مقبول خبریں
مسلم کانفرنس کے رہنما چوہدری بشیر رٹوی کی طرف سے چوہدری علی شان سونی کے اعزاز میں افطار پارٹی
کونسلر محمد صادق نے دوسری بار میئر لندن بارو آف سٹن کا حلف اٹھالیا، کمیونٹی کی مبارکباد
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پلیک گیٹ ہا ئی سکول بلیک برن میں تعینات ٹیچر کیتھرین نے روزے رکھنے شروع کر دیے
میرے سارے خواب سمندر جیسے ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پولیس کا اویس راجپوت کیساتھ غیر انسانی سلوک بدترین المیہ ہے:چوہدری بشیر رٹوی
مانچسٹر (محمد فیاض بشیر)ڈویژنل ٹیچنگ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میرپور کے سرجیکل وارڈ میں ہتھکڑی لگے جس مریض کی یہ تصویر ہے یہ برطانوی شہری اور برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کے ایڈوائز برائے Diaspora اویس راجپوت کی ہے جنکا تعلق اسلام گڑھ ضلع میرپور سے ہے اور وہ بریڈ فورڈ یوکے میں رہائش پذیر ہیں- اویس راجپوت ایک ہفتہ قبل اسلام گڑھ سے میرپور آتے جڑی کس کے مقام پر حادثے کا شکار ہوگئے انکی گاڑی سڑک کنارے سیف گارڈ سے ٹکرائی اور وہ ہیڈ انجری کا شکار ہوگئے اسی دوران ایک رکشہ انکی گاڑی سے ٹکرایا جسکے نتیجے میں رکشہ میں سوار ایک مسافر موقع پر جاں بحق جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ اس دردناک اور انسانیت کی تذلیل کے واقعہ کو مسلم کانفرنس برطانیہ کے کنوینئر چوہدری محمد بشیر رٹوی نے ریاست جموں کشمیر کی پولیس کا غیر انسانی سلوک کا بدترین المیہ قرار دیتے ہوئے حکومت وقت سے فی الفور واقعہ کی انکوائری کا مطالبہ کیا اور برطانوی حکومت سے درخواست کی کہ وہ اپنے شہری کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ بارے اقدام اٹھائے۔ ان کا مذید کہنا تھا،اویس راجپوت کو سر اور گردن میں شدید انجریز ہیں، حادثے میں ایک شخص کی موت واقع ہونے پر انہیں پولیس نے ہتھکڑی لگا رکھی ہے اور موقع پر پولیس اہلکار بھی موجود ہیں،اس واقعے کے کئی کر بناک اور افسوسناک پہلو ہماری اس بے حس غیر انسانی رویوں والی مردہ سوسائٹی کے سامنے آئے کہ جب ایک ہولناک حادثے میں تین شدید زخمی زندگی اور موت کی کشمکش میں سڑک پہ پڑے تڑپ رہے تھے تو قریب سے گزرنے والے بے حس ،مردہ ضمیر معاشرے کے افراد کیوں لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے گزرتے رہے؟اور انہیں تین تڑپتے شدید زخمیوں بارے ذرہ خیال نہ آیا کہ انہیں ہسپتال تو پہنچائیں،اگر زخمی اویس راجپوت کی گاڑی سے رکشہ آکر نہ ٹکراتا تو اویس کا کہنا تھا کہ میرے جسم سے خون بہنہ جاری رہتا اور میری موت بھی یقینی نظر آرہی تھی پھر دوسری طرف اویس زخمی حالت میں مجبوراً روڈ بلاک نہ کرتے تو ان تینوں زخمیوں کو کس نے ہسپتال پہنچانا تھا ؟ اور پھر شدید زخمی اویس کو ہسپتال میں زخمی حالت میں ہتھکڑی لگا کرلیا ہم دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ قانون پر عملدرآمد کے حوالے سے دنیا میں ہمارا نہ کوئی ثانی ہے نہ کوئی مقابلہ کرسکتا ہے،ہمارے بوسیدہ ، مردہ اور بے ضمیر معاشرے کے غیر انسانی کردار آخر کب زندہ ہوں گے؟انسانیت کب ہمارے دروں پر دستک دے گی؟