پر یہ بھی پابندی ہے کہ وہ کسی بھی جگہ آلتی پالتی مار کر نہیں بیٹھ سکتے۔اس طرح بیٹھنے کا حق صرف اونچی ذات کے ہندوئوں کو حاصل ہے۔ اونچی ذات کے ہندوئوں کے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھنے کے جرم میں ریاست تامل ناڈو کے ایک مندر میں گزشتہ برس دو نوجوانوں کو ڈنڈے اور مکے مار مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ مگربھارتی ،معاشرے کے لیے اس طرح کے واقعات نہ تو حیران کن ہیں نہ ہی چونکا دینے والے۔ معمول کی باتوں پر عام طور پر کوئی بھی حیران نہیں ہوتا۔ بی جے پی کی گرتی ہوئی ساکھ اور گھٹتی ہوئی مقبولیت کا سہرا جناب نریندر مودی کے سر بندھے گا یا پھر ان انتہا پسند ہندوئوں کے سر کہ جنہوں نے بی جے پی کے پلیٹ فارم کو اپنے لیے جائے امان سمجھ رکھا ہے، اس کا فیصلہ تو 19مئی کے بعد ہی ہوسکے گا لیکن فی الحال معاملات بی جے پی کے کچھ زیادہ حق میں جاتے نظر نہیں آرہے ہیں۔اتر پردیش میں صورت حال زیادہ خراب دکھتی ہے۔خود بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بار اتر پردیش میں اپوزیشن لیڈر مایا وتی، وزیر اعظم مودی کے لیے تابوت کی آخری کیل ثابت ہوسکتی ہیں۔مایا وتی کا تعلق ہندوستان کی اچھوت برادری سے ہے جسے وہاں عام زبان میں Dalitsکہا جاتا ہے۔مایا وتی کا تعلق بہوجن سماج پارٹی سے ہے، وہ 1995سے 2012تک مختلف زمانوں میں اتر پردیش کی وزیر اعلی رہی ہیں۔ انہیں اتر پردیش میں آباد نچلی ذات کے ہندوئوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی بھی بھرپور حمایت حاصل ہے۔اس بار خود الیکشن میں حصہ لینے کی بجائے انہوں نے اپنی پارٹی کے دیگر امیدواروں کے لیے مہم چلانے میں خود کو وقف کر رکھا ہے۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں ان کی اپنی پارٹی بہوجن سماج پارٹی نے سماج وادی پارٹی کے ساتھ انتخابی الحاق کیا اور اب یہ دونوں جماعتیں مل کر بی جے پی کو شکست دینے کے لیے انتخابی میدان میں موجود ہیں۔سماج وادی پارٹی کے اکیلاش یادیو اس وقت اتر پردیش میں دونوں جماعتوں کے ایک نہایت مضبوط متفقہ امیدوار کے طور پر بے حد متحرک دکھائی دیتے ہیں۔این ڈی ٹی وی کے تجزیہ کار پروناوے رائے نے اپنے ایک حالیہ پروگرام میں کہا ہے کہ مذکورہ دونوں جماعتوں کے اشتراک کے نتیجے میں اس وقت صورت حال یہ ہے کہ یہ الائینس بی جے پی کی حاصل کردہ پرانی نشستوں کی تعداد 73سے 37تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔مسٹر مودی کی گرتی ہوئی ساکھ کے پس منظر میں جو عوامل کار فرما ہیں ان میں سر فہرست ان کی انتہاپسندی پر مبنی پالیسیاں ہیں۔آج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا جو خون آشام منظر دکھائی دیتا ہے، ہندوستان کے معتدل مزاج لوگ اس منظر کو اپنے ملک کے چہرے پر کالک سمجھتے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ اس کالک کو دھونے کا کام کون ، کب اور کیسے کرے گا۔