مقبول خبریں
سیاسی ،سماجی کمیونٹی شخصیت بابو لالہ علی اصغر کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بارے میٹنگ کا انعقاد
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کا کشمیر پٹیشن پر دستخطی مہم کا آغاز ،10ستمبر کو پیش کی جائیگی
کافر کو جو مل جائے وہ کشمیر نہیں ہے!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
معاف کردینا ایک بڑائی ہے، چھوٹا آدمی معاف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، بڑے آدمی کی ایک بڑی پہچان یہ بھی ہے کہ اس میں معاف کرنے کا بڑا حوصلہ ہوتا ہے لیکن دشمن کو بھول جانے والا آدمی نہ تو بڑا ہوتا ہے نہ ہی چھوٹا بلکہ صرف اور صرف احمق اور نادان ہوتا ہے۔دشمن کو معاف کردینا اور دشمن کو بھول جانا دو بالکل الگ الگ باتیں ہیں۔جاپانیوں نے امریکی ایٹم بم کے انتہائی خوفناک نتائج سہنے کے بعد بھی امریکا کو معاف کر دیا لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ جاپانیوں نے اپنے دشمن کو بھلا دیا ہے تو اسے ایک انتہائی سنگین غلط فہمی کہا جائے گا۔اسرائیل اور فلسطین کی مثال دیکھ لیں، ممکن ہے آنے والے کچھ برسوں میں اسرائیل اور فلسطین کے اختلافات کسی پس منظر میں دب جائیں ، دونوں ملکوں کے بیچ ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہو جائے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا فلسطینی اپنے ان معصوم بچوں کو بھول جائیں گے جو ان کی آنکھوں کے سامنے اسرائیلی طیاروں سے اگلتی آگ میں جل کر خاک ہوگئے۔ یقینا ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا۔یہی معاملہ کشمیر کا بھی ہے اور یہی صورت حال افغانستان کی بھی۔ ممکن ہے کل کشمیر کا معاملہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ہوجائے اور افغانستان میں مقامی لوگوں کی مرضی اور رضامندی کی حکومت قائم ہوجائے، یہ بھی ممکن ہے کہ افغانستان سے جاتے ہوئے امریکا افغانستان کے زخم خوردہ مقامی لوگوں کے لیے کسی امدادی پیکیج کا اعلان بھی کر جائے لیکن کیا اس سب کے بعد وہ افغان جن کے بچے اتحادی افواج کی بمباری میں مارے گئے اور وہ افغان جنہیں امریکی مداخلت کے باعث اپنے گھر کو چھوڑ کر ہمسایہ ملک پاکستان میں مہاجرین کی زندگی گذارنا پڑی اور وہ افغان جو اپنے اوپر تھونپی جانے والی جنگ میں اپنے ہاتھ پائوں اور دیگر اعضاء سے محروم ہو کر معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں، کیا اتحادی فوجوں کے ظلم و ستم کو فراموش کر دیں گے، کیا مقبوضہ کشمیر کے بے بس لوگ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بے حرمتی کا شکار ہونے والی اپنی بہو بیٹیوں کی مسخ شدہ عریاں لاشوں کو بھول جائیں گے جو ہر تھوڑے دن بعد کسی ندی نالے کنارے یا پھر کسی پہاڑی کے دامن سے برآمد ہوتی ہیں۔کچھ ایسے ہی احساسات ہمارے ملک کے علاقے وزیرستان کے لوگوں میں بھی دیکھنے کو ملیں گے۔وہاں امریکی ڈرون حملوں میں پورے کے پورے خاندان اجڑ گئے، جو بچ گئے ان کی ذہنی کیفیت ایسی کہ زندوں میں رہے نہ مردوں میں، کیا ڈرون حملوں کا شکار یہ لوگ ڈرون برسانے والے امریکیوں کو بھول جائیں گے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ بھارتی نیوی کے حاضر سروس آفیسر کلبھوشن یادیو کا بھی ہے۔ جب سے وہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے شکنجے میں آیا، بھارت کی طرف سے پاکستان پر مستقل دبائو ہے کہ کلبھوشن کو باعزت رہا کردیا جائے، کیونکہ کلبھوشن بے گناہ ہے، معصوم ہے ، اس نے کچھ نہیں کیا اور پاکستان کے حوالے سے یہ روایت بھی رہی ہے کہ پاکستان کا رویہ اپنی سمندری حدود میں بھٹک کر آجانے والے بھارتی ماہی گیروں، غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کرجانے والوں اور جاسوسی کے جرم میں پکڑے جانے والے راء کے ایجنٹوں سے اتنا بے رحمانہ نہیں ہوتا جتنا بے رحمانہ رویہ ایسی صورت میں بھارت کا پاکستانیوں سے ہوتا ہے۔ پاکستان ویسے بھی معاملات کو ہمیشہ بھائی چارے کی فضا میں بات چیت کے ذریعے حل کرنے کو فوقیت دیتا ہے۔مگر کیا کریں کہ کلبھوشن یادیو کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہی نہیں نہایت سنگین بھی ہے ۔سفارتی درگذراور ہمسایوں سے حسن سلوک کی تعلیمات کی روشنی میں کلبھوشن کو اگر معاف کر بھی دیا جائے تو ان مظلوم پاکستانیوں کو حکومت پاکستان کیا جواب دے گی جن کے پیارے کلبھوشن یادیو کے ناپاک ارادوں کی نذر ہوگئے۔ کلبھوشن کو جب ہمارے سیکیورٹی اداروں نے بلوچستان سے گرفتار کیا تو اس کے قبضے سے ایک جعلی پاسپورٹ برآمد ہوا جس پر اس کا فرضی نام مبارک حسین پٹیل درج تھا اور تاریخ پیدائش 30اگست 1968درج تھی۔ جبکہ بھارت میں موجود اس کے ریکارڈ کے مطابق وہ 1969میں ریاست مہاراشٹر کے شہر سنگلی میں پیدا ہوا۔پاکستانی تحقیقاتی اداروں کو اپنا اقبالی بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اس نے بتایا کہ میں انڈین نیوی کا ایک حاضر سروس آفیسر ہوں اور 2022میں میری ریٹائرمنٹ ہونی ہے۔اسے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی راء نے بلوچستان اور سندھ میں اپنے رابطے بڑھانے اور ان رابطوں کی مدد سے بلوچستان اور سندھ میں لسانی مذہبی اور نسلی فسادات کرانے کے لیے بھیجا تھا۔بالخصوص بلوچستان میں بھارت کے بھیجے ہوئے دیگر ایجنٹوں کی مدد سے علیحدگی پسندی کی فضا کو فروغ دینے کا کام کلبھوشن کے سپرد کیا گیا تھا۔یہ بھارتی انٹیلی جنس آفیسر ایران جانے والے زائرین کے قتل عام، ہزارہ قبیلے کے لوگوں کی بڑے پیمانے پر قتل و غارت اور مزدوری کے لیے پنجاب سے بلوچستان جانے والے لوگوں کے اغوا اور قتل کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔کلبھوشن کے جرائم کی تفصیل اتنی طویل ہے کہ سینکڑوں صفحات بھی کم پڑ جائیں۔ تاہم پاکستان نے غیر ملکی مجرموں کے حوالے سے طے کردہ تمام اصول و ضوابط سامنے رکھتے ہوئے کلبھوشن کو ہر ممکن آسانی فراہم کی، اگرچہ وہ ہزاروں پاکستانیوں کا قاتل ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بہت سا اقتصادی نقصان پہنچانے کا ذمے دار بھی ہے، اس نے اپنی سازشوں سے بلوچستان کا امن بھی برباد کیا لیکن پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اسے اپنی ماں اور بیوی سے ملاقات کا بھی پورا موقعہ فراہم کیا۔تاہم کلبھوشن کو کونسلر رسائی کی آسانی اس لیے فراہم نہیں کی کہ وہ ایک دہشت گرد ہے اور ایسے دہشت گردوں کو اس طرح کی کوئی رسائی فراہم نہیں کی جاتی۔ پاکستان کی فوجی عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی تو بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کر لیا۔ 18فروری سے عالمی عدالت انصاف میں دوبارہ سے اس کیس کی سماعت شروع ہوچکی ہے۔ پہلے روز ہی عالمی عدالت انصاف اس بات پر قائل ہوگئی کہ کلبھوشن انڈین نیوی کا ایک حاضر سروس افسر ہے اور یہ بات بھی سامنے آگئی کہ نیوی کا حاضر سروس افسر اگر کسی دوسرے ملک میں پایا جاتا ہے تو اس کی وہاں موجودگی کا کوئی نہ کوئی سبب ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے پاس اپنی سرکار کی طرف سے جاری کیا جانے والا اجازت نامہ بھی ہوگا جسے عرف عام میں این او سی کہا جاتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی عدالت انصاف ہزاروں پاکستانیوں کے اس قاتل کے ساتھ کس سلوک کی منظوری دیتی ہے۔ویسے آف دی ریکارڈ بات یہ ہے کہ طاقتور ملک تو اپنی قوم کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی غیر ملکی ایجنٹ کو اتنا موقعہ ہی نہیں دیتے کہ اس کے لواحقین ایسی عالمی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاسکیں جن پر ارد گرد سے عالمی سیاسی دبائو پڑنے کا امکان ہو۔بعض دفعہ روشنی کی بقاء اور تحفظ کے لیے کچھ فیصلے اندھیرے میں بھی کرنا پڑتے ہیں۔