مقبول خبریں
پی ٹی آئی رہنما چوہدری محفوظ کی طرف سے چوہدری علی شان سونی کے اعزاز میں افطار پارٹی کا اہتمام
بی بی شہید ہی اس ملک کی واحد نجات دہندہ اور عوام دوست رہنما تھیں: بیرسٹر قادری
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
تحریک حق خودارادیت کی جانب سے جان پراکٹر،امجد بشیر،اعجازفضل،رجاسب مغل کو شیلڈز سے نوازا گیا
مظلوم کے ساتھی ہو کہ ظالم کے طرفدار؟؟؟؟
پکچرگیلری
Advertisement
وزیر خوراک آزاد کشمیر سید شوکت علی کی لارڈ قربان حسین سے ملاقات
لوٹن :آزاد کشمیر کے وزیر خوراک اور مسلم لیگ ن کے رہنماء سید شوکت علی شاہ نے گذشتہ روز ہاؤس آف لارڈ برطانیہ کے رکن لارڈ قربان حسین چوہدری سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس دوران ممتاز کشمیری سیاسی و سماجی رہنماء سید حسین شہید سرور ایڈوکیٹ، پروفیسر مسعوداخترہزاروی، کونسلر راجہ اسلم خان، سرداردانش، سردار نفیس سرور، چوھدری اسلم، سید شفقت حسین شاہ اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔اس سے قبل سید حسین شہید سرور نے وزیرخوراک سید شوکت شاہ کے اعزاز میں اپنی رہائشگاہ کاغان ہاؤس لوٹن پر پروقار عشائیہ دیا جس میں دیگر شخصیات بھی شریک تھیں۔ملاقات کے دوران جنوبی ایشیاء کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، خاص طورپر پاکستان اور بھارت کے مابین موجودہ کشیدہ صورتحال پر گفتگو ہوئی۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بھارت و پاکستان کے مابین اب تک چار خونین جنگیں ہوئی ہیں، جن میں لاکھوں کی تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور بے حساب مالی نقصان ہوا، تاہم دونوں ممالک کو بعد از جنگ بات چیت کے لئے میز پر آنا ہی پڑا۔ اب وقت آگیا ہے کہ بھارت و پاکستان کی قیادت مذاکرات کا سلسلہ شروع کرکے مسئلہ کشمیر کے حل میں مثبت رول ادا کریں۔جنوبی ایشیاء میں کشیدگی کی اصل جڑ تنازعہ کشمیر کی طولات ہے۔ اگر یہ مسئلہ بلاخیر حل ہوجاتا، آج پورا خطہ خوشحال ہوتا۔ ملاقات کے شرکاء کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے مذاکرات کئے جائیں اور کشمیریوں کی رضا مندی کے بغیر کوئی بھی حل ان پر نہ ٹھونسا جائے۔اس ملاقات میں مقبوضہ کشمیرمیں مختلف کالے قوانین کے ذریعے گرفتاریوں اور تشدد کی کارروائیاں کی مذمت کی گئی۔ بتایا گیا کہ پوٹا اور افسپا اور دیگر ظالمانہ قوانین کے تحت بھارتی فورسزکے اہلکاروں کو کشمیری عوام کو بغیر کسی مقدمے کے غائب کرنے اور مارنے کی کھلی چھٹی دی گئی ہے۔ بھارتی حکام کو یاد رکھنا چاہئے کہ کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم سے موجودہ تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بلکہ اس سے کشمیریوں کے عزم و استقلال میں اضافہ ہوگا۔ بھارت کو یاد رکھنا چاہئے کہ کشمیری عوام تحریک آزادی کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس موقع پر عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں کشیدگی ختم کرنے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی راہ ہموار کرے۔