مقبول خبریں
حضرت عثمان غنی ؓ نے دین اسلام کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا: علامہ ظفر محمود فراشوی
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خودارادیت کے زیر اہتمام کشمیر کانفرنس،ممبران برطانوی و یورپی پارلیمنٹ کی شرکت
وہ جو آنکھ تھی وہ اجڑ گئی ،وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیر‘ جہاں خواب بھی آنسو کی طرح ہیں!!!!!
پاکستان سے لے کر برطانیہ تک جہاں جہاں کشمیری یا پھر کشمیریوں سے محبت کرنے والے آباد ہیں، انہوں نے اس سال بھی 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا، بلکہ اس بار تو اٹلی میں بھی کشمیریوں کی صدائے احتجاج ایسی گونجی کہ دنیا حیران رہ گئی۔اٹلی کے شہر میلان میں 3فروری کو انڈین کونصلیٹ کے سامنے ایک نہایت پرجوش قسم کا مظاہرہ ہوا۔یورپ کی ایک تنظیم ای یو پاک فرینڈشپ فیڈریشن اور اٹلی میں آباد کشمیریوں کے باہمی اشتراک سے ہونے والے اس مظاہرے میں مودی سرکار کی سرپرستی میں کشمیریوں پر کیے جانے والے مظالم کی داستان بڑے بڑے پینا فلیکس، بینرز اور پلے کارڈز کی مدد سے بین الاقوامی برادری کو سنانے کی کوشش کی گئی۔ حسب روایت اور حسب معمول مقبوضہ کشمیر میں بھی مقامی لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے، ان پر سیکیورٹی اداروں نے گولیاں بھی برسائیں اور آنسوگیس کی شیلینگ بھی کی، بہت سے جلسے بھی ہوئے اور قراردادیں بھی منظور کی گئیں لیکن بھارت کے لیے یہ سب معمول کی باتیں ہیں۔ کئی دہائیاں بیت جانے کے بعد بھی کشمیر کے معاملے میں بھارتی ہٹ دھرمی میں ذرہ برابر بھی کمی دیکھنے میںنہیں آئی۔مودی سرکار کی قیادت میں بھارت مسلسل اس غلط فہمی کا شکار ہے گولیوں کی گھن گرج کشمیریوں کی اپنے حق خود ارادی کے مطالبے کی آواز کو دبا دے گی۔دلچسپ بات یہ کہ آج بھارت میں اکثر صاحبان فہم و فراست اس خیال پر بڑی حد تک قائل ہو چکے ہیں کہ کشمیریوں کو اب مزید جبر کے شکنجے میں جکڑے رکھنا دانشمندی نہیں لیکن اس فہم و فراست کو عمل کی صورت دینا شاید ایسے لوگوں کے بس میں نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ خود بھارتی آرمی چیف جنرل راوت بھی چند ماہ قبل شعوری یا غیر شعوری طور پر اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ کشمیر میں موجود بغاوت کی سی صورت حال کو بندوق کے زور پر کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے چند ماہ قبل اکنامک ٹائمز سے ایک انٹرویومیں کہا تھاکہ مقبوضہ کشمیر میں ہماری ہزار کوشش کے باوجود مقامی آبادی کے نوجوان بڑی تعداد میں حریت پسند گروپوں میں شامل ہورہے ہیں، اگرچہ ہم ایسے حریت پسندوں کو موت کے گھاٹ اتارنے میں دیر نہیں کرتے لیکن اس طرح کا قتل عام یقینا مسئلے کا حل نہیں ، معاملات مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیے جاسکتے ہیں۔ یہاں قابل زکر بات یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے مودی سرکار ہمیشہ یہی ڈھنڈورا پیٹتی رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی کسی بھی قسم کی پرتشدد کاروائیوں میں ملوث نہیں ہوتے۔بھارت سرکار کا یہی منافقانہ رویہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت سرکار کے خلاف نفرت کو بغاوت میں بدل رہا ہے۔ لوگ آزادیء کشمیر کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھنے لگے ہیں اور اس ساری جدوجہد میں ان کی نظریں لاشعوری طور پر مدد کے لیے پاکستان کی طرف اٹھتی ہیں۔آج وہاں صورت حال یہ ہے کہ بظاہر حکومت بھارت کی ہے لیکن وہاں کی فضائیں پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجتی ہیں۔حد تو یہ ہے کہ گذرے سال 14اگست کو پاکستان کے یوم آزادی کے موقعے پر سری نگر اسلامیہ کالج آف سائینس اینڈ کامرس کے طلباء نے کالج کی مرکزی عمارت پر پاکستان کا پرچم لہرا دیا۔تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ عالمی قوتوں کی مداخلت کے بغیرمقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوجیوں کے ہاتھوںبے بس کشمیریوں کے استحصال کا سلسلہ کبھی بھی تھمنے کا نام نہیں لے گا۔ہر سال مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سورمائوں کے ظلم و ستم کا شکار ہونے والے بے بس کشمیریوں کی تعداد میں جس تیزی سے اضافہ ہورہا ہے وہ اپنی جگہ افسوسناک ہے لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک ان بڑے بڑے ممالک کی مجرمانہ خاموشی ہے جو ممالک اپنے ہاں جانوروں پر ظلم کو بھی انسانی اقدار کی خلاف ورزی شمار کرتے ہیں۔ اگر محض پچھلے دس برسوں کا جائزہ ہی لے لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ سینکڑوں کی تعداد میں کشمیری نوجوان، بچے، بوڑھے اور عورتیں بھارتی فوجیوں کی بربریت کا شکار ہو چکے ہیں۔۔انٹرنیشنل فورم برائے جسٹس اور ہیومن رائیٹس نے سال 2018کے اختتام پر ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق صرف سال 2018میں مقبوضہ کشمیر میں 355سے زائد بے گناہ کشمیریوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی جبکہ سال 2017میں یہ تعداد تین سو کے لگ بھگ تھی۔مارے جانے والے ان بے گناہوں میں دس بارہ سال عمر کے بچوں سے لے کر حاملہ خواتین تک ایسے معصوم بھی شامل ہیں جنہوں نے کبھی اپنے شہر کی پکی سڑکوں تک کو نہیں دیکھا، ان کی ساری زندگی اس وادی کو کل کائینات سمجھتے گذر گئی جس وادی کے درختوں سے بھی بارود کی بو آتی ہے اور جہاں بہتے پاتی کے جھرنوں پر خون آلود ندیوں کا گمان ہوتا ہے۔ 2018 کے آغاز ہی میں 10جنوری کو مقبوضہ کشمیر کے ھندو اکثریتی علاقے کاٹھوا سے آصفہ نام کی ایک دس سالہ معصوم بچی کو اغواء کیا گیا۔ آصفہ نام کی اس معصوم بچی کا تعلق مقامی گجر برادری سے تھا۔اہل علاقہ نے بچی کو تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کر لی مگر کسی صورت کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ با لآخر 17جنوری کو ہری نگر کے علاقے میں واقع ایک جنگل سے آصفہ کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔ اس بچی کو گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا اور مارے جانے سے پہلے اسے بدترین اجتماعی جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔ جہاں سے لاش برآمد ہوئی وہیں قریب میں ایک فوجی چوکی بھی ہے اور ایک مقامی چرواہے کے بیان کے مطابق اس نے چند روز قبل چوکی سے دلخراش چیخوں کی آوازیں بھی سنی تھیں۔اسی سال یکم اپریل کو ایک اور خوفناک واقعے میں بھارتی فوجیو ں نے شوپیان اور اسلام آباد کے اضلاع میں کاروائی کرتے ہوئے17 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا ۔اس خوفناک کاروائی میںسو سے زائد نوجوان شدید زخمی بھی ہوگئے۔ قابض بھارتی فوجیوں کے اس ظلم پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل مسٹر انٹونیو کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا اور انہوں نے مذکورہ واقعے کی شدید مذمت بھی کی اور بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت کی فوری تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔یو این سیکریٹری جنرل مسٹر انٹونیو کے ترجمان مسٹر سٹیفن ڈیوجیرک نے نیویارک میں صحافیوں کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری جنرل کے لیے یہ بات انتہائی تشویش کا باعث ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ظلم و ستم کے حوالے سے گزشتہ برس جو سب سے المناک واقعہ دیکھنے میں آیا وہ پندرہ سالہ ثاقب بلال کا قتل ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے موضوع پر بنائی جانے والی ایک فلم ’ حیدر‘ میں مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے ثاقب بلال نے ایک انتہائی مختصر سا کردار ادا کیا تھا، یہ کردار ادا کرنے کی پاداش میں دسویں جماعت کے اس معصوم نوجوان کو بھارتی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد قرار دے کر فرضی مقابلے میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کشمیر میں برسوں سے جاری آزادی کی جنگ کسی منطقی انجام کو پہنچے بنا تاقیامت یوں ہی چلتی رہے گی؟؟کیا بھارتی جبر و استبداد کے شکار بے بس کشمیری تا حیات اسی طرح ظلم کی چکی میں پستے رہیں گے؟؟؟ سوال یہ بھی ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ کا گن گانے والی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی پر یونہی اپنی آنکھیں بند کیے رکھیں گی؟؟ایک سوال اور بھی ہے کہ خود بے شمار مسائل میں جکڑا ہوا پاکستان ا پنی اخلاقی حمایت سے مسئلہ کشمیر کو مزید کتنا عرصہ زندہ رکھ سکے گا؟؟؟پوچھنے والے تو یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کہیں پاکستان کے بہت سے مسائل کا سبب کشمیریوں کی حمایت تو نہیں۔