مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمیر سنٹر میں عیدکے حوالہ سے پوٹھواری محفل شعر خوانی اور سیف الملوک کا انعقاد
معروف قلمکار اورصحافی عارف محمود کسانہ کی بچوں کیلئے ’’ سبق آموز کہانیاں2‘‘مارکیٹ میں آگئی
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پلیک گیٹ ہا ئی سکول بلیک برن میں تعینات ٹیچر کیتھرین نے روزے رکھنے شروع کر دیے
رنگ خوشبو سے جو ٹکرائیں تو منظر مہکے!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نعرہ ء حق
نیوزی لینڈ اور وادی کشمیر میں بہت کچھ مشترک ہے، فطرت کے حسین ترین مناظر، سرسبز پہاڑ، گنگناتے جھرنے،ہرے بھرے پیڑوں سے لپٹی پھولدار بیلیں، تاحد نگاہ کھاس کا مخملیں فرش اور اس سب کے ساتھ ٹھنڈے میٹھے، محبت سے لبریز لوگ۔ ان دونوں جنت نظیر وادیوں میں اگر فرق ہے تو صرف ایک۔ وادی کشمیر اس سکون اور اطمینان سے محروم ہے جو ہمیں سوئٹزر لینڈ کی ہوائوں میں خوشبو کی طرح معلق دکھائی دیتا ہے۔ گذشتہ دنوںایک بدنصیب جنونی نے سوئٹزر لینڈ کی دو مساجد میں نماز پڑھتے ہوئے 50سے زائد بیگناہوں کو اپنی جنونیت کا نشانہ بنا کر اس خوبصورت سرزمین کو دہشتگردی کے شکار ممالک کی فہرست میں لا کھڑا کیا تو ساری دنیا حیران رہ گئی، ہر طرف سے مذمتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔امریکا سے لے کر برطانیہ تک ہر ہر آنکھ نم ہوگئی،لیکن مقبوضہ کشمیر میں اس طرح کا ظلم ایک معمول کی بات ہے، وہاں بھارتی قابض فوجیوں کے ہاتھوں اب تک نہ جانے کتنے بے گناہ مارے جاچکے ہیں، کتنے معصوموں کا خون ندی نالوں کو رنگین کر چکا ہے، نہ جانے کتنے نوجوانوں کی بوڑھی مائوں کی آنکھیں اپنے بیٹوں کی راہ تکتے پتھرا چکی ہیں مگر حیرت کی بات یہ کہ نیوزی لینڈ سانحے پر مغموم دکھائی دینے والوں میں سے کسی ایک نے بھی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم کو رکوانے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔لگتا یوں ہے کہ مغربی ممالک کو مسلمانوں کے مارے جانے سے زیادہ اس بات کا دکھ ہے کہ قتل وغارت گری کا یہ کھیل نیوزی لینڈ میں کھیلا گیا۔ اگر دکھ مسلمانوں کے مارے جانے کا ہوتا تو صدائے احتجاج مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم کے خلاف بھی سننے میں آتی۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان ایک طرف اور باقی اقوام عالم ایک طرف۔ مسلمان کا خون بھی ارزاں اور قیمتی جان بھی بے قیمت۔یقینا صورت حال کو اس نہج پر پہنچانے میں ہمارا اپنا کردار بھی نہایت توجہ کا حامل ہے۔ تقسیم در تقسیم کے نہ ختم ہونے والے سلسلے نے ہمیں ایسا بے حیثیت کیا کہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی ہم بے بس اور بے نوا ہوگئے۔ ہماری بے بسی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوگی کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں بہت سے مسلمان پاکستانیوں کو زندہ جلادیا گیا، برسوں تحقیقات ہوتی رہیں اور اب بھارتی عدالت نے کمال انصاف کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس جرم میں ملوث تمام افراد کو باعزت بری کر دیا کیونکہ ان کے خلاف کوئی ثبوت عدالت کو نہیں مل سکا۔معلوم نہیں کسی نادیدہ سلطنت سے جنات آئے تھے یا بھوت جنہوں نے ان بے چارے مسلمانوں کو جلا کر بھسم کردیا یا پھر کسی سادھو پنڈت نے اپنے موئکلین کے ذریعے یہ بے رحمانہ قتل عام کروایا۔نیوزی لینڈ سانحے کے حوالے سے کچھ دل دکھے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا ظلم اس سانحے پر ان اسلامی عسکری تنظیموں کی خاموشی ہے جن کا سارا زور صرف اپنے ہی لوگوں پر چلتا ہے۔کاش یہ تنظیمیں کہ جن کی کاروائیوں کی بنیاد پر دنیا بھر میں مسلمانوں کو دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دیا جاتا ہے، جن کی عسکریت پسندی کو الزام بنا کر دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کرنا، تجارت کرنا حتیٰ کہ سرمایہ کاری کرنا بھی گناہ بنا دیا گیا ہے، مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے والے اس طرح کے ظلم کے خلاف تلوار بن جاتیں، کاش یہ اسلامی تنظیمیں تمام عالم اسلام میں مسلمانوں کو جوڑ کر ایک ایسی قوت بنا دیتیں کہ دنیا میں کسی کو بھی کوئی بھی فیصلہ مسلمانوں کے مفادات کے خلاف کرنے کی جرائت نہ ہوتی۔ہماری بدنصیبی کہ اقوام متحدہ میں جب مسلمان دنیا کے سب سے مضبوط ملک پاکستان کے خلاف بھارت کی طرف سے کوئی قرارداد پیش کی جاتی ہے تو ایک غیر مسلم ملک چین اس قرارداد کو ویٹو کرنے کے لیے سامنے آتا ہے۔ ہماری ایسی تمام تنظیموں کے کرتا دھرتا راہنمائوں اور صاحبان اختیار کو اس ساری صورت حال پر تھوڑا سا غور ضرور کرنا چاہیے تاکہ کم از کم یہ تاثر تو زائل ہو سکے کہ ایسی تنظیمیں ایک سازش کے ذریعے مسلمانوں کو ہی کمزور کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ یاد رکھیے ہمارے ارد گرد کی دنیا کو ایک غیر محسوس انداز میں ہمارے لیے ایک مقتل میں تبدیل کیا جاریا ہے،ایک بڑا سا دائرہ ہے جس کے ارد گرد کھڑے مسلمان دشمن اور اسلام دشمن ہاتھوں میں ہر طرح کے ہتھیار پکڑے اپنے شکار اگلے مسلمان کا للچائی نظروں سے انتظار کر رہے ہیں، آج میں تو کل آپ کی باری ہے۔مسلمانوں کے خلاف یہ ظلم، یہ زیادتی کوئی ایک دن کا سلسلہ نہیں، برسوں پر بکھری ایک داستان ہے۔ گزشتہ دنوں مودی صاحب کی ہدایت کاری میں ’پاکستان کو آگ لگادو‘ کے عنوان سے جو ڈرامہ شروع کیا گیا وہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔اور جو آسٹریلیاسے تیسرے ون ڈے میچ کے دوران مودی صاحب نے اپنی کرکٹ ٹیم کو فوجی ٹوپیاں پہنا کر کھیل کے میدان میں بھیجا، وہ بھی اسی ڈرامے کا ایک e Episod تھا۔مگر پوری اسلامی دنیا سے کس نے علم احتجاج بلند کیا،کون بولا، کوئی بھی نہیں البتہ ’ گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے کے لیے بعد میں کہیں سے چھوٹاموٹا کوئی ایک آدھ بیان سننے میں ضرور آگیا۔مودی صاحب نے اپنے کرکٹ کھلاڑیوں کو فوجی ٹوپیاں پہنا کر کھیل کے میدان کو میدان جنگ کا ماحول دینے کی جو کوشش کی اس کا خمیازہ دنیا کو آئیندہ چند برسوں میں بھگتنا پڑے گا۔اگر آئی سی سی نے اس عمل کی حوصلہ شکنی نہ کی تو ایک نئی روایت جنم لے گی، کل کو کوئی بھی ٹیم مکمل فوجی وردی زیب تن کر کے میدان مین آسکتی ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر کھلاڑی کو کمر پر ٹانگنے کے لیے ایک ایک ریوالور بھی دے دیا جائے اور اس سے بھی خوفناک صورت تب ہوگی جب کھلاڑیوں کے جوگرز پر کسی دوسرے ملک کا جھنڈا پینٹ کردیا جائے گا یا پھر کوئی ملک اپنے کھلاڑیوں کے جوگرز پر مودی صاحب کی تصویریں بنا دے۔کھیل کے میدان اور میدان جنگ میں بنیادی فرق یہی ہے کہ کھیل قوموں کے درمیان قربت بڑھانے کا سبب بنتا ہے جبکہ میدان جنگ ایسی دوریوں کو جنم دیتا ہے کہ جنہیں برسوں بعد بھی قربتوں میں بدلنا ممکن نہیں ہوتا۔تاہم کچھ بدنصیب ایسے بھی ہوتے ہیں جو کھیل کے میدان میں بھی نفرتوں کے ایسے بیج بوتے ہیں کہ کھیل کے میدان اور میدان جنگ میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ مسٹر مودی کا شمار بھی ایسے ہی بدنصیبوں میں ہوتا ہے۔ آج نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے خون سے کھیلے جانے والی ہولی پر چپکے چپکے آنسو بہانے والوں نے اگر کبھی اونچی آواز میں مسٹر مودی کی مسلمانوں کے خلاف نفرت اور انتہا پسندی کی مذمت کی ہوتی تو شاید نیوزی لینڈ کے مسلمانوں کو یہ وقت دیکھنا کسی صورت بھی نصیب نہیں ہوتاگجرات میں مسلمانوں کے قتل عام سے لے کرسمجھوتہ ایکسپریس کے جلائے جانے تک، پٹھان کوٹ واقعے سے پلوامہ ڈرامے تک اور پھر کلبھوشن سے ابھی نندن تک، جناب مودی نے مسلمانوں کے خون سے کھلواڑ کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ ان کے دور اقتدار میں انتہا پسندی پر مبنی رویوں کو ایسی بھرپور سرکاری سرپرستی نصیب ہوئی جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔اسلام اور پاکستان دشمنی میں مودی صاحب اس حد تک بڑھ گئے کہ پلوامہ ڈرامے کی آڑ میں اپنے ہی چالیس سے زائد فوجیوں کا خون بہا دیا۔پھر معاملے کو مزید سچائی کا رنگ دینے کے لیے پاکستان کی طرف جنگی جہاز بھی بھیج دیے۔ لیکن وہ یہ سچائی بھول گئے کہ ضروری نہیں بائونڈری کی طرف جانے والی ہر شارٹ چھکا شمار ہوجائے، کئی دفعہ عین بائونڈری سے چند انچ پہلے کیچ آئوٹ بھی ہوجاتا ہے لیکن یہ تب ممکن ہوتا ہے جب فیلڈر غیر معمولی صلاحیت کے حامل ہوں۔مودی صاحب نے بھی اپنی طرف سے چھکا مارا تھا لیکن بائونڈری پر پاکستانی فوجی کھڑے تھے، مودی صاحب کیچ آئوٹ ہوگئے۔ قصہ مختصر یہ کہ پلوامہ ڈرامے نے تحریک آزادیء کشمیر کو ایک عجیب سی نئی قوت عطا کردی۔مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی بھی اپنے ہی فوجیوں کے خلاف مودی سرکار کی اس بھیانک سازش پر اس قدر ڈیپریشن کا شکار ہیں کہ اب مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی بجائے ہوائی فائرنگ سے کام چلاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے قابض بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کے سامنے اب زیادہ عرصے بند نہیں باندھ سکیں گے۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے باہمی اتفاق اور اتحاد نے مودی سرکار کی ہر چال کو ناکام بنادیا ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ جس طرح طالبان نے امریکا کو افغانستان سے بھاگنے پر مجبور کردیا ہے ، اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے بھاگ جانے پر مجبور کردیں گے۔اور اس بات کا بھی قوی امکان موجود ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی ، پلوامہ ڈرامے میں جان سے جانے والے اپنے ساتھیوں کے سرکاری قتل سے دلبرداشتہ ہو کر ایک روز خود ہی نعرہ حق بلند کردیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔